Zahid Farooqi

Zahid Farooqi اللهم أني أسالك الهدى' والتقى' والعفاف والغنی'

(القرآن)
http:www.jiajk.org

ہم نے تخریب سے خود اپنے نشیمن پھونکےسولہ برس پرانی ایک تقریر، آج کے پاکستان کے نامتحریر: زاہد فاروقیصلائے عامتقریباً سول...
12/08/2026

ہم نے تخریب سے خود اپنے نشیمن پھونکے

سولہ برس پرانی ایک تقریر، آج کے پاکستان کے نام

تحریر: زاہد فاروقی
صلائے عام

تقریباً سولہ برس قبل ریحان طارق نے ایک تقریری مقابلے میں ’’ہم نے تخریب سے خود اپنے نشیمن پھونکے‘‘ کے عنوان سے تقریر کی تھی۔ وہ تقریر اپنے عہد کے پاکستان کے زخموں کا نوحہ بھی تھی اور ہمارے اجتماعی ضمیر سے ایک سوال بھی۔

اس میں سقوطِ ڈھاکہ، لال مسجد، دہشت گردی، سیاسی انتشار، ادارہ جاتی کمزوری اور قومی بے حسی جیسے موضوعات آئے، مگر اس کی اصل روح واقعات کی فہرست نہیں بلکہ اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت تھی۔

مقرر نے کہا تھا:

«’’گریبان میں جھانکیں، تخریب کار ہم خود ہیں۔‘‘»

اور پھر سوال اٹھایا:

«’’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟‘‘»

سولہ برس گزر گئے۔ چہرے بدل گئے، حکومتیں بدل گئیں، سیاسی حالات بدل گئے، مگر سوال آج بھی وہیں کھڑا ہے:

کیا ہم نے اپنے زخموں سے کچھ سیکھا؟

آج آزاد جموں و کشمیر میں عوامی تحریک کا معاملہ ہمارے سامنے ہے۔ بجلی، آٹا، ٹیکس، حکومتی اخراجات، مراعات، عوامی سہولیات اور سیاسی نمائندگی جیسے مسائل پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا 38 نکاتی چارٹرِ مطالبات سامنے آیا۔ حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدہ بھی ہوا، متعدد مطالبات پر عمل درآمد کے دعوے بھی سامنے آئے، لیکن اعتماد کا بحران مکمل طور پر ختم نہ ہو سکا۔

بعد میں 12 مہاجر نشستوں کا مسئلہ بھی ایک بڑے سیاسی تنازع کے طور پر نمایاں ہوا۔

یہاں ذرا ٹھہر کر سوچنے کی ضرورت ہے۔

اگر عوام کے مسائل حقیقی تھے تو انہیں بروقت کیوں نہ سنا گیا؟

اگر معاہدہ ہو گیا تھا تو اعتماد مکمل طور پر بحال کیوں نہ ہو سکا؟

اور اگر مطالبات جائز تھے تو کیا احتجاج کا ہر طریقۂ کار بھی لازماً جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟

نہیں۔

عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے، مگر تشدد حق نہیں۔ ریاست کو نظم و قانون قائم رکھنے کا اختیار ہے، مگر اختیار جواب دہی سے آزاد بھی نہیں۔

لہٰذا آزاد کشمیر کے معاملے میں نہ عوامی تحریک کو مکمل بری الذمہ قرار دینا انصاف ہے، نہ اربابِ اختیار کو۔

حکومت اپنی حکمرانی کی ذمہ دار ہے، تحریک اپنے طرزِ احتجاج کی۔

یہی اصول خیبر پختونخوا پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

وہ خطہ جس نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں، آج بھی بدامنی کے زخم اٹھا رہا ہے۔ دہشت گردی ایک حقیقت ہے، بے گناہوں کا قتل ناقابلِ تردید جرم ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرے۔

لیکن سوال یہ بھی ہے:

امن صرف بندوق سے قائم ہوگا یا انصاف، روزگار، تعلیم، سیاسی شمولیت اور عوامی اعتماد بھی اس کے لیے ضروری ہیں؟

دہشت گردی کی مذمت ضروری ہے، مگر ہر جائز شکایت کو دہشت گردی کا نام دینا بھی مسئلے کا حل نہیں۔

پھر بلوچستان ہے۔

وہاں مسلح شورش اور دہشت گردی بھی ایک تلخ حقیقت ہے اور سیاسی، معاشی اور انسانی مسائل بھی حقیقی سوالات ہیں۔

ریاست کو بندوق اٹھانے والوں سے نمٹنا ہوگا، لیکن بندوق نہ اٹھانے والے شہری کی شکایت بھی سننی ہوگی۔

مسلح تشدد کو سیاسی حق کا نام نہیں دیا جا سکتا، مگر ہر سیاسی شکایت کو غداری کا عنوان بھی نہیں دیا جا سکتا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں سولہ برس پرانی اس تقریر کی طرف پلٹنا پڑتا ہے:

«’’تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔‘‘»

دستانے اتارنے ہوں گے۔

حکومت اپنے ہاتھ دیکھے۔ عوامی تحریکیں اپنے ہاتھ دیکھیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے ہاتھ دیکھیں۔ ادارے اپنے ہاتھ دیکھیں۔ اور ہم بھی اپنے ہاتھ دیکھیں۔

اپنے گریبان میں جھانکنے کا مطلب یہ نہیں کہ سب کو برابر کا مجرم قرار دے دیا جائے۔

جس کے پاس جتنا اختیار ہے، اس کی ذمہ داری بھی اتنی ہی ہے۔

جس کے پاس حکومت ہے، وہ اپنے فیصلوں کا جواب دے۔

جس کے پاس عوامی قیادت ہے، وہ اپنی قیادت کا جواب دے۔

جس کے ہاتھ میں بندوق ہے، وہ اپنے جرم کا جواب دے۔

جس کے پاس قلم ہے، وہ اپنی دیانت کا جواب دے۔

اور جس کے پاس اختیار ہے، وہ اپنے اختیار کا حساب دے۔

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہر بحران میں ہم فوراً ایک دشمن تلاش کر لیتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں: قصوروار وہ ہے۔

دوسرا کہتا ہے: قصوروار یہ ہے۔

کوئی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے، کوئی عوام کو، کوئی سیاسی جماعتوں کو، کوئی اداروں کو، کوئی بیرونی طاقتوں کو۔

مگر بہت کم لوگ یہ سوال کرتے ہیں:

میرے حصے میں کیا آتا ہے؟

یہی اصل سوال ہے۔

اور یہی ریحان طارق کی سولہ برس پرانی تقریر کو آج کے پاکستان سے جوڑتا ہے:

«’’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟‘‘»

شاید جواب یہ ہے:

پہلے اپنے ہاتھ دیکھو۔

اگر حکومت نے عوام کی آواز بروقت نہ سنی تو اسے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔

اگر عوامی قیادت نے احتجاج کو پرامن رکھنے میں کوتاہی کی تو اسے بھی اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔

اگر سیاسی جماعتوں نے عوام کے دکھ کو اپنے اقتدار کی سیڑھی بنایا تو انہیں بھی جواب دینا ہوگا۔

اگر مسلح گروہوں نے بے گناہوں کا خون بہایا تو ان کے جرم کو کسی سیاسی شکایت کی آڑ نہیں دی جا سکتی۔

اور اگر ہم نے سچ جانتے ہوئے بھی صرف اپنے پسندیدہ فریق کا دفاع کیا تو ہمیں بھی اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔

یہی ’’ہم‘‘ ہے۔

وہی ’’ہم‘‘ جس کے بارے میں سولہ برس پہلے کہا گیا تھا:

«’’گریبان میں جھانکیں، تخریب کار ہم خود ہیں۔‘‘»

آج پاکستان کو کسی ایک فریق کی فتح نہیں، اپنے نشیمن کی حفاظت درکار ہے۔

آزاد کشمیر کو ایسا حل چاہیے جس میں عوامی مطالبات سنجیدگی سے سنے جائیں، معاہدوں پر قابلِ اعتماد طریقے سے عمل ہو اور سیاسی اختلاف تصادم میں تبدیل نہ ہو۔

خیبر پختونخوا کو ایسا امن چاہیے جس میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور عام شہری خود کو محفوظ، باعزت اور ریاست کا برابر کا حصہ سمجھے۔

بلوچستان کو امن کے ساتھ انصاف، سیاسی اعتماد، معاشی مواقع اور اپنے شہریوں کی شکایات کے ازالے کا راستہ چاہیے۔

اور پاکستان کو ایسے سیاسی کلچر کی ضرورت ہے جہاں:

حکومت احتجاج سے خوف زدہ نہ ہو،
اور احتجاج ریاست سے جنگ نہ بنے۔

سولہ برس پہلے سوال تھا:

«’’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟‘‘»

آج بھی سوال وہی ہے، مگر شاید ہمیں جواب تلاش کرنے کا طریقہ بدلنا ہوگا۔

لہو کسی ایک ہاتھ پر تلاش کرنے سے پہلے اپنے ہاتھ دیکھنے ہوں گے۔

کیونکہ قومیں صرف دشمنوں کی سازشوں سے تباہ نہیں ہوتیں؛ کبھی اپنی غلط پالیسیوں سے، کبھی اپنی ناانصافی سے، کبھی اپنی ضد سے، کبھی اپنی خاموشی سے، اور کبھی اپنے حصے کی ذمہ داری دوسرے کے سر ڈالنے کی عادت سے بھی اپنے نشیمن پھونک دیتی ہیں۔

اس لیے اب سوال صرف یہ نہیں کہ:

تخریب کار کون ہے؟

اصل سوال یہ ہے:

تعمیر کار کون بنے گا؟

حکومت؟ عوام؟ تحریک؟ سیاسی جماعتیں؟ ادارے؟ یا ہم سب؟

اگر جواب ’’ہم سب‘‘ ہے تو امید ابھی باقی ہے۔

کیونکہ جس قوم میں اپنے زخم پہچاننے کی صلاحیت باقی ہو، وہ اپنے نشیمن دوبارہ آباد بھی کر سکتی ہے۔

زاہد فاروقی
صلائے عام


#زاہدفاروقی

پاکستان کا جوہری سفر — عزم، علم اور خود انحصاری کی داستانقوموں کی تاریخ میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو آنے والی نسلوں کا...
12/08/2026

پاکستان کا جوہری سفر — عزم، علم اور خود انحصاری کی داستان

قوموں کی تاریخ میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو آنے والی نسلوں کا راستہ متعین کر دیتے ہیں۔ پاکستان کا جوہری سفر بھی ایسا ہی ایک فیصلہ تھا۔ یہ صرف ایٹمی ہتھیار بنانے کی داستان نہیں، بلکہ ایک ایسی قوم کی جدوجہد ہے جس نے محدود وسائل، عالمی دباؤ اور خطے کے بدلتے ہوئے حالات کے باوجود علم، سائنس اور قومی خود انحصاری کو اپنی دفاعی ضرورت سے جوڑنے کی کوشش کی۔

یہ سفر کسی ایک فرد، ایک ادارے یا ایک حکومت کی داستان نہیں۔ کئی دہائیوں پر محیط اس قومی کوشش میں سیاسی قیادت، سائنس دانوں، انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور ریاستی اداروں نے اپنے اپنے دائرۂ کار میں کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور کہوٹہ

اس داستان میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔

ان کا بنیادی کردار یورینیم افزودگی اور کہوٹہ پروگرام کی ترقی میں تھا۔ پاکستان نے 1970 کی دہائی میں یورینیم افزودگی کے لیے گیس سینٹری فیوج ٹیکنالوجی پر کام شروع کیا، اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس کوشش کے اہم کرداروں میں شامل تھے۔ کہوٹہ میں قائم ہونے والی لیبارٹری بعد میں خان ریسرچ لیبارٹریز (KRL) کے نام سے معروف ہوئی اور پاکستان کے جوہری پروگرام کا اہم ستون بنی۔

لیکن پاکستان کا جوہری پروگرام صرف کہوٹہ تک محدود نہیں تھا۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC)، ڈاکٹر منیر احمد خان اور دیگر سائنس دانوں، انجینئرز اور تکنیکی ماہرین نے بھی اس پروگرام کے مختلف مراحل میں بنیادی کردار ادا کیا۔

چاغی: ایک تاریخی موڑ

پھر وہ دن آیا جس نے پاکستان کی دفاعی تاریخ کا رخ بدل دیا۔

28 مئی 1998 کو پاکستان نے پانچ جوہری تجربات کیے، جبکہ 30 مئی 1998 کو ایک مزید تجربہ کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1172 بھی پاکستان کے 28 اور 30 مئی کے جوہری تجربات کی تصدیق کرتی ہے۔

یہ کامیابی اچانک حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی تحقیق، منصوبہ بندی، تجربات اور ماہرین کی مسلسل محنت موجود تھی۔

چاغی کے تجربات کی سائنسی قیادت میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا نمایاں کردار تھا۔ تاہم اس قومی کامیابی کو کسی ایک فرد سے منسوب کرنا درست نہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور KRL نے یورینیم افزودگی کے میدان میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ PAEC اور اس سے وابستہ سائنس دانوں نے جوہری تحقیق اور تجربات کے اہم مراحل میں بنیادی خدمات انجام دیں۔

28 مئی: خود اعتمادی کا اظہار

28 مئی 1998 کے تجربات پاکستان کی حاصل کردہ سائنسی اور دفاعی صلاحیت کے عملی اظہار کا دن تھے۔

یہ واقعہ صرف پاکستان کی داخلی تاریخ تک محدود نہیں رہا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 6 جون 1998 کو قرارداد 1172 منظور کی، جس میں بھارت اور پاکستان کے جوہری تجربات کی مذمت کرتے ہوئے مزید جوہری تجربات سے گریز کا مطالبہ کیا گیا۔

یوں چاغی جنوبی ایشیا کی تزویراتی تاریخ کا ایک اہم موڑ بن گیا۔

جوہری صلاحیت سے Delivery Systems تک

جوہری صلاحیت کے بعد پاکستان نے مختلف Delivery Systems بھی تیار کیے۔ معتبر تحقیقی جائزوں کے مطابق پاکستان کی جوہری صلاحیت سے منسلک نظاموں میں Ballistic Missiles، Cruise Missiles اور Aircraft شامل ہیں۔

پاکستان کے میزائل پروگرام میں مختلف ادوار میں Abdali، Ghaznavi، Shaheen، Ghauri اور Nasr جیسے نظام سامنے آئے، جبکہ Babur خاندان کے Cruise Missiles بھی اس صلاحیت کا حصہ ہیں۔

یہاں احتیاط ضروری ہے: مختلف نظاموں کی تعداد، Operational Status اور تعیناتی سے متعلق تمام معلومات عوامی سطح پر دستیاب نہیں۔ اس لیے غیرمصدقہ اعداد و شمار اور قیاس آرائیوں کو حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں۔

نصر اور Full Spectrum Deterrence

Hatf-IX Nasr پاکستان کی مختصر فاصلے کی Missile Capability کا ایک نمایاں نظام ہے۔ اسے پاکستان کی Full Spectrum Deterrence کی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

ایک بنیادی وضاحت ضروری ہے:

نصر خود ایٹمی بم نہیں بلکہ ایک Ballistic Missile Delivery System ہے، جسے جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت سے منسلک کیا جاتا ہے۔

Full Spectrum Deterrence کا بنیادی تصور یہ ہے کہ مختلف نوعیت اور مختلف سطح کے ممکنہ فوجی خطرات کے مقابلے میں قابلِ اعتماد Deterrence برقرار رہے۔

Deterrence کی منطق یہی ہے کہ ممکنہ جارح کو معلوم ہو کہ جارحیت کی قیمت بہت زیادہ ہوگی، تاکہ جنگ کے امکان کو کم کیا جا سکے۔

جوہری قوت کا وسیع دفاعی پس منظر

پاکستان کی دفاعی صلاحیت صرف جوہری ہتھیاروں تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ ایک وسیع روایتی فوجی ڈھانچہ بھی موجود ہے، جس میں بری فوج کے بکتر بند اور توپخانے کے نظام، فضائیہ کے جنگی طیارے اور فضائی دفاعی نظام، بحریہ کی آبدوزیں اور جنگی جہاز، اور جدید Unmanned Systems شامل ہیں۔

پاکستان نے دفاعی ٹیکنالوجی میں مقامی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے تحقیق، ترقی اور پیداوار کے مختلف ادارے بھی قائم کیے ہیں۔

یہ پہلو اس لیے اہم ہے کہ جوہری صلاحیت صرف ایک وارہیڈ کا نام نہیں؛ اس کے پیچھے سائنس، Engineering، صنعتی صلاحیت، Command and Control اور Delivery Systems کا وسیع ڈھانچہ ہوتا ہے۔

ایک ضروری وضاحت

پاکستان کی جوہری صلاحیت کے بارے میں سوشل میڈیا پر بعض سنسنی خیز دعوے، مثلاً ’’6 انچ کے خفیہ ایٹمی ہتھیار‘‘ یا ’’50 ہزار کلوگرام TNT کے برابر تباہی‘‘، گردش کرتے رہے ہیں۔

چونکہ ان دعووں کے لیے قابلِ اعتماد سرکاری یا معتبر تحقیقی حوالہ دستیاب نہیں، اس لیے انہیں اس تحریر کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

