Dr Kazim Goraya

Dr Kazim Goraya Medical & Health

18/07/2026

ڈاکٹر بھی انسان ہے
اکثر لوگ مذاق میں کہتے ہیں کہ "ڈاکٹر تو قصائی ہوتا ہے"، مگر شاید وہ اس سفر کو نہیں جانتے جو ایک ڈاکٹر اس مقام تک پہنچنے کے لیے طے کرتا ہے۔
آج جب میں اپنی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اپنی متوقع عمر کا تقریباً نصف حصہ طب کی تعلیم، تربیت اور خدمت کے نام کر چکا ہوں۔ میری جوانی، کھیل کود کے دن، دوستوں کی محفلیں، خاندان کی خوشیاں اور غم،سب کچھ اس پیشے نے اپنے اندر سمو لیا۔
یہاں تک کہ جب میری والدہ اس دنیا سے رخصت ہو رہی تھیں، میں ان کے آخری لمحات میں ان کے پاس بھی موجود نہ تھا۔ یہ وہ قربانیاں ہیں جن کا ذکر کسی ڈگری یا سرٹیفکیٹ پر نہیں لکھا جاتا۔
میٹرک میں تھے تو اساتذہ کہتے تھے، "بس یہ دو سال مشکل ہیں، پھر آسانیاں ہیں۔" ایف ایس سی میں آئے تو کہا گیا، "بس میڈیکل کالج میں داخلہ مل جائے، پھر مزے ہی مزے ہیں۔" لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر منزل کے بعد ایک اور مشکل راستہ ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ تعلیم ختم ہوئی تو ڈیوٹیاں شروع ہو گئیں، اور ذمہ داریاں ختم ہونے کے بجائے بڑھتی ہی چلی گئیں۔
ایک دن شدید مصروفیت سے فرصت نکال کر بال اور داڑھی بنوانے کے لیے حجام کی دکان پر گیا۔ رش بہت تھا اور وقت میرے پاس کم۔ میں انتظار کرتا رہا، یہاں تک کہ حجام نے سخت لہجے میں کہا
"بھائی! انتظار کرنا ہے تو کرو، ورنہ چلے جاؤ، میرے پاس گنجائش نہیں۔"
میں خاموشی سے بیٹھ گیا۔ آخرکار میری باری آئی، بال اور داڑھی بنوائی، اور بل ادا کرنے لگا۔ اسی دوران میرا ایک مریض وہاں آ گیا۔ مجھے دیکھتے ہی بولا
"ڈاکٹر صاحب! السلام علیکم۔"
اب تک میں صرف ایک عام گاہک تھا، لیکن میری شناخت ظاہر ہوتے ہی حجام کا رویہ یکسر بدل گیا۔ جب اس نے بل بتایا تو میں حیران رہ گیا۔ میں نے پوچھا
"بھائی! اتنا بل کس چیز کا ہے؟"
اس نے جواب دیا
"ڈاکٹر صاحب! آپ کو کیا کمی ہے؟"
اب تک "تم" سے "آپ" کا سفر مکمل ہو چکا تھا۔ میں نے مسکرا کر کہا
"کیا میں سونے کی دکان کا مالک ہوں؟"
خیر، بل ادا کیا اور خاموشی سے واپس آ گیا، لیکن اس دن مجھے احساس ہوا کہ صرف "ڈاکٹر صاحب" کہلوانا بھی بعض اوقات کتنا مہنگا پڑ جاتا ہے۔
