18/10/2026
🌿 بروزِ اتوار — ﴿سلسلۂ فقہی مسائل﴾ 🌿
عنوان: احکامِ غسل و طهارت، اور آدابِ جنبی:
”فرض غسل کیے بغیر کام کاج کرنے اور کھانے پینے کا کیا حکم ہے؟“
مسئلہ: غسلِ فرض کی حالت میں امورِ خانہ داری اور کھانے پینے کا شرعی ضابطہ درج ذیل ہے:
کام کاج کرنے کا حکم:
غسل فرض ہونے کی حالت میں گھر کا کام کاج کرنا، کپڑے بدلنا یا دیگر روزمرہ کے امور انجام دینا جائز ہے، اس میں کوئی گناہ نہیں۔
غسل میں تاخیر کی ممانعت:
جس پر غسل واجب ہو، اