Multan Bricks

Multan Bricks ملتان برکس
اتحاد • نظم • استحکام

ملتان ڈویژن کی برکس انڈسٹری کی مستند اور بروقت معلومات
فیلڈ اپڈیٹس، اہم فیصلے اور جاری پیش رفت
(1)

چین میں ملتان کے سوہن حلوے کی مٹھاس!چین کے شہر کینژو میں Cangzhou Bohai Machinery Manufacturing Co., Ltdکے دورے کے موقع ...
20/08/2026

چین میں ملتان کے سوہن حلوے کی مٹھاس!

چین کے شہر کینژو میں
Cangzhou Bohai Machinery Manufacturing Co., Ltd
کے دورے کے موقع پر جناب اظہرالدین خان صاحب نے کمپنی کے CEO کو خصوصی طور پر ملتان کا مشہور سوہن حلوہ پیش کیا۔

اینٹوں کی جدید مشینری اور مکمل پیداواری نظام تیار کرنے والی یہ معروف چینی کمپنی 1993 سے بلڈنگ میٹیریل اور برک میکنگ مشینری کے شعبے میں خدمات انجام دے رہی ہے اور جدید کلے برک پروڈکشن لائنز، ویکیوم ایکسٹروڈرز اور خودکار اسٹیکنگ سسٹمز سمیت جدید ٹیکنالوجی فراہم کرتی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کے مشاہدے کے ساتھ ملتان کی مٹھاس کا خوبصورت تحفہ

پاکستان اور چین کے درمیان کاروباری روابط کو خوبصورت یادوں سے جوڑتا ایک یادگار لمحہ۔


Azhrudin Khan
Mehar Abdul Haq

18/08/2026

پاکستان کی برک کلن انڈسٹری کے لیے ایک بڑی اور اہم پیش رفت!


Mehar Abdul Haq
Azhrudin Khan
Mehar Abdul Haq
Niazi Group of Construction

08/08/2026

Build Asia Event at Expo Centre Lahore

کیا کوئلے کی مارکیٹ کو جان بوجھ کر یرغمال بنایا جا رہا ہے؟🤔🤔🤔یہ تحریر کچھ طویل ضرور ہے، لیکن! اگر آپ کوئلے کی مارکیٹ کو ...
28/07/2026

کیا کوئلے کی مارکیٹ کو جان بوجھ کر یرغمال بنایا جا رہا ہے؟🤔🤔🤔

یہ تحریر کچھ طویل ضرور ہے، لیکن!

اگر آپ کوئلے کی مارکیٹ کو اور پردے کے پیچھے ہونے والی سازشوں کو سمجھنا چاہتے ہیں تو گزارش ہے کہ اسے مکمل ضرور پڑھیں۔ اور اگر آپ کو اس تحریر میں وزن محسوس ہو تو اسے دوسروں تک بھی ضرور پہنچائیں۔ کیونکہ خاموشی ہمیشہ طاقتور اور مفاد پرست حلقوں کے حق میں جاتی ہے۔

لاکھڑا کول فیلڈ ایک بار پھر بند... آخر کب تک؟

لاکھڑا کول فیلڈ، ضلع جامشورو میں مقامی ٹرانسپورٹ یونین نے رائلٹی ٹیکس میں 300 روپے فی ٹن اضافے کے خلاف 25 جولائی سے لوڈنگ بند کر رکھی ہے۔ آج مسلسل چوتھا دن ہے کہ کوئلے کی سپلائی معطل ہے۔

لیکن اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ہڑتال کیوں ہوئی۔

اصل سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب کچھ اُس وقت ہی کیوں ہوتا ہے جب کوئلے کی طلب کم ہونے لگتی ہے؟

کیا یہ محض اتفاق ہے... یا ایک منظم کاروباری حکمتِ عملی؟

گزشتہ 15 ماہ کے دوران ایک ایسا سلسلہ بار بار سامنے آیا ہے جسے اب محض اتفاق قرار دینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

جب بھی مارکیٹ میں طلب کم ہونے لگتی ہے، اچانک کوئی نہ کوئی احتجاج، ہڑتال یا تنازع کھڑا ہو جاتا ہے۔ سپلائی رک جاتی ہے، مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہو جاتی ہے، قیمتیں نیچے آنے کے بجائے اوپر چلی جاتی ہیں، اور چند دن بعد سب کچھ دوبارہ معمول پر آ جاتا ہے۔

یہ سوال اب صرف بھٹہ مالکان نہیں بلکہ پوری مارکیٹ کر رہی ہے کہ آخر اس بار بار دہرائے جانے والے طریقۂ کار سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟

ماضی کیا کہتا ہے؟

کئی دہائیوں سے یہ معمول رہا ہے کہ 15 جولائی سے 15 ستمبر تک مون سون کے باعث بھٹہ جات بند ہونے سے کوئلے کی طلب کم ہوتی تھی، اور اس کے نتیجے میں قیمتیں بھی نیچے آ جاتی تھیں۔

اسی طرح سردیوں میں دھند اور سموگ کے باعث بھی بھٹہ جات بند ہوتے تھے اور مارکیٹ قدرتی طور پر قیمتوں میں کمی دیکھتی تھی۔

یہی آزاد مارکیٹ کا فطری اصول ہے۔

لیکن گزشتہ 15 ماہ میں یہ اصول کیوں بدل گیا؟

گزشتہ 15 ماہ میں ہر مرتبہ طلب کم ہوئی، مگر قیمتیں کم ہونے کے بجائے بڑھتی رہیں۔

کیوں؟

کیونکہ جیسے ہی مارکیٹ میں ریٹ نیچے آنے کے امکانات پیدا ہوئے، سپلائی چین میں رکاوٹ آ گئی۔

کبھی تین دن...

کبھی ایک ہفتہ...

اور کبھی دس دن تک لوڈنگ بند رہی۔

مطالبات ہر مرتبہ وہی رہے، لیکن مستقل حل آج تک سامنے نہیں آیا۔

البتہ ایک چیز ہر بار ضرور ہوئی۔

مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہوئی، قیمتیں بڑھیں، اور کچھ حلقوں کو کروڑوں روپے کا مالی فائدہ پہنچا۔

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

ذرا خود دیکھ لیجیے۔

25-04-2025 — 10,500 روپے
01-06-2025 — 11,000 روپے
16-06-2025 — 11,500 روپے
16-07-2025 — 11,000 روپے
01-10-2025 — 11,500 روپے
01-11-2025 — 12,000 روپے
16-12-2025 — 13,000 روپے
16-03-2026 — 13,500 روپے
01-04-2026 — 14,000 روپے
16-06-2026 — 14,500 روپے
01-07-2026 — 15,000 روپے

ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ گزشتہ سال مون سون شروع ہوتے ہی کوئلے کے ریٹ میں 500 روپے فی ٹن کمی کی گئی تھی، لیکن اس کے بعد مسلسل سپلائی میں تعطل اور غیر معمولی شارٹنگ کے دوران صرف ایک سال میں قیمت 10,500 روپے سے بڑھ کر 15,000 روپے فی ٹن تک جا پہنچی۔

اگر مسئلہ صرف 300 روپے فی ٹن کا ہے تو پھر پورا نظام کیوں مفلوج کیا جا رہا ہے؟

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔

اگر معاملہ واقعی صرف 300 روپے فی ٹن رائلٹی کی مد میں اضافی ادائیگی کا ہے تو اس کا کاروباری حل موجود ہے۔

ٹرانسپورٹ یونین کے منتظمین باآسانی کرایے میں مناسب اضافہ کر کے یہ رقم وصول کر سکتے ہیں۔

گزشتہ 15 ماہ کے دوران مارکیٹ نے بارہا دیکھا ہے کہ حکومت کی جانب سے جب بھی ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کیا گیا، ٹرانسپورٹ یونین نے کرایوں میں 100 یا 200 روپے نہیں بلکہ 1,500 سے 1,800 روپے فی ٹن تک اضافہ کیا، اور مارکیٹ نے ان حالات میں بھی خود کو ایڈجسٹ کیا۔

اگر ماضی میں کرایوں میں اتنا بڑا اضافہ ممکن رہا ہے تو پھر صرف 300 روپے فی ٹن رائلٹی کے معاملے پر پورے لاکھڑا کول فیلڈ کی لوڈنگ روک دینا، سپلائی چین کو مفلوج کر دینا اور پورے ملک کی مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دینا آخر کس منطق کے تحت درست قرار دیا جا سکتا ہے؟

یہ سوال اب پہلے سے کہیں زیادہ شدت اختیار کر چکا ہے کہ کیا مسئلہ واقعی صرف 300 روپے کا ہے، یا اس کے پس منظر میں ایسے طاقتور کاروباری مفادات بھی موجود ہیں جو ہر بار مصنوعی قلت پیدا ہونے سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟

اس سال پھر وہی صورتحال...

16 جولائی سے مون سون کا سیزن دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔

پنجاب بھر میں تقریباً 70 فیصد بھٹہ جات بند ہو چکے ہیں، جبکہ مزید بھٹے بھی مسلسل بند ہو رہے ہیں۔

گزشتہ دس دن سے کوئلے کی طلب میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی تھی، اور مارکیٹ کے حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ قیمتوں میں کمی کے امکانات بہت مضبوط تھے۔

لیکن عین اسی موقع پر ایک مرتبہ پھر سپلائی روک دی گئی۔

یہی وہ نکتہ ہے جو مارکیٹ میں یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ آیا یہ محض اتفاق ہے یا گذشتہ سے پیوستہ دہرایا جانے والا ایسا طریقۂ کار، جس کے ذریعے ڈیمانڈ اور سپلائی کے قدرتی توازن کو متاثر کیا جاتا ہے۔

نقصان کون اٹھا رہا ہے؟

جب سے حیدرآباد کے بعض ٹرانسپورٹرز مائن اونرز بھی بن گئے ہیں، مفادات کے اس گٹھ جوڑ نے مارکیٹ کے توازن کو شدید متاثر کیا ہے۔

اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کا ہو رہا ہے جن کی آواز سب سے کمزور ہے اور جن کا اس فیصلے میں کوئی کردار ہی نہیں۔ جیسے کے مائن کے اندر جان خطرے میں ڈال کر کوئلہ نکالنے والے اور مائن کے باہر سخت گرمی اور حبس کے ماحول میں کام کرنے والے ہمارے غیور پٹھان اور بلوچ مزدور۔
سڑکوں پر دھکے کھاتے، کچے کے علاقے میں لٹتے، ہائی وے، پٹرولنگ اور ٹریفک پولیس کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہوتے ہمارے محنت کش غریب ڈرائیور۔
محدود وسائل کے ساتھ کاروبار کرنے والے چھوٹے مائن اونرز۔
اور بڑھتے اخراجات، حکومتی پالیسیوں اور ماحولیاتی پابندیوں کے درمیان زندہ رہنے کی کوشش کرتے بھٹہ مالکان۔

دوسری جانب اگر مارکیٹ میں پیدا ہونے والی غیر معمولی شارٹنگ کے خدشات درست ہیں تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ انہی چند بااثر کاروباری حلقوں کو پہنچتا ہے جو قیمتوں میں اضافے سے کروڑوں روپے کا غیر معمولی منافع سمیٹنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔

اب فیصلہ بھٹہ مالکان کو بھی کرنا ہوگا!

اگر واقعی ہر سال یہی صورتحال دہرائی جاتی ہے، اور چند طاقتور کاروباری مفادات پوری مارکیٹ کو بار بار غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیتے ہیں، تو اب وقت آ گیا ہے کہ بھٹہ خشت انڈسٹری بھی اپنی حکمتِ عملی پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرے۔

بھٹہ مالکان کو چاہیے کہ وہ ایسے مفاد پرست حلقوں پر انحصار کم کرنے کے لیے کوئلے کی متبادل مارکیٹوں کو بھی آزمانا شروع کریں۔

اگر متبادل مارکیٹ کے کوئلے کے استعمال سے وقتی طور پر معیار، جلنے کی رفتار یا دیگر تکنیکی مسائل پیش آتے ہوں، تو ان کا مستقل اور پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے اجتماعی کوشش کی جائے، تاکہ مستقبل میں پوری انڈسٹری چند افراد یا مخصوص حلقوں کے فیصلوں کی محتاج نہ رہے۔

جب تک خریدار کے پاس متبادل موجود نہیں ہوگا، تب تک مارکیٹ پر دباؤ برقرار رکھنا آسان رہے گا۔ لیکن جس دن بھٹہ مالکان نے متبادل ذرائع سے اپنی ضروریات پوری کرنا شروع کر دیں، اسی دن مارکیٹ میں حقیقی مقابلے (Competition) کی فضا پیدا ہوگی، اور کسی ایک فریق کے لیے پوری سپلائی چین کو یرغمال بنانا پہلے جیسا آسان نہیں رہے گا۔

اب حکومت اور متعلقہ اداروں کی خاموشی بھی سوال بن چکی ہے!

اگر واقعی ہر مرتبہ احتجاج کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ سپلائی رک جاتی ہے، قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور مطالبات پھر بھی حل نہیں ہوتے، تو چند سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔

کیا متعلقہ ادارے اس پورے سلسلے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں گے؟
کیا یہ معلوم کیا جائے گا کہ ہر احتجاج سے سب سے زیادہ فائدہ آخر کس کو پہنچ رہا ہے؟
کیا ڈیمانڈ اور سپلائی کے قدرتی نظام پر اثراندازی کرنے والے عوامل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی؟
اور کیا ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے مزدور، ڈرائیور، چھوٹے مائن اونرز اور بھٹہ مالکان کو بار بار پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال سے نجات مل سکے؟

اگر آج بھی ان سوالات کے جواب تلاش نہ کیے گئے تو اس کا نقصان صرف بھٹہ مالکان یا کوئلہ خریداروں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پورا کاروباری نظام عدم اعتماد، غیر یقینی صورتحال اور مصنوعی بحرانوں کی گرفت میں آتا چلا جائے گا۔

آخری سوال!