چند دن بعد وہی حجام ہسپتال میں میرے پاس مریض بن کر آیا۔ وہ انتظار کرتا رہا۔ جیسے ہی میں دوسرے کمرے میں گیا، اس نے مجھے پہچان لیا اور جلدی سے میرے پاس آ کر بولا
"ڈاکٹر صاحب! آپ نے مجھے پہچانا؟"
میں نے کہا:
"نہیں بھائی۔"
وہ بولا
"سر! میں آپ کا حجام ہوں۔"
اب "تم" سے "سر" تک کا سفر بھی مکمل ہو چکا تھا۔
پھر کہنے لگا
"سر، مجھے جلدی دیکھ لیجیے، مجھے کہیں جانا ہے۔"
اس لمحے میری کیفیت شاید الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میرے دل میں کیا گزری ہوگی۔
ایسا ہی ایک واقعہ ایک درزی کے ساتھ بھی پیش آیا، جس سے مجھے ایک بار پھر یہ احساس ہوا کہ معاشرے میں اکثر لوگ ڈاکٹر کو ایک انسان کے بجائے صرف ایک سہولت یا مشین سمجھتے ہیں۔
میرے ایک پروفیسر اکثر کہا کرتے تھے:
"اگر انسان کا بدلتا ہوا روپ دیکھنا ہو تو عدالت یا تھانے چلے جائیں۔ وہاں پتہ چلتا ہے کہ عہدے اور شناختیں کتنی جلدی بدل جاتی ہیں۔"
یہ بات صرف عدالت تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں سچ ثابت ہوتی ہے۔
ہم ڈاکٹر بھی انسان ہیں۔ ہمارے بھی جذبات ہیں، ہم بھی تھکتے ہیں، ہمیں بھی دکھ ہوتا ہے، اور ہم سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہماری ایک معمولی غلطی بھی کسی انسان کی جان سے جڑی ہوتی ہے، اسی لیے ہم ہر لمحہ شدید ذہنی دباؤ میں کام کرتے ہیں۔
ہم نہ فضول بحث کے لیے وقت رکھتے ہیں، نہ لڑائی جھگڑے کے لیے۔ ہماری ساری توجہ اس مریض پر ہوتی ہے جس کی جان ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے بعض اوقات چند بیوروکریٹس، سیاست دان یا عہدے دار سوشل میڈیا کی شہرت یا سیاسی مقاصد کے لیے ڈاکٹروں کو آسان ہدف بنا لیتے ہیں۔ انسانی خدمت کے نام پر چھاپے، تضحیک اور غیر ضروری مداخلت نہ صرف ڈاکٹر کی عزتِ نفس کو مجروح کرتی ہے بلکہ اس کے ذہنی سکون کو بھی متاثر کرتی ہے، اور اس کا براہِ راست اثر مریضوں کی دیکھ بھال پر پڑتا ہے۔
ہم صرف اتنی درخواست کرتے ہیں کہ ڈاکٹر کو بھی ایک انسان سمجھا جائے۔ اس کی عزت کی جائے، اس کے حالات کو سمجھا جائے، اور اسے سیاسی یا سماجی تماشے کا حصہ نہ بنایا جائے۔
ایک پرسکون، باعزت اور اعتماد سے بھرپور ماحول ہی وہ بنیاد ہے جس میں ایک ڈاکٹر پوری توجہ اور ذمہ داری کے ساتھ انسانوں کی جان بچا سکتا ہے۔ آخرکار، جب ڈاکٹر ذہنی سکون میں ہوگا تو مریض بھی زیادہ محفوظ ہاتھوں میں ہوگا۔

ڈاکٹر محمد کاظم گورائیہ

عطائی، عطائیت اور ان کا طریقۂ وارداتمیں اس وقت لاہور کے ایک بڑے سرکاری تدریسی ہسپتال میں آرتھوپیڈک سرجری کی تربیت حاصل ک...
08/07/2026

عطائی، عطائیت اور ان کا طریقۂ واردات

میں اس وقت لاہور کے ایک بڑے سرکاری تدریسی ہسپتال میں آرتھوپیڈک سرجری کی تربیت حاصل کر رہا ہوں۔ میرا تعلق پنجاب کے ایک دور افتادہ اور پسماندہ ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے، جہاں آج بھی رشتے، تعلق داریاں، روایات اور ایک دوسرے کا دکھ بانٹنا ہماری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔
چند روز پہلے والد صاحب کی کال آئی۔ ہمارے علاقے کے ایک شناسا کا مریض لاہور کے ایک ہسپتال میں داخل تھا۔ والد صاحب مصروف تھے، اس لیے انہوں نے مجھے تاکید کی کہ ان کی طرف سے عیادت بھی کروں اور اگر کسی قسم کی مدد درکار ہو تو ضرور کروں۔
اپنی ڈیوٹی کے بعد ہسپتال پہنچا۔ عیادت کے دوران ایک دوست ملا۔ اس کے چہرے پر پریشانی، بے بسی اور کئی راتوں کی بے خوابی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ میں نے خیریت پوچھی تو اس نے جو داستان سنائی، وہ صرف ایک خاندان کی نہیں بلکہ ہمارے پورے معاشرے کی کہانی تھی۔
اس کی والدہ خود ایک پروفیسر ڈاکٹر ہیں۔ چند روز قبل انہیں شدید پیٹ درد ہوا۔ ایک سینئر سرجن نے مکمل معائنہ کیا، ضروری ٹیسٹ کروائے اور انتڑیوں میں بل کی تشخیص کے بعد فوری آپریشن کیا۔ الحمدللہ آپریشن کامیاب رہا۔ چند روز بعد انہیں گھر بھیج دیا گیا اور انفیکشن سے بچاؤ کے لیے چند دن اینٹی بایوٹک انجیکشن تجویز کیے گئے۔
گھر پہنچنے کے بعد ان کے ایک پڑوسی، جو برسوں سے عطائیت کر رہے تھے، عیادت کے بہانے آئے۔ انہوں نے نہ مریضہ کا معائنہ کیا، نہ میڈیکل ریکارڈ دیکھا، نہ علاج کی وجہ سمجھی۔ لیکن پورے اعتماد کے ساتھ کہنا شروع کر دیا
"یہ انجیکشن بہت گرم ہیں"
"ان سے گردے خراب ہو جائیں گے"
"جگر جواب دے دے گا"
"میں نے ایسے کئی مریض دیکھے ہیں جو انہی دواؤں سے مر گئے"
بیماری انسان کو جسمانی ہی نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی کمزور کر دیتی ہے۔ ایسے میں خوف، غلط معلومات اور پراعتماد لہجہ اکثر سائنسی دلائل پر غالب آ جاتے ہیں۔
ہوا بھی یہی۔
سرجن کی تجویز کردہ دوا چھوڑ دی گئی اور عطائی کے بتائے ہوئے غیر معیاری، غیر مؤثر اور غیر تجویز شدہ انجیکشن شروع ہو گئے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ انفیکشن قابو میں آنے کے بجائے پورے جسم میں پھیل گیا۔ گردے شدید متاثر ہوئے، جگر کو نقصان پہنچا اور اماں انتہائی تشویشناک حالت میں آئی سی یو منتقل کر دی گئیں۔ آج وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔
اس واقعے نے مجھے کئی سوال سوچنے پر مجبور کر دیا۔
کیا ہماری طبی تعلیم عوام تک پہنچ ہی نہیں پا رہی؟
کیا عطائیوں کی گفتگو ہماری سائنسی وضاحت سے زیادہ مؤثر ہے؟
کیا خوف پھیلانا، جھوٹی مثالیں دینا اور اعتماد سے غلط بات کہنا اتنا طاقتور ہتھیار بن چکا ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں؟
بطور زیرِ تربیت آرتھوپیڈک سرجن، میں روزانہ ایسے مریض دیکھتا ہوں جو عطائیوں کے ہاتھوں ناقابلِ تلافی نقصان اٹھا کر ہمارے پاس پہنچتے ہیں۔ کسی کی ہڈی غلط جڑ چکی ہوتی ہے، کسی کے زخم میں شدید انفیکشن ہوتا ہے، کسی کا عضو ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو جاتا ہے، اور بعض اوقات جان بچانا بھی ممکن نہیں رہتا۔
اس سے بھی زیادہ افسوس اس وقت ہوتا ہے جب ایمرجنسی میں آنے والا مریض ہم سے پوچھتا ہے۔
"ڈاکٹر صاحب، کسی اچھے جراح کا پتہ بتا دیں؟"
"فلاں جراح بہتر ہے یا فلاں؟"
"وہ کہہ رہا تھا کہ ہڈی بغیر آپریشن کے جڑ جائے گی، کیا واقعی ایسا ہو جائے گا؟"
یہ سوال صرف لاعلمی کی علامت نہیں بلکہ اس اعتماد کے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جو مستند طب اور عطائیت کے درمیان پیدا ہو چکا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عطائیت صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مسئلہ نہیں۔ یہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے۔ جب تک عوام میں صحت کے بارے میں درست شعور پیدا نہیں ہوگا، جب تک ڈاکٹر مریض سے بہتر انداز میں بات نہیں کریں گے، جب تک ہر شخص علاج سے پہلے معالج کی اہلیت جاننے کی عادت نہیں اپنائے گا، تب تک عطائی مختلف چہروں کے ساتھ ہمارے درمیان موجود رہیں گے۔
یاد رکھیے، بیماری کے وقت سب سے خطرناک چیز خود بیماری نہیں، بلکہ غلط مشورہ ہوتا ہے۔
اپنی صحت کو کسی ایسے شخص کے سپرد نہ کریں جس کے پاس نہ مستند تعلیم ہو، نہ قانونی اجازت، اور نہ اپنے دعووں کا سائنسی ثبوت۔
عطائیت صرف ایک غلط علاج نہیں، بلکہ بعض اوقات ایک خاموش سانحہ ہوتی ہے،جس کا احساس اکثر بہت دیر سے ہوتا ہے۔
ڈاکٹر محمد کاظم گورائیہ

رشتےجو فرش پر بھی سکون سے سُلا دیتے ہیںآج میری چوبیس گھنٹے کی آرتھوپیڈک ایمرجنسی ڈیوٹی ہے۔ اسی دوران میڈیکل ایمرجنسی سے ...
05/07/2026

رشتے
جو فرش پر بھی سکون سے سُلا دیتے ہیں
آج میری چوبیس گھنٹے کی آرتھوپیڈک ایمرجنسی ڈیوٹی ہے۔ اسی دوران میڈیکل ایمرجنسی سے کال موصول ہوئی کہ ایک داخل مریض کے لیے آرتھوپیڈک سرجن کی رائے درکار ہے۔ چونکہ مریض چلنے پھرنے سے قاصر تھا، اس لیے مجھ سے درخواست کی گئی کہ میں خود جا کر اس کا معائنہ کروں۔
میں مریض کو دیکھنے کے لیے وارڈ کی طرف جا رہا تھا کہ ہسپتال کی ایک گیلری میں میری نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو ہسپتال کے جراثیم آلودہ، سخت اور گرم فرش پر گہری نیند سو رہا تھا۔
میں بے اختیار رک گیا۔
چند لمحوں کے لیے جیسے سانسیں تھم گئیں، دل کسی انجانی کیفیت میں ڈوب گیا اور ذہن میں ایک ہی سوال گردش کرنے لگا کہ آخر کون سی محبت ہے جو ایک انسان کو اپنی آسائش، اپنی عزتِ نفس اور اپنے آرام سے بے نیاز کر دیتی ہے؟
اس شخص کی ظاہری شخصیت ہرگز ایسی نہ تھی کہ وہ فرش پر سونے والا انسان معلوم ہوتا، مگر تھکن نے اسے اس مقام تک پہنچا دیا تھا جہاں انسان صرف سکون ڈھونڈتا ہے، جگہ نہیں۔ اردگرد شور تھا، لوگوں کی آمدورفت جاری تھی، کوئی دوائیں لے جا رہا تھا، کوئی کھانا، کوئی رپورٹس، لیکن وہ شخص اس قدر نڈھال تھا کہ جہاں جگہ ملی، وہیں سر رکھ کر سو گیا۔
مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس کا مریض سے کیا رشتہ تھا۔ شاید باپ تھا، شاید بیٹا، شاید بھائی، شاید شوہر یا شاید کوئی ایسا عزیز جسے دنیا کسی نام سے پکارتی ہو۔ مگر ایک بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ رشتہ محبت، خلوص اور قربانی سے بندھا ہوا تھا۔
وہ اپنے پیارے کو سکون دینے کے لیے خود بے سکون ہو گیا تھا۔
اسی لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ہسپتال صرف مریض کا امتحان نہیں لیتا، بلکہ اس کے چاہنے والوں کے صبر، محبت، ایثار اور امید کا بھی امتحان لیتا ہے۔
ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے میں نے برسوں کے تجربے سے یہ سیکھا ہے کہ مریض کی سب سے مؤثر دوا صرف دوائی نہیں ہوتی؛ اپنوں کی موجودگی، ان کی دعا، ان کی تسلی اور ان کا حوصلہ بھی شفا کے سفر میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
حقیقی رشتے وہ نہیں ہوتے جو صرف خوشیوں میں ساتھ ہوں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو تکلیف کی راتوں میں ہسپتال کے فرش پر بھی سکون سے سو لیتے ہیں تاکہ ان کا اپنا تنہا محسوس نہ کرے۔
مخلص رشتے نہ لالچ جانتے ہیں، نہ مفاد، نہ حساب کتاب اور نہ ہی انا کی جنگ۔ وہ صرف محبت جانتے ہیں، اور محبت ہمیشہ قربانی مانگتی ہے۔
آج کے دور میں ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ ہم اپنے رشتوں کو حسد، منافقت، خود غرضی اور انا کے زنگ سے محفوظ رکھیں۔ کیونکہ جب رشتوں میں اخلاص باقی رہتا ہے تو زندگی کی بڑی سے بڑی آزمائش بھی نسبتاً آسان محسوس ہونے لگتی ہے۔
ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میں نے جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ نفسیاتی بیماریوں کی اذیت بھی بہت قریب سے دیکھی ہے۔ جسم کے زخم اکثر دواؤں سے بھر جاتے ہیں، لیکن دل اور ذہن کے زخم محبت، احساس، اپنائیت اور قبولیت کے بغیر نہیں بھرتے۔ بعض اوقات نفسیاتی اذیت انسان کو اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں زندگی ایک بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ یقیناً ایک الگ اور نہایت اہم موضوع ہے۔
اس سارے منظر نے مجھے ایک بار پھر یہ سبق دیا کہ انسان کی اصل دولت بینک بیلنس، عہدہ یا شہرت نہیں، بلکہ وہ لوگ ہیں جو اس کے مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھامے رکھتے ہیں۔
اپنے رشتوں کو وقت دیجیے، محبت دیجیے، عزت دیجیے اور انہیں بے غرض رکھیے۔ والدین کی طرح، جو اپنی اولاد سے بغیر کسی صلے کی امید کے محبت کرتے ہیں۔
کیونکہ زندگی کے سب سے مشکل لمحوں میں انسان کو دوا سے پہلے کسی اپنے کے ہاتھ کی ضرورت ہوتی ہے، اور دنیا کی سب سے قیمتی نیند وہ ہے جو اپنے کسی عزیز کی خاطر ہسپتال کے فرش پر آ جائے۔
موریل
"رشتوں کی اصل پہچان خوشیوں میں نہیں، بلکہ ان قربانیوں میں ہوتی ہے جو خاموشی سے، بغیر کسی صلے کی امید کے، صرف محبت کی خاطر دی جاتی ہیں۔"

ڈاکٹر محمد کاظم گورائیہ

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Kazim Goraya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category