12/08/2026
ہم نے تخریب سے خود اپنے نشیمن پھونکے
سولہ برس پرانی ایک تقریر، آج کے پاکستان کے نام
تحریر: زاہد فاروقی
صلائے عام
تقریباً سولہ برس قبل ریحان طارق نے ایک تقریری مقابلے میں ’’ہم نے تخریب سے خود اپنے نشیمن پھونکے‘‘ کے عنوان سے تقریر کی تھی۔ وہ تقریر اپنے عہد کے پاکستان کے زخموں کا نوحہ بھی تھی اور ہمارے اجتماعی ضمیر سے ایک سوال بھی۔
اس میں سقوطِ ڈھاکہ، لال مسجد، دہشت گردی، سیاسی انتشار، ادارہ جاتی کمزوری اور قومی بے حسی جیسے موضوعات آئے، مگر اس کی اصل روح واقعات کی فہرست نہیں بلکہ اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت تھی۔
مقرر نے کہا تھا:
«’’گریبان میں جھانکیں، تخریب کار ہم خود ہیں۔‘‘»
اور پھر سوال اٹھایا:
«’’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟‘‘»
سولہ برس گزر گئے۔ چہرے بدل گئے، حکومتیں بدل گئیں، سیاسی حالات بدل گئے، مگر سوال آج بھی وہیں کھڑا ہے:
کیا ہم نے اپنے زخموں سے کچھ سیکھا؟
آج آزاد جموں و کشمیر میں عوامی تحریک کا معاملہ ہمارے سامنے ہے۔ بجلی، آٹا، ٹیکس، حکومتی اخراجات، مراعات، عوامی سہولیات اور سیاسی نمائندگی جیسے مسائل پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا 38 نکاتی چارٹرِ مطالبات سامنے آیا۔ حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدہ بھی ہوا، متعدد مطالبات پر عمل درآمد کے دعوے بھی سامنے آئے، لیکن اعتماد کا بحران مکمل طور پر ختم نہ ہو سکا۔
بعد میں 12 مہاجر نشستوں کا مسئلہ بھی ایک بڑے سیاسی تنازع کے طور پر نمایاں ہوا۔
یہاں ذرا ٹھہر کر سوچنے کی ضرورت ہے۔
اگر عوام کے مسائل حقیقی تھے تو انہیں بروقت کیوں نہ سنا گیا؟
اگر معاہدہ ہو گیا تھا تو اعتماد مکمل طور پر بحال کیوں نہ ہو سکا؟
اور اگر مطالبات جائز تھے تو کیا احتجاج کا ہر طریقۂ کار بھی لازماً جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟
نہیں۔
عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا حق ہے، مگر تشدد حق نہیں۔ ریاست کو نظم و قانون قائم رکھنے کا اختیار ہے، مگر اختیار جواب دہی سے آزاد بھی نہیں۔
لہٰذا آزاد کشمیر کے معاملے میں نہ عوامی تحریک کو مکمل بری الذمہ قرار دینا انصاف ہے، نہ اربابِ اختیار کو۔
حکومت اپنی حکمرانی کی ذمہ دار ہے، تحریک اپنے طرزِ احتجاج کی۔
یہی اصول خیبر پختونخوا پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
وہ خطہ جس نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں، آج بھی بدامنی کے زخم اٹھا رہا ہے۔ دہشت گردی ایک حقیقت ہے، بے گناہوں کا قتل ناقابلِ تردید جرم ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرے۔
لیکن سوال یہ بھی ہے:
امن صرف بندوق سے قائم ہوگا یا انصاف، روزگار، تعلیم، سیاسی شمولیت اور عوامی اعتماد بھی اس کے لیے ضروری ہیں؟
دہشت گردی کی مذمت ضروری ہے، مگر ہر جائز شکایت کو دہشت گردی کا نام دینا بھی مسئلے کا حل نہیں۔
پھر بلوچستان ہے۔
وہاں مسلح شورش اور دہشت گردی بھی ایک تلخ حقیقت ہے اور سیاسی، معاشی اور انسانی مسائل بھی حقیقی سوالات ہیں۔
ریاست کو بندوق اٹھانے والوں سے نمٹنا ہوگا، لیکن بندوق نہ اٹھانے والے شہری کی شکایت بھی سننی ہوگی۔
مسلح تشدد کو سیاسی حق کا نام نہیں دیا جا سکتا، مگر ہر سیاسی شکایت کو غداری کا عنوان بھی نہیں دیا جا سکتا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں سولہ برس پرانی اس تقریر کی طرف پلٹنا پڑتا ہے:
«’’تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔‘‘»
دستانے اتارنے ہوں گے۔
حکومت اپنے ہاتھ دیکھے۔ عوامی تحریکیں اپنے ہاتھ دیکھیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے ہاتھ دیکھیں۔ ادارے اپنے ہاتھ دیکھیں۔ اور ہم بھی اپنے ہاتھ دیکھیں۔
اپنے گریبان میں جھانکنے کا مطلب یہ نہیں کہ سب کو برابر کا مجرم قرار دے دیا جائے۔
جس کے پاس جتنا اختیار ہے، اس کی ذمہ داری بھی اتنی ہی ہے۔
جس کے پاس حکومت ہے، وہ اپنے فیصلوں کا جواب دے۔
جس کے پاس عوامی قیادت ہے، وہ اپنی قیادت کا جواب دے۔
جس کے ہاتھ میں بندوق ہے، وہ اپنے جرم کا جواب دے۔
جس کے پاس قلم ہے، وہ اپنی دیانت کا جواب دے۔
اور جس کے پاس اختیار ہے، وہ اپنے اختیار کا حساب دے۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہر بحران میں ہم فوراً ایک دشمن تلاش کر لیتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں: قصوروار وہ ہے۔
دوسرا کہتا ہے: قصوروار یہ ہے۔
کوئی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے، کوئی عوام کو، کوئی سیاسی جماعتوں کو، کوئی اداروں کو، کوئی بیرونی طاقتوں کو۔
مگر بہت کم لوگ یہ سوال کرتے ہیں:
میرے حصے میں کیا آتا ہے؟
یہی اصل سوال ہے۔
اور یہی ریحان طارق کی سولہ برس پرانی تقریر کو آج کے پاکستان سے جوڑتا ہے:
«’’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟‘‘»
شاید جواب یہ ہے:
پہلے اپنے ہاتھ دیکھو۔
اگر حکومت نے عوام کی آواز بروقت نہ سنی تو اسے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔
اگر عوامی قیادت نے احتجاج کو پرامن رکھنے میں کوتاہی کی تو اسے بھی اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔
اگر سیاسی جماعتوں نے عوام کے دکھ کو اپنے اقتدار کی سیڑھی بنایا تو انہیں بھی جواب دینا ہوگا۔
اگر مسلح گروہوں نے بے گناہوں کا خون بہایا تو ان کے جرم کو کسی سیاسی شکایت کی آڑ نہیں دی جا سکتی۔
اور اگر ہم نے سچ جانتے ہوئے بھی صرف اپنے پسندیدہ فریق کا دفاع کیا تو ہمیں بھی اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔
یہی ’’ہم‘‘ ہے۔
وہی ’’ہم‘‘ جس کے بارے میں سولہ برس پہلے کہا گیا تھا:
«’’گریبان میں جھانکیں، تخریب کار ہم خود ہیں۔‘‘»
آج پاکستان کو کسی ایک فریق کی فتح نہیں، اپنے نشیمن کی حفاظت درکار ہے۔
آزاد کشمیر کو ایسا حل چاہیے جس میں عوامی مطالبات سنجیدگی سے سنے جائیں، معاہدوں پر قابلِ اعتماد طریقے سے عمل ہو اور سیاسی اختلاف تصادم میں تبدیل نہ ہو۔
خیبر پختونخوا کو ایسا امن چاہیے جس میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور عام شہری خود کو محفوظ، باعزت اور ریاست کا برابر کا حصہ سمجھے۔
بلوچستان کو امن کے ساتھ انصاف، سیاسی اعتماد، معاشی مواقع اور اپنے شہریوں کی شکایات کے ازالے کا راستہ چاہیے۔
اور پاکستان کو ایسے سیاسی کلچر کی ضرورت ہے جہاں:
حکومت احتجاج سے خوف زدہ نہ ہو،
اور احتجاج ریاست سے جنگ نہ بنے۔
سولہ برس پہلے سوال تھا:
«’’میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟‘‘»
آج بھی سوال وہی ہے، مگر شاید ہمیں جواب تلاش کرنے کا طریقہ بدلنا ہوگا۔
لہو کسی ایک ہاتھ پر تلاش کرنے سے پہلے اپنے ہاتھ دیکھنے ہوں گے۔
کیونکہ قومیں صرف دشمنوں کی سازشوں سے تباہ نہیں ہوتیں؛ کبھی اپنی غلط پالیسیوں سے، کبھی اپنی ناانصافی سے، کبھی اپنی ضد سے، کبھی اپنی خاموشی سے، اور کبھی اپنے حصے کی ذمہ داری دوسرے کے سر ڈالنے کی عادت سے بھی اپنے نشیمن پھونک دیتی ہیں۔
اس لیے اب سوال صرف یہ نہیں کہ:
تخریب کار کون ہے؟
اصل سوال یہ ہے:
تعمیر کار کون بنے گا؟
حکومت؟ عوام؟ تحریک؟ سیاسی جماعتیں؟ ادارے؟ یا ہم سب؟
اگر جواب ’’ہم سب‘‘ ہے تو امید ابھی باقی ہے۔
کیونکہ جس قوم میں اپنے زخم پہچاننے کی صلاحیت باقی ہو، وہ اپنے نشیمن دوبارہ آباد بھی کر سکتی ہے۔
زاہد فاروقی
صلائے عام
#زاہدفاروقی