کیا اب ہر روز یہی ڈرامہ چلے گا؟

یا پھر کوئی ایسا دن بھی آئے گا جب کوئلے کی مارکیٹ کو آزاد ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے اصولوں کے مطابق چلنے دیا جائے گا؟

20/07/2026
8 جولائی کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (لاہور) میں محترم جناب مہر عبدالحق صاحب، مرکزی سینئر وائس چی...
09/07/2026

8 جولائی کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (لاہور) میں محترم جناب مہر عبدالحق صاحب، مرکزی سینئر وائس چیئرمین، برک کلن اونرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے صوبائی وزیر صنعت و تجارت پنجاب، محترم جناب چوہدری شافع حسین صاحب سے اہم ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران برک کلن انڈسٹری کو درپیش اہم مسائل، خصوصاً ہنر مند مزدوروں کی شدید قلت، حکومتی سرپرستی اور معاونت کی ضرورت، نیز آئندہ دورۂ چین سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر صنعت کو درپیش چیلنجز کے حل، پیداواری نظام میں بہتری اور برک کلن سیکٹر کی ترقی کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

Mehar Abdul Haq
Chaudhry Shafay Hussain

ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اور نمایاں کمی کے باوجود کوئلے کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی نہ کرنا بھ...
01/07/2026

ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اور نمایاں کمی کے باوجود کوئلے کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی نہ کرنا بھٹہ خشت انڈسٹری کے لیے انتہائی مایوس کن اور ناقابلِ جواز اقدام ہے۔

جب بھی ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو کرایوں اور کوئلے کی قیمتوں میں اضافے کے لیے فوراً مختلف دلائل پیش کر دیے جاتے ہیں، لیکن جب ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آتی ہے تو صنعت اور صارفین کو ریلیف منتقل کرنے کے معاملے میں غیر معمولی خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔

اگر لیبر کی قلت ہی قیمتوں میں اضافے کا واحد جواز ہے، تو پھر یہ بھی واضح کیا جانا چاہیے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والی بڑی کمی کا فائدہ آخر کس طبقے کو منتقل ہو رہا ہے؟ کیا صنعت، تعمیراتی شعبہ اور عام صارف اس ریلیف کے حق دار نہیں؟

بھٹہ خشت انڈسٹری مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات اور مالی دباؤ کے باوجود ملکی تعمیر و ترقی اور لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ ایسے حالات میں یکطرفہ طور پر صرف پیداواری شعبے پر مزید بوجھ ڈالنا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی پائیدار معاشی حکمت عملی۔

آج صنعت کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ایندھن سستا ہونے کے باوجود بھی کوئلے اور کرایوں میں کمی ممکن نہیں، تو پھر مستقبل میں صنعت کو ریلیف کس بنیاد پر اور کب ملے گا؟

ہم متعلقہ حلقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ زمینی حقائق، قومی مفاد اور صنعت کی بقا کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئلے کے نرخوں اور ٹرانسپورٹ کرایوں پر فوری اور سنجیدہ نظرِ ثانی کی جائے، کیونکہ صنعتوں کی برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔


Hyderabad Coal Updates

ڈیزل سستا، مگر کوئلہ اور کرایہ مہنگا کیوں؟برک کلن اونرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے کوئلے کی قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کرایوں م...
22/06/2026

ڈیزل سستا، مگر کوئلہ اور کرایہ مہنگا کیوں؟

برک کلن اونرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے کوئلے کی قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں حالیہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ فریقین سے فوری نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی کے بعد ملک کے مختلف شعبوں میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی دیکھی گئی، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بھٹہ خشت انڈسٹری کو اس ریلیف سے محروم رکھا گیا۔ اس کے برعکس کوئلے کی قیمت میں مزید اضافہ اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے نے بھٹہ مالکان کی پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔

برک کلن اونرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے ثمرات صنعتوں اور عوام تک منتقل ہونا چاہییں۔ ایسے وقت میں جب ملکی معیشت کو استحکام، تعمیراتی شعبے کو فروغ اور مہنگائی میں کمی کی ضرورت ہے، پیداواری لاگت میں بلاجواز اضافہ نہ صرف بھٹہ خشت انڈسٹری بلکہ تعمیراتی شعبے اور عام صارفین کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ایسوسی ایشن متعلقہ اداروں، کول مائنز مالکان اور ٹرانسپورٹ تنظیموں سے مطالبہ کرتی ہے کہ قومی مفاد اور موجودہ معاشی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئلے اور ٹرانسپورٹ کے نرخوں پر فوری نظرِ ثانی کی جائے اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ ریلیف کو عملی طور پر صنعت اور عوام تک پہنچایا جائے۔

بھٹہ خشت انڈسٹری کا استحکام، ملکی تعمیر و ترقی اور لاکھوں خاندانوں کے روزگار سے وابستہ ہے۔ اس لیے منصفانہ اور حقیقت پسندانہ فیصلے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

Hyderabad Coal Updates

Address

Multan Division
Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Multan Bricks posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share