CAP Balochistan

CAP Balochistan “ Fighting For The Rights of Constructors “

11/08/2026
05/08/2026

جھلاوان کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان (رجسٹرڈ) کا اعلامیہ

جھلاوان کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان (رجسٹرڈ) کے مطابق ضلع خضدار میں مختلف محکموں کے ایسے ایگزیکٹو انجینئرز گزشتہ طویل عرصے سے اپنے عہدوں پر تعینات ہیں۔ ان میں۔

* محکمہ بی اینڈ آر روڈز
* محکمہ بی اینڈ آر بلڈنگ
* محکمہ پی ایچ ای
کے متعلقہ افسران شامل ہیں۔

ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ ان محکموں میں مبینہ طور پر کرپشن، اقربا پروری اور مفادات کے ٹکراؤ نے شفافیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ الزام ہے کہ بعض افسران نے اپنے قریبی دوستوں اور منظورِ نظر افراد کے نام پر کمپنیاں قائم کر رکھی ہیں اور بالواسطہ طور پر انہی فرموں کو ٹینڈرز میں حصہ دلوا کر سرکاری منصوبے انہی کے نام ایوارڈ کیے جا رہے ہیں، جس سے صاف و شفاف مقابلے اور میرٹ کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

جھلاوان کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان (رجسٹرڈ) واضح کرتی ہے کہ جب تک مذکورہ افسران کا تبادلہ نہیں کیا جاتا اور ٹینڈرنگ کے عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک ضلع خضدار میں ہونے والے تمام سرکاری ٹینڈرز کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان برقرار رہے گا، خواہ وہ PSDP کے ٹینڈرز ہوں یا BSDI کے۔

ایسوسی ایشن متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان سنگین الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور سرکاری منصوبوں میں شفافیت اور میرٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ٹھیکیدار برادری اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

خضدار کے ٹھکیداروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ ہم خضدار کے ٹھکیداروں کا معاشی قتل ہرگز ہونے نہیں دیں گے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق خضدار میں مبینہ طور پر کرپشن عروج پر ہے۔ خضدار ہر حوالے سے لاوارث دکھائی دیتا ہے، جبکہ کرپٹ افسران کی مبینہ بدعنوانیوں نے پورے ضلع کو اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ دن کے اجالے میں فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے انصاف، شفافیت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔

آخر میں جھلاوان کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان (رجسٹرڈ)
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،
کور کمانڈر بلوچستان
آئی جی ایف سی بلوچستان
سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ ہماری داد رسی کی جائے۔ ہماری ٹھکیدار برادری انتہائی مشکل حالات سے گزر رہی ہے۔ ہماری شکایات کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ضلع خضدار میں ٹینڈرنگ کے نظام کو میرٹ، انصاف اور شفافیت کی بنیاد پر استوار کیا جائے تاکہ مقامی ٹھکیداروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

بلوچستان میں کرپشن کا بڑھتا ہوا ناسور اور اصلاحات کی ضرورت۔یہاں ہر دفتر میں ڈکیت آفیسروں کو بٹایا گیا ہے جو کرپشن کو اپن...
25/07/2026

بلوچستان میں کرپشن کا بڑھتا ہوا ناسور اور اصلاحات کی ضرورت۔
یہاں ہر دفتر میں ڈکیت آفیسروں کو بٹایا گیا ہے جو کرپشن کو اپنا حق سمجھتا ہے۔

