02/10/2026
انسانیت کے قاتل۔۔۔کرپٹ صحافی اور ڈاکٹرز!!!
کرپٹ صحافیوں کے ایک ٹولہ کا الیکٹرک وہیکلز EVs کے خلاف پیڈ پراپگنڈہ دیکھ کر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا جو ہمارے گورنمنٹ کالج فیصل آباد (جو اب یونیورسٹی ہے) کے ایک استاد نے سنایا تھا۔
آج ڈاکٹرز مانتے ہیں کہ انسان کے لئے بہترین گھی دیسی گھی ہے اور بہترین تیل زیتون اور تلوں کا ہے۔ ہمارا نظام انہضام ان تینوں کو فورا انرجی میں تبدیل کر دیتا ہے جبکہ ڈلڈا بناسپتی اور کشمیر بناسپتی اور کیمیکلز سے بنے خوردنی تیل کی ہمارے بدن کو سمجھ نہیں آتی کہ اس گند بلا کا کریں۔ اس لئے وہ چربی بنا کر جان چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ جو پیٹ پر اور دوسری جگہوں پر جمع ہوتی رہتی ہے۔ اور ہمارے دل کو کمزور کرتی ہے۔
اب واقعہ دیکھیں۔ 80 اور 90 کی دہائیوں میں جب یہ گند بلا قسم کے ڈالڈا اور تیل آئے تو ان کی کمپنیوں نے اس وقت کے محمد مالک، منصور علی خان اور منیب فاروق ہائر کیے۔ وہ صحافی نہيں ڈاکٹرز تھے۔ ان بدبختوں نے ٹیلیویژن پر آ کر کہنا شروع کر دیا کہ دیسی گھی ہیوی ہوتا ہے۔ اس لئے دل پر بوجھ ڈالتا ہے۔ عام لوگوں کے لئے خطرناک ہے۔ بڑا نقصان پہنچاتا ہے۔ جبکہ ڈالڈا بناسپتی اور کیمکلز والا تیل ہلکا ہوتا ہے اس کے لئے یہ انسانی دل کے لیے مفید ہے۔ اس تیل میں پکے پکوان کھا کر انسان ہلکا پھلکا رہتا ہے۔ اڑتا پھرتا ہے۔
چند پیسوں کے لئے ان بےضمیر ڈاکٹروں نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو گمراہ کیا اور وہ دل کی بیماریوں کا شکار ہوئے۔
آج وہی کام کرپٹ صحافی کر رہے ہیں۔ صاف اور شفاف الیکٹرک وہیکلز کی بجائے یہ پیٹرول اور ڈیزل پر چلنی والی گاڑیوں کی کمپنیوں سے پیسے لے کر کروڑوں انسانوں کی صحت سے کھیل رہے ہیں۔
پاکستان میں فضائی آلودگی اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ بڑے شہروں میں سانس لینا دشوار ہوگیا ہے۔ آلودگی silent killer بن چکی ہے۔
اور یہ حرامخوار کہہ رہے کہ پاکستان کو چین کی طرح اپنی گاڑیاں بجلی پر چلا کر شہروں کی ہوا کو صاف نہيں کرنا چاہیے۔ ایسے ہی آلودگی سے مرتے رہنا چاہیے۔ اور اربوں ڈالرز عربوں کو تیل کی امپورٹ کے لئے دیتے رہنا چاہیے۔
از جمی ورک