قومی کامیابی کو بیان کرنے کے لیے مستند حقائق ہی کافی ہیں؛ مبالغہ اس کی عظمت میں اضافہ نہیں کرتا۔

اصل طاقت کہاں ہے؟

پاکستان کے جوہری پروگرام کی اصل کامیابی صرف کسی ہتھیار یا میزائل میں نہیں، بلکہ اس علمی، سائنسی اور تکنیکی صلاحیت میں ہے جس نے یہ سب ممکن بنایا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے یورینیم افزودگی اور کہوٹہ کے میدان میں اہم کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر منیر احمد خان اور PAEC نے جوہری پروگرام کے دوسرے بنیادی شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور ان کے رفقائے کار نے 1998 کے تجربات میں اہم سائنسی کردار ادا کیا۔

اور ان سب کے پیچھے سائنس دانوں، انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور اداروں کی ایک وسیع اجتماعی محنت موجود تھی۔

یہی پاکستان کے جوہری سفر کی اصل تصویر ہے: کسی ایک شخص کی داستان نہیں، بلکہ ایک قومی سائنسی جدوجہد۔

اختتامیہ

پاکستان کا جوہری سفر ہمیں ایک بنیادی سبق دیتا ہے:

اگر کوئی قوم علم کو اپنی طاقت بنائے، سائنس کو ترجیح دے، اپنے ادارے قائم کرے، اپنے ماہرین پر اعتماد کرے اور مشکلات کے باوجود اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے تو محدود وسائل بھی اس کی راہ میں آخری رکاوٹ نہیں رہتے۔

چاغی کی پہاڑیوں میں ہونے والے تجربات کے پیچھے صرف جوہری ٹیکنالوجی نہیں تھی؛ علم تھا، محنت تھی، قربانی تھی اور قومی عزم تھا۔

آج ضرورت صرف ماضی پر فخر کرنے کی نہیں، بلکہ اسی سائنسی خود انحصاری کو تعلیم، تحقیق، صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد بنانے کی ہے۔

کیونکہ قوموں کی حقیقی طاقت صرف اس میں نہیں کہ وہ ماضی میں کیا بنا چکی ہیں؛

اصل طاقت اس میں ہے کہ وہ مستقبل میں کیا بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

پاکستان زندہ باد۔

مستند حوالہ جات:

• United Nations Security Council — Resolution 1172 (1998)

• Nuclear Threat Initiative (NTI) — Pakistan Nuclear Program

• Nuclear Threat Initiative (NTI) — Pakistan Atomic Energy Commission

• Federation of American Scientists (FAS) — Pakistan Nuclear Weapons

• Federation of American Scientists (FAS) — Pakistan’s Nuclear Delivery Systems

زاہد فاروقی
صلائے عام

#زاہدفاروقی

#پاکستان #چاغی #28مئی #روشنی

حکومت مخالف احتجاج، مگر جماعت اسلامی سے ناراضی کیوں؟ایک سوال سنجیدہ غور کا تقاضا کرتا ہے:جب جماعت اسلامی مہنگائی، بجلی ک...
11/08/2026

حکومت مخالف احتجاج، مگر جماعت اسلامی سے ناراضی کیوں؟

ایک سوال سنجیدہ غور کا تقاضا کرتا ہے:

جب جماعت اسلامی مہنگائی، بجلی کے بلوں، حکومتی پالیسیوں یا عوامی مسائل کے خلاف احتجاج اور دھرنا دیتی ہے تو پی ٹی آئی کے بعض سوشل میڈیا حلقے اس پر اس قدر برہم کیوں ہو جاتے ہیں؟

اگر احتجاج حکومت کے خلاف ہو، مطالبات عوامی ہوں اور طریقۂ کار آئینی و پُرامن ہو تو اصولاً ایک اپوزیشن جماعت کو اس کا خیرمقدم کرنا چاہیے، نہ کہ اسے اپنے سیاسی مفاد کے خلاف سمجھنا چاہیے۔

تو پھر مسئلہ کیا ہے؟

شاید مسئلہ احتجاج نہیں، احتجاج کی سیاسی ملکیت ہے۔

پاکستانی سیاست میں ایک افسوس ناک رجحان یہ بن چکا ہے کہ ہم کسی اقدام کو اس بنیاد پر نہیں پرکھتے کہ وہ درست ہے یا غلط، بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ اسے کرنے والا ہمارا سیاسی گروہ ہے یا مخالف۔

اپنا دھرنا "مزاحمت" ہوتا ہے، دوسرے کا دھرنا "سیاست"۔

اپنی جماعت کی حکومت مخالف تحریک "عوامی جدوجہد" ہوتی ہے، دوسری جماعت کی وہی کوشش "سیاسی چال" بن جاتی ہے۔

یہ طرزِ فکر کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں؛ یہ ہماری مجموعی سیاسی ثقافت کا مسئلہ ہے۔

جماعت اسلامی ایک سیاسی جماعت ہے، اس کے اپنے نظریات، ترجیحات اور سیاسی مفادات ہیں۔ وہ پی ٹی آئی کی تابع جماعت نہیں اور نہ اسے کسی دوسری جماعت کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ بننا ضروری ہے۔ اگر وہ اپنے منشور اور اپنے سیاسی فیصلے کے مطابق کسی عوامی مسئلے پر حکومت کے خلاف احتجاج کرتی ہے تو اسے اسی معیار پر پرکھا جانا چاہیے جس معیار پر دوسری جماعتوں کے احتجاج کو پرکھا جاتا ہے۔

یہی اصول پی ٹی آئی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

اگر پی ٹی آئی حکومت کے خلاف احتجاج کرتی ہے تو جماعت اسلامی کے حامیوں کو محض سیاسی اختلاف کی وجہ سے اسے مسترد نہیں کرنا چاہیے۔ اور اگر جماعت اسلامی احتجاج کرتی ہے تو پی ٹی آئی کے حامیوں کو بھی محض اس لیے اسے مشکوک قرار نہیں دینا چاہیے کہ وہ ان کی جماعت کی قیادت میں نہیں ہو رہا۔

عوامی مسائل کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہوتے۔

مہنگائی کا دکھ، بجلی کے بل کا بوجھ، روزگار کا مسئلہ اور حکومتی پالیسیوں سے پیدا ہونے والی مشکلات کسی جماعت کے کارکن کی ملکیت نہیں؛ یہ عام آدمی کے مسائل ہیں۔

لہٰذا اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ احتجاج کس نے کیا؟

اصل سوال یہ ہونا چاہیے:

مطالبات کیا ہیں؟
کیا مطالبات جائز ہیں؟
کیا طریقۂ احتجاج آئینی اور پُرامن ہے؟
اور کیا اس جدوجہد سے عوام کو حقیقی فائدہ پہنچ سکتا ہے؟

اگر جواب ہاں میں ہے تو صرف اس بنیاد پر مخالفت کرنا کہ احتجاج کسی سیاسی حریف نے کیا ہے، دراصل اپنے ہی جمہوری اصولوں کو کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی رقابت، عوامی مقبولیت اور حکومت مخالف سیاست کی قیادت کا سوال اس کشمکش میں اپنا کردار ادا کرتا ہو۔ مگر اسے قطعی حقیقت قرار دینے کے بجائے سیاسی رویوں کا ایک ممکنہ محرک سمجھنا زیادہ منصفانہ ہے۔

اصل امتحان یہی ہے کہ کیا ہم اصول کو جماعت سے اوپر رکھ سکتے ہیں؟

اگر حکومت کے خلاف احتجاج اس لیے درست ہے کہ وہ عوامی حق ہے، تو یہ حق صرف ہماری جماعت کے لیے نہیں ہو سکتا۔

جمہوریت میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی حریف ہو سکتی ہیں، مگر عوامی مسائل ایک دوسرے کی ملکیت نہیں ہوتے۔

حکومت کے خلاف آواز اس لیے درست نہیں کہ اسے ہماری جماعت بلند کر رہی ہے؛ وہ اس وقت درست ہے جب اس کے پیچھے حقیقی عوامی مسئلہ، جائز مطالبہ اور آئینی و پُرامن جدوجہد موجود ہو۔

اور اگر ہم یہ اصول اپنی جماعت کے لیے مانتے ہیں تو مخالف جماعت کے لیے بھی ماننا ہوگا۔

یہی سیاسی شعور ہے، یہی انصاف ہے، اور یہی جمہوریت کا اصل امتحان ہے۔

— زاہد فاروقی
صلائے عام

#جمہوریت #احتجاج #روشنی #زاہدفاروقی

11/08/2026
پاکستان کی سیاست: آئینی بحران، آزمودہ راستے اور مستقبل کی تعمیرپاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے سی...
11/08/2026

پاکستان کی سیاست: آئینی بحران، آزمودہ راستے اور مستقبل کی تعمیر

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے سیاست کو اکثر اصول، منشور اور کارکردگی کے بجائے شخصیات اور جماعتی وابستگیوں کے گرد محدود کر دیا ہے۔

کبھی پیپلز پارٹی، کبھی مسلم لیگ ن اور کبھی تحریک انصاف۔ حکومتیں بدلتی رہیں، مگر کمزور معیشت، قرض، توانائی، بے روزگاری، کمزور ادارے اور مؤثر احتساب جیسے بنیادی مسائل آج بھی ہمارے سامنے ہیں۔

مگر پاکستان کے سیاسی بحران کی کہانی صرف سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں۔

آئینی بحران اور فوجی مداخلتیں

پاکستان میں جمہوری سفر بارہا فوجی مداخلتوں سے متاثر ہوا۔ 1958 میں ایوب خان، 1969 میں یحییٰ خان، 1977 میں جنرل ضیاء الحق اور 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں براہ راست فوجی حکمرانی قائم ہوئی۔ یوں ملک نے کئی مرتبہ آئینی اور جمہوری تسلسل کے تعطل کا تجربہ کیا۔

اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا مطلب سیاسی جماعتوں کی غلطیوں سے صرف نظر کرنا نہیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ کمزور سیاسی ادارے، ناقص حکمرانی اور غیر مستحکم جمہوری روایت غیر آئینی مداخلت کے امکانات بڑھاتے ہیں۔

پاکستان کو مضبوط پارلیمنٹ، آزاد عدلیہ، مؤثر اور غیر جانب دار احتساب، بااختیار مقامی حکومتیں اور آئینی حدود میں کام کرنے والے تمام ریاستی ادارے درکار ہیں۔

پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف؛ تجربات کا حاصل

پیپلز پارٹی نے جمہوریت، عوامی فلاح اور صوبائی خودمختاری کو اپنی سیاسی شناخت کا حصہ بنایا۔ 2008 سے 2013 کے دور میں اٹھارہویں آئینی ترمیم اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اہم اقدامات تھے، تاہم معاشی نمو، توانائی اور حکمرانی کے مسائل بھی برقرار رہے۔

مسلم لیگ ن نے ترقی، انفراسٹرکچر، توانائی اور سرمایہ کاری کو ترجیح دی۔ مالی سال 2017۔18 میں حقیقی قومی پیداوار کی شرح نمو تقریباً 6.1 فیصد رہی، لیکن اسی عرصے میں بیرونی اور مالیاتی عدم توازن بھی بڑھا۔ عالمی بینک نے مالی سال 2018 میں جاری کھاتے کے خسارے کو قومی پیداوار کے تقریباً 5.8 فیصد کے برابر قرار دیا۔

تحریک انصاف تبدیلی، احتساب اور اسٹیٹس کو کے خاتمے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئی۔ نظرثانی شدہ سرکاری اعداد کے مطابق مالی سال 2018۔19 میں قومی پیداوار کی شرح نمو 3.12 فیصد، 2019۔20 میں منفی 0.94 فیصد، 2020۔21 میں 5.74 فیصد اور 2021۔22 میں 6.18 فیصد رہی۔ کورونا وبا نے بھی اس دور کی معیشت کو متاثر کیا، جبکہ آخری سال میں بیرونی اور مالیاتی عدم توازن دوبارہ نمایاں ہوا۔

یہ اعداد کسی جماعت کی تمام خدمات کو رد کرنے کے لیے نہیں، بلکہ یہ سمجھنے کے لیے ہیں کہ صرف حکومتیں بدلنے سے پاکستان کے بنیادی مسائل مستقل طور پر حل نہیں ہوئے۔

پھر متبادل کہاں ہے؟

اگر عوام واقعی مستقبل کی سیاست چاہتے ہیں تو انہیں اپنی نظر ان تین بڑی جماعتوں سے آگے بھی لے جانا ہوگی۔

یہاں جماعت اسلامی کو ایک سنجیدہ اور ممکنہ مستقبل ساز متبادل کے طور پر پرکھنے کی ضرورت ہے۔

جماعت اسلامی کا ایک نمایاں فرق اس کا تنظیمی اور سیاسی کلچر ہے۔ اس کی تاریخ میں قیادت کسی ایک خاندان کی موروثی ملکیت کے بجائے تنظیمی انتخاب، شورائیت اور داخلی نظم سے وابستہ رہی ہے۔ 2014 میں سراج الحق کا امیر منتخب ہونا اسی تنظیمی طریقۂ کار کی ایک مثال ہے۔

یہ اسے محض ایک انتخابی جماعت کے بجائے ایک منظم اور ادارہ جاتی سیاسی تنظیم کے طور پر دیکھنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ جماعت اسلامی تنقید سے بالاتر ہے۔ اسے بھی اپنی کارکردگی، فیصلوں اور مستقبل کے پروگرام کے ذریعے عوام کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا۔

خدمت؛ صرف منشور نہیں، عملی تجربہ

جماعت اسلامی سے وابستہ فلاحی اداروں کا کئی دہائیوں پر محیط عملی تجربہ بھی اس بحث میں اہم ہے۔

الخدمت فاؤنڈیشن تعلیم، صحت، یتیموں کی کفالت، صاف پانی، قدرتی آفات میں امداد، مائیکروفنانس اور دیگر شعبوں میں کام کر رہی ہے۔ اس کے اپنے ریکارڈ کے مطابق 2023 میں اس کے تحت 52 ہسپتال، 50 میڈیکل سینٹرز، 86 اسکل ڈویلپمنٹ سینٹرز اور 64 اسکولز کی رپورٹ دی گئی۔

یعنی خدمت کا تصور صرف انتخابی تقریروں تک محدود نہیں بلکہ ادارہ سازی اور عملی سرگرمیوں کی صورت میں بھی موجود ہے۔

کراچی سے ایک عملی مثال

کراچی کے سابق میئر عبدالستار افغانی اور سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان جماعت اسلامی کے منتخب نمائندوں کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ان کے ادوار کراچی کی بلدیاتی تاریخ میں شہری ترقی، انفراسٹرکچر اور عوامی خدمت کے حوالے سے زیر بحث آتے ہیں۔

اصول سادہ ہے۔

کسی نمائندے کو اس اختیار سے نہیں پرکھنا چاہیے جو اسے ملا ہی نہیں؛ اسے اس اختیار کے اندر پرکھنا چاہیے جو اسے حاصل تھا۔

یہی اصول جماعت اسلامی کے تمام منتخب نمائندوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔

عام آدمی کے لیے اصل سوال

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔

اگر جماعت اسلامی کو موقع دیا جائے تو عام آدمی کی زندگی میں کیا بدلے گا؟

اس سوال کا جواب صرف نعروں سے نہیں دیا جا سکتا۔

جماعت اسلامی سمیت ہر سیاسی قوت کو واضح کرنا ہوگا کہ ٹیکس نظام کیسے بدلے گا، قرض کا بوجھ کیسے کم ہوگا، برآمدات اور روزگار کیسے بڑھیں گے، توانائی کا بحران کیسے حل ہوگا، تعلیم اور صحت کا معیار کیسے بلند ہوگا، سرکاری ادارے میرٹ اور جواب دہی پر کیسے چلیں گے اور اقتدار میں موجود افراد کا احتساب بھی اسی معیار پر کیسے یقینی بنایا جائے گا۔

یعنی نظریے کو جدید، قابل عمل اور قابل پیمائش قومی منصوبے میں تبدیل کرنا ہوگا۔

یہی جماعت اسلامی کا اصل آئندہ امتحان بھی ہے۔

جماعت اسلامی کو کیوں پرکھا جائے؟

اس کے حق میں بنیادی دلیل یہ نہیں کہ وہ تنقید سے بالاتر ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے پاس بعض ایسی بنیادیں موجود ہیں جو پاکستان کی سیاست میں اہم سمجھی جانی چاہئیں۔

غیر موروثی قیادت، تنظیمی نظم، شورائیت، داخلی احتساب، ادارہ سازی، منتخب نمائندوں کا عملی تجربہ اور وسیع فلاحی و سماجی خدمت۔

پاکستان کو ایسی سیاست چاہیے جو خاندانی سیاست کے بجائے میرٹ، شخصیت پرستی کے بجائے ادارہ سازی، کرپشن کے بجائے امانت، سیاسی انتقام کے بجائے غیر جانب دار احتساب، وی آئی پی کلچر کے بجائے مساوات اور قرض پر انحصار کے بجائے معاشی خود انحصاری کو ریاستی نظام کا حصہ بنائے۔