بلوچستان کے ہر دفتر میں ڈکیٹ قبائلی آفیسروں کو بٹھایا گیا ہے جو چمچہ یا بیلچہ نہیں بلکہ ٹرالی کے ذریعے کرپشن کرتے ہیں۔کرپشن کے بارے میں پوچھا جائے تو صاحبان کا کہنا ہے کہ ہم سارے پیسے اوپر دیتے ہیں اب نہ جانے اوپر والے کون ہیں؟ ہم سادہ لوگ ہیں اوپر والا سیکرٹری یا منسٹر صاحبان کو سمجھتے ہیں۔ اس سے اوپر کون ہے ۔یہ سوال آج بھی جواب کا منتظر ہے یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی عکاسی ہے جب کرپشن کو اوپر تک جانے کا جواز بنا دیا جائے تو پھر نیچے سے اوپر تک احتساب کی دیوار کیسے کھڑی ہوگی جب ہر سطح پر ذمہ داری کسی اور پر ڈال دی جائے تو پھر عوام کس دروازے پر دستک دیں۔آج سے 20 سال پہلے جس ٹھیکدار کو کام دیا جاتا تو اس سے صرف 5 فیصد دفتر کا کمیشن لیاجاتا تھا۔ لیکن گزشتہ سالوں میں ایکسیپٹنس 20 سے 25 فیصد ہو گیا ہے ۔20 فیصد کمیشن اور انکم ٹیکس بی آر اے اس کے علاوہ ہیں ۔اپ خود سوچیں یہ کام کیسے ہو سکتا ہے۔ کیونکہ ٹوٹل کمیشن اور ایکسیپٹنس 60 یا 70 فیصد بنتا ہے۔ اگر ترقیاتی منصوبے کا 60 یا 70 فیصد حصہ کمیشن اور ایکسیپٹنس کی نذر ہو جائے تو باقی ماندہ 30 یا 40 فیصد سے معیاری کام کیسے ممکن ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ سڑکیں چند ماہ میں ٹوٹ جاتی ہیں عمارتیں ادھوری رہ جاتی ہیں اور عوامی منصوبوں کو کاغذوں میں مکمل کیا جاتا ہے۔
مگر حقیقت میں ناکام نظر آتے ہیں کرپشن صرف مالی جرم نہیں یہ عوام کے مستقبل پر ڈاکہ ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان گڈ گورننس کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن زمینی حقائق اس دعوے کو چیلنج کرتے نظر آتے ہیں عوامی تاثر یہ ہے کہ اس کرپشن میں بلوچستان کے اعلیٰ عہدیدار بھی شامل ہیں اگر یہ تاثر درست نہیں تو اسے ختم کرنے کا واحد راستہ شفاف اور بلا امتیاز احتساب ہے احتساب صرف اپوزیشن کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہونا چاہیے جو عوامی وسائل کا نگہبان ہے مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔
آج سے 40 سال قبل اگر کوئی آفیسر رشوت لیتا بھی تھا تو ٹھیکدار صاحب کو سیکنڈ ٹائم کسی ہوٹل کا ٹائم دیا جاتا تھا کم از کم شرمندگی کا عنصر باقی تھا لیکن آج کل بے شرمی کی انتہا دیکھیں باقاعدہ ہر آفیسر نے کرپشن کے لیے اپنے کمرے کے ساتھ ہی سائیڈ پر سلاٹر ہاؤس بنایا ہے جہاں وہ ہر کام کرنے کے پیسے لیتا ہے گویا بدعنوانی اب خفیہ عمل نہیں بلکہ معمول کا حصہ بنتا جا رہا ہے اگر آج کل دیکھا جائے تو بلوچستان کے کئی بزنس مینوں نے فارم ہاؤس بنا رکھے ہیں۔ جہاں وہ اپنا کام نکالنے کے لیے آفیسر کو خاص طور پر مدعو کرتے ہیں خوش کرتے ہیں یہ طرزِ عمل نہ صرف قانون بلکہ اخلاقیات اور ریاستی نظم و نسق کی روح کے خلاف ہے جب فیصلے دفاتر میں نہیں بلکہ نجی محفلوں میں ہوں تو ادارے کمزور اور ریاست بے اعتبار ہو جاتی ہے ۔
اقربا پروری کا بازار گرم ہے اگر ایسا ہے تو یہ نوجوان نسل کے خوابوں کا قتل ہے آج اگر سروے کیا جائے تو کوئٹہ کے تمام پوش علاقوں میں سب سے بڑے بنگلے انہی کرپٹ آفیسروں کے ہیں اس کے علاوہ بیرون ملک کراچی ،اسلام آباد اور لاہور میں بھی ان کے بنگلے اور فلیٹس ہیں کئی آفیسروں نے تو دوہری شہریت بھی حاصل کی ہے سوال یہ ہے کہ یہ اثاثے کس آمدن سے بنائے گئے کیا ان کی تنخواہیں اس طرزِ زندگی کی اجازت دیتی ہیں یہ سوال الزام نہیں جواب دہی کا تقاضا ہے یہ سارے پیسے ان بلوچستانی عوام کے ہیں جو وفاق سے صوبے کو ملتے ہیں یہ پیسہ عوامی امانت ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ پیسے عوامی سہولیات کی بجائے چند آفیسروں کی ذاتی جیب کی نذر ہوتے جا رہے ہیں جب امانت میں خیانت ہو تو قومیں ترقی نہیں کرتیں وہ اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔
اینٹی کرپشن اور نیب سے گزارش ہے کہ آپ عوام کے لیے آئے ہوئے پیسوں کی تحقیقات کریں ہر منصوبے کا اوپن آڈٹ کیا جائے ہر افسر کے اثاثوں کی جانچ کی جائے ہر بھرتی کا عمل شفاف بنایا جائے احتساب بلا امتیاز ہو خواہ وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو کرپشن کے خلاف جہاد صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں یہ معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
عوام کو بھی سوال کرنا ہوگا میڈیا کو بھی آواز بلند کرنا ہوگی اور دیانت دار افسران کو بھی خاموشی توڑنی ہوگی کیونکہ خاموشی ہمیشہ ظالم کے حق میں جاتی ہے مظلوم کے نہیں بلوچستان کو نعروں کی نہیں، عملی انقلاب کی ضرورت ہے۔
گڈ گورننس کاغذی دعوؤں سے نہیں شفاف فیصلوں سے آتی ہے اور جب احتساب واقعی غیر جانبدار ہوگا تو بلوچستان کے حالات بھی بدلیں گے۔

۔BPPRA کی بدترین کارکردگی، نااہل تکنیکی عملے نے ٹینڈرنگ نظام مفلوج کر دیا.کوئٹہ:۔BPPRA کی ناقص ویب سائٹ، نااہل تکنیکی عم...
15/07/2026

۔BPPRA کی بدترین کارکردگی، نااہل تکنیکی عملے نے ٹینڈرنگ نظام مفلوج کر دیا.

کوئٹہ:

۔BPPRA کی ناقص ویب سائٹ، نااہل تکنیکی عملے اور غیر تربیت یافتہ ویب ڈویلپرز نے صوبے کے ٹینڈرنگ نظام کو عملاً مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ٹھیکداروں کو آئے روز ای ٹینڈر اپ لوڈ کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، مگر ادارے میں بیٹھا عملہ شکایات سننے اور مسائل حل کرنے کے بجائے مسلسل عدم تعاون اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

ٹھیکداروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ٹینڈرز بروقت اپ لوڈ نہ ہونے کے باعث سرکاری محکمے بار بار کوریجنڈم جاری کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار اور قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب
۔BPPRA ٹینڈر چالان کی مد میں کروڑوں روپے وصول کر رہی ہے، مگر ادارے کی عملی کارکردگی صفر اور جوابدہی کا نظام مکمل طور پر غائب ہے۔

ٹھیکداروں نے الزام عائد کیا کہ ادارے میں ایسے افراد تعینات کیے گئے ہیں جو جدید ویب ڈویلپمنٹ اور ای پروکیورمنٹ نظام چلانے کی مطلوبہ مہارت سے عاری ہیں۔ شکایات پر نہ محکموں کی شنوائی ہوتی ہے اور نہ ٹھیکیداروں کو کوئی تسلی بخش جواب دیا جاتا ہے۔

ٹھیکدار برادری نے حکامِ بالا سے فوری نوٹس لینے، ذمہ دار اور نااہل افسران و تکنیکی عملے کے خلاف کارروائی اور اہل آئی ٹی ماہرین کی تعیناتی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ۔BPPRA کے نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق فعال نہ کیا گیا تو ٹھیکدار برادری سخت احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔

کوئٹہ ۔۔۔!کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن اف پاکستان (کیپ) اور جھالاوان کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان(جیکب) کی کور کمیٹی کا اہم ا...
27/06/2026

کوئٹہ ۔۔۔!

کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن اف پاکستان (کیپ) اور جھالاوان کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان(جیکب) کی کور کمیٹی کا اہم اور مشترکہ اجلاس کوئٹہ میں طلب۔
تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
ٹھیکدار برادری کے حقوق کے تحفظ اور مسائل کے حل کے لیے ہر سطح پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

واقعہ کربلا ہمیں سکھاتا ہے کہ حق اور سچ پر ہر حال میں قائم رہنا چاہیے۔ظلم اور ناانصافی کے سامنے کبھی سر نہیں جھکانا چاہی...
26/06/2026

واقعہ کربلا ہمیں سکھاتا ہے کہ حق اور سچ پر ہر حال میں قائم رہنا چاہیے۔
ظلم اور ناانصافی کے سامنے کبھی سر نہیں جھکانا چاہیے۔
شہداء کربلا کو سلام۔

بلوچستان بیوروکریسی میں تین مخصوص افسران کا قبضہ۔کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستانکنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (بلوچس...
20/01/2026

بلوچستان بیوروکریسی میں تین مخصوص افسران کا قبضہ۔

کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان

کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (بلوچستان) کے ترجمان نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تعیناتیوں کا موجودہ نظام کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے، جس سے قابل افسران میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

بلوچستان کے اہم اور کلیدی عہدوں پر مسلسل کئی سالوں سے چند مخصوص افسران کی تعیناتی جاری ہے، جبکہ گریڈ 20/21 کے درجنوں قابل اور تجربہ کار افسران پوسٹنگ سے محروم ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بلوچستان میں ان تین افسران کے علاوہ کوئی اور قابل افسر موجود نہیں ۔۔۔؟ اس مسلسل ناانصافی کے باعث افسران میں احساسِ محرومی اور بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔

بلوچستان میں صرف تین افسران کا اہم عہدوں پر براجمان رہنا قابل افسران کی مایوسی کا سبب بن رہا ہے، جو ایک افسوسناک عمل ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ مواصلات و تعمیرات، محکمہ خزانہ اور پرنسپل سیکریٹری وزیراعلیٰ بلوچستان جیسے اہم محکموں میں انہی مخصوص افسران کی تعیناتی، اعلیٰ حکام سے مبینہ گٹھ جوڑ کے باعث، دو دو سال تک برقرار رکھی جاتی ہے۔

حال ہی میں محکمہ خزانہ بلوچستان کے سیکرٹری عمران زرکون کا تبادلہ کر کے انہیں پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ تعینات کیا گیا، جبکہ پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلی بابر خان کو سیکرٹری مواصلات و تعمیرات تعینات کیا گیا۔جبکہ سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات لعل جان جعفر کا تبادلہ کر کے انہیں سیکریٹری محکمہ خزانہ مقرر کیا گیا۔
اہم اور کلیدی محکموں میں اس طرح مسلسل تعیناتی دیگر قابل، دیانت دار اور فرض شناس افسران کے ساتھ سراسر ناانصافی اور ظلم کے مترادف ہے۔

ترجمان کیپ بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ ان محکموں میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دیگر قابل افسران کو بھی تعیناتی کا موقع دیا جائے اور ان کی کارکردگی کو جانچا جائے۔ صرف چند افسران کی اجارہ داری اور مبینہ گٹھ جوڑ سے کئی سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔ مذکورہ افسران کے فوری تبادلوں کے ذریعے افسران میں پائی جانے والی بے چینی کو ختم کیا جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں، تاکہ مستقبل میں مسائل سے بچا جا سکے اور صوبہ گڈ گورننس کی جانب گامزن ہو۔

کوئٹہ ۔۔۔!ایکسین مواصلات و تعمیرات بلڈنگ ضلع واشک مٹھا خان مندوخیل کو ٹینڈر میں رولز کے خلاف کام کرنے پر معطل کر دیا گیا...
19/12/2025

کوئٹہ ۔۔۔!

ایکسین مواصلات و تعمیرات بلڈنگ ضلع واشک مٹھا خان مندوخیل کو

ٹینڈر میں رولز کے خلاف کام کرنے پر معطل کر دیا گیا۔

ٹینڈر رولز کی خلاف ورزی پر ایکسین بی اینڈ آر (بلڈنگ) ڈسٹرکٹ واشک معطل، فیصلے کا خیرمقدمکوئٹہ ۔۔۔!کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آ...
19/12/2025

ٹینڈر رولز کی خلاف ورزی پر ایکسین بی اینڈ آر (بلڈنگ) ڈسٹرکٹ واشک معطل، فیصلے کا خیرمقدم

کوئٹہ ۔۔۔!

کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (بلوچستان) کے چیف کوآرڈینیٹر میر نیاز احمد نے حکومتِ بلوچستان کے کمیونیکیشن اینڈ ورکس، فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایکسین بی اینڈ آر (بلڈنگ) ڈسٹرکٹ واشک مِٹھا خان مندوخیل کی معطلی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

میر نیاز احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ مذکورہ افسر کو ٹینڈر رولز کی خلاف ورزی، کام اپنے من پسند ٹھیکداروں میں تقسیم کرنے، بے ضابطگیوں اور سرکاری احکامات کی عدم تعمیل پر معطل کرنا ایک بروقت، اصولی اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن سے وابستہ ٹھیکداروں نے بلوچستان بھر میں BSDI کے تحت ہونے والے ٹینڈرز میں سنگین بے ضابطگیوں، غیر شفاف فیصلوں اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کے خلاف پہلے ہی تحریری درخواستیں متعلقہ حکام کو جمع کرائی تھیں، جن میں میرٹ کے قتل اور ٹینڈرز اوپن کیے بغیر سیلنگ ریٹ پر کام ایوارڈ کرنے کی نشاندہی کی گئی تھی، جس سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچ رہا تھا۔

میر نیاز احمد نے کہا کہ ایکسین بی اینڈ آر (بلڈنگ) کی معطلی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومتِ بلوچستان ٹینڈرز کے نظام میں شفافیت، کرپشن کے خاتمے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ اس فیصلے سے ٹھیکدار برادری کا اعتماد بحال ہوگا اور آئندہ رولز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے واضح پیغام ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ٹینڈرز کے تمام مراحل میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (کیپ) حکومتِ بلوچستان کے ہر اُس اقدام کی حمایت جاری رکھے گی جو شفافیت، احتساب اور بہتر حکمرانی کے فروغ کے لیے اٹھایا جائے گا۔

کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کانام اور مونوگرام استعمال کرنیکی اجازت نہیں دیں گے۔میر نیاز احمدکوئٹہ ۔۔۔!کنسٹرکٹرز ای...
03/12/2025

کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کانام اور مونوگرام استعمال کرنیکی اجازت نہیں دیں گے۔

میر نیاز احمد

کوئٹہ ۔۔۔!

کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن اف پاکستان کے چیف کوآرڈینیٹر (بلوچستان) میر نیاز احمد نے اپنے جاری کردہ بیان میں واضح کیا ہے کہ CAP پاکستان بھر کا ایک باقاعدہ رجسٹرڈ اور منظم ایسوسی ایشن ہے، جو صرف اور صرف کنسٹرکشن انڈسٹری کے مسائل، بہتری، اور ترقی کے لیے کوشاں ہے۔گزشتہ چند دنوں سے کچھ عناصر CAP کے آفیشل مونوگرام، نام اور شناخت کو غلط طریقے سے استعمال کر کے ذاتی سیاست، مفادات اور بلیک میلنگ جیسے غیر اخلاقی و غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس پر ایسوسی ایشن نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

میر نیاز احمد نے ان عناصر کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ وہ فی الفور ایسے تمام اقدامات سے باز آجائیں، ورنہ ایسوسی ایشن قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ۔ CAP پاکستان کی جانب سے صرف آفیشل پیج اور مخصوص منظور شدہ نمبر سے جاری بیانات ہی مستند اور قابل اعتبار سمجھے جائیں۔

ان کے علاوہ کسی بھی فرد،گروپ یا سوشل میڈیا پوسٹ کو CAP کا مؤقف سمجھنا غلط فہمی ہوگی۔
کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن اف پاکستان اپنے تمام ممبران، شراکت داروں اور میڈیا سے گزارش کرتی ہے کہ وہ صرف مستند ذرائع سے جاری شدہ معلومات پر انحصار کریں اور جعلی و گمراہ کن دعوؤں سے محتاط رہیں۔

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when CAP Balochistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category