پاکستان کو صرف حکمران نہیں، ایک سمت چاہیے

پیپلز پارٹی کو اس کے عملی ریکارڈ پر پرکھیں۔

مسلم لیگ ن کو اس کے نتائج پر پرکھیں۔

تحریک انصاف کو اس کے وعدوں اور عمل کے فاصلے پر پرکھیں۔

اور جماعت اسلامی کو بھی اس کے نظریے، کردار، تنظیم، احتساب، خدمت، منتخب نمائندوں کے ریکارڈ اور مستقبل کے پروگرام پر پرکھیں۔

اندھی حمایت کسی کی نہ ہو اور متعصب مخالفت بھی کسی کی نہ ہو۔

پاکستان میں نہ کوئی سیاسی جماعت ریاست سے بالاتر ہو، نہ حکمران آئین سے، اور نہ کوئی ریاستی ادارہ اپنے آئینی دائرے سے باہر۔

یہی آئینی بالادستی اور مستحکم جمہوری ریاست کی بنیاد ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ جماعت اسلامی کو وفاقی سطح پر طویل مدت تک مکمل اقتدار نہیں ملا، اس لیے اسے ایک کامیاب وفاقی حکومت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ لیکن اسی وجہ سے اس کے بلدیاتی اور صوبائی تجربات، منتخب نمائندوں کے ریکارڈ، تنظیمی ڈھانچے، فلاحی خدمات اور سیاسی پروگرام کو مستقبل کی صلاحیت جانچنے کے لیے اہم شواہد کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

لہٰذا سوال یہ نہیں کہ جماعت اسلامی کو بلا سوچے قبول کیا جائے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ سیاسی تجربات کے بعد جماعت اسلامی کو اس کے اصول، تنظیم، خدمت اور عملی صلاحیت کی بنیاد پر قومی سطح پر آزمانے کا موقع دیا جانا چاہیے؟

اگر فیصلہ دلیل، کردار، کارکردگی اور مستقبل کے واضح وژن کی بنیاد پر ہو تو جماعت اسلامی ایک مضبوط، سنجیدہ اور بہترین ممکنہ سیاسی متبادل کے طور پر سامنے آتی ہے۔

یہ اندھی وابستگی کی دعوت نہیں؛ دلیل کی بنیاد پر ایک متبادل کو آزمانے کی دعوت ہے۔

پاکستان کو اب صرف حکمران بدلنے کی نہیں، سیاست کا معیار بدلنے کی ضرورت ہے۔

شخصیت سے اصول کی طرف۔

موروثیت سے میرٹ کی طرف۔

نعروں سے عمل کی طرف۔

اقتدار سے خدمت کی طرف۔

اور ماضی کی سیاست سے مستقبل کی تعمیر کی طرف۔

ووٹ امانت ہے؛ اسے جذبات سے نہیں، بصیرت سے استعمال کرنا ہوگا۔

اسلامی پاکستان، خوشحال پاکستان

حق دو عوام کو
بدلو اس نظام کو

زاہد فاروقی
صلائے عام

#زاہدفاروقی
#پاکستان







#جمہوریت

#احتساب
#میرٹ








#صلائےعام

عقل، بصیرت اور قیادت کا انتخابتحریر: زاہد فاروقیاللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اس لیے نہیں دی کہ وہ صرف دنیا کے فائدے اور ن...
09/08/2026

عقل، بصیرت اور قیادت کا انتخاب

تحریر: زاہد فاروقی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اس لیے نہیں دی کہ وہ صرف دنیا کے فائدے اور نقصان کا حساب کرتا رہے، بلکہ اس لیے بھی دی ہے کہ وہ حق و باطل، خیر و شر، سچ اور فریب، کھوٹے اور کھرے میں تمیز کر سکے۔

اس عقل کا سب سے بڑا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ہمیں کسی فرد، جماعت یا قیادت کا انتخاب کرنا ہو۔

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اسی بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے لکھا:

«"ہمیں خدا نے عقل اسی لیے دی ہے کہ دنیا کے اچھے برے میں تمیز کریں، کھوٹے اور کھرے کو پرکھ کر دیکھیں، کسی کو رہنما بنانے سے پہلے اچھی طرح دیکھ لیں کہ وہ کدھر جانے والا ہے۔"
(تنقیحات، ص 182)»

یہ محض ایک نصیحت نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کا ایک بنیادی اصول ہے، کیونکہ رہنما کا انتخاب دراصل راستے کا انتخاب ہوتا ہے۔

کسی شخص کو رہنما بنانا صرف ایک فرد پر اعتماد کرنا نہیں؛ ہم اپنی اجتماعی سمت بھی اس کے ہاتھ میں دے رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ دیکھنا کافی نہیں کہ وہ کیا کہتا ہے، بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ کیا کرتا ہے اور کس سمت جا رہا ہے۔

اس کے نعرے نہیں، اس کے اصول دیکھو۔
اس کے دعوے نہیں، اس کا کردار دیکھو۔
اس کی تقریریں نہیں، اس کے فیصلے دیکھو۔
اور جب اس کے مفاد اور اصول آمنے سامنے ہوں تو دیکھو کہ وہ کس کا ساتھ دیتا ہے۔

کیونکہ الفاظ انسان کی تصویر بنا سکتے ہیں، مگر کردار اس کی حقیقت ظاہر کرتا ہے۔

جذبات ضروری ہیں، مگر عقل کا متبادل نہیں

قوموں کی زندگی میں جذبات کی اپنی اہمیت ہے، مگر جب جذبات عقل کو مفلوج کر دیں تو یہی قوت کمزوری بن جاتی ہے۔

ایک شخص بلند بانگ نعرے لگا سکتا ہے، عوام کے دکھ بیان کر سکتا ہے، ان کے جذبات کو چھو سکتا ہے اور ایک بڑا ہجوم اپنے گرد جمع کر سکتا ہے؛ مگر ہجوم کی کثرت اس بات کی دلیل نہیں کہ راستہ بھی درست ہے۔

مقبولیت حق کی دلیل نہیں، اور مخالفت باطل کی دلیل نہیں۔

اسی لیے کسی رہنما سے محبت ہو تو بھی اسے اصول کی کسوٹی پر پرکھو، اس کی حمایت کرو تو بھی اس کے فیصلوں کو دیکھو، اور اختلاف کرو تو بھی انصاف کا دامن نہ چھوڑو۔

شخصیت نہیں، اصول معیار بنیں

ہماری اجتماعی زندگی کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم کبھی کبھی شخصیات کو اصولوں سے بلند کر دیتے ہیں۔

جس سے محبت ہو، اس کی ہر بات درست دکھائی دیتی ہے؛ اس کی غلطی بھی حکمت اور اس کی ناکامی بھی کسی سازش کا نتیجہ قرار پاتی ہے۔

یہ رویہ انسان سے اس کی آزادانہ سوچ چھین لیتا ہے۔

کوئی شخص کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، وہ حق کا مالک نہیں۔ حق شخصیت سے بڑا ہے اور اصول ہر فرد سے بلند۔

اگر کوئی رہنما حق کے ساتھ ہے تو اس کا ساتھ دیا جائے، لیکن اگر وہ حق سے ہٹ جائے تو اسے صرف اپنی وابستگی کی وجہ سے درست ثابت کرنا عقل نہیں، تعصب ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں شخصیت پرستی ختم اور اصول پسندی شروع ہوتی ہے۔

رہنما کو اس کے سفر سے پہچانو

کسی رہنما کو جانچنے کے لیے صرف اس کی آج کی تقریر نہ سنو؛ اس کا ماضی دیکھو، اس کے فیصلے دیکھو، مشکل وقت میں اس کا کردار دیکھو اور یہ دیکھو کہ اس کے عمل نے قوم کو کس سمت دھکیلا ہے۔

جو انصاف کی بات کرے مگر اپنے مخالف کے لیے انصاف قبول نہ کرے، اسے پرکھو۔

جو دیانت کا درس دے مگر مفاد کے وقت اصول بدل لے، اسے پرکھو۔

جو قوم کے مستقبل کے دعوے کرے مگر اپنے کردار سے قوم کو مایوسی دے، اس کے الفاظ سے زیادہ اس کے عمل کو دیکھو۔

رہنما کی اصل پہچان اس کے الفاظ نہیں، اس کی سمت ہوتی ہے۔

عوام بھی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں

ہم ہر ناکامی کا ذمہ دار حکمران کو قرار دیتے ہیں، مگر یہ سوال کم ہی کرتے ہیں کہ اسے طاقت کس نے دی؟

غلط قیادت صرف قوموں پر مسلط نہیں ہوتی؛ بعض اوقات قومیں خود اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتی ہیں۔

جب لوگ اہلیت کے بجائے وابستگی، کردار کے بجائے نعرہ، اصول کے بجائے مفاد اور تحقیق کے بجائے افواہ کو ترجیح دینے لگیں تو پھر خراب قیادت کا پیدا ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں۔

اس لیے قیادت کا احتساب صرف رہنماؤں کی ذمہ داری نہیں؛ عوام کے شعور کا بھی امتحان ہے۔

عقل کو زندہ رکھنا ضروری ہے

جو شخص اپنے رہنما سے سوال نہیں کر سکتا، وہ آہستہ آہستہ اپنی عقل کسی دوسرے کے حوالے کر دیتا ہے۔

جو جماعت تنقید برداشت نہیں کرتی، وہ اصلاح کے دروازے بند کر دیتی ہے۔

اور جو قوم اپنے رہنماؤں سے جواب طلب کرنا چھوڑ دیتی ہے، وہ بالآخر اپنی تقدیر پر دوسروں کا اختیار تسلیم کر لیتی ہے۔

اسلام نے انسان کو غور و فکر، تدبر اور تعقل کی دعوت دی ہے۔ اس لیے کسی شخصیت سے وابستگی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی عقل بھی اس کے حوالے کر دے۔

اندھی پیروی وفاداری نہیں، شعور سے دست برداری ہے۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ تمہارا رہنما کون ہے؟

اصل سوال یہ ہے کہ تمہارا معیارِ حق کیا ہے؟

اگر معیار شخصیت ہے تو شخصیت بدلتے ہی معیار بدل جائے گا۔

اگر معیار جماعت ہے تو جماعت کے مفاد کے ساتھ اصول بھی بدل سکتے ہیں۔

لیکن اگر معیار سچ، عدل، دیانت اور حق ہے تو پھر تم ہر شخصیت کو انہی اصولوں کی روشنی میں پرکھو گے۔

تب کوئی نعرہ تمہیں آسانی سے دھوکا نہیں دے سکے گا، کوئی ہجوم تمہیں حق کی دلیل محسوس نہیں ہوگا اور کوئی شخصیت تمہاری عقل پر قبضہ نہیں کر سکے گی۔

اس لیے کسی کے پیچھے چلنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے رک کر دیکھو:

وہ خود کس راستے پر چل رہا ہے؟
اور تمہیں کس منزل کی طرف لے جا رہا ہے؟

کیونکہ رہنما کا انتخاب دراصل راستے کا انتخاب ہے، اور راستے کا انتخاب آخرکار منزل کا انتخاب بن جاتا ہے۔

اپنی عقل کو زندہ رکھو، اپنی بصیرت کو بیدار رکھو، شخصیتوں کو پرکھو—مگر اصولوں کو کبھی قربان نہ کرو۔

زاہد فاروقی
صلائے عام

#زاہدفاروقی
#عقل #بصیرت #قیادت #اصول #سیدابوالاعلی'

Address

Islamabad
12080

Opening Hours

Monday 08:00 - 17:00
Tuesday 08:00 - 17:00
Wednesday 08:00 - 17:00
Thursday 08:00 - 17:00
Saturday 08:00 - 17:00
Sunday 08:00 - 17:00

Telephone

+966548798311

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zahid Farooqi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Zahid Farooqi:

Shortcuts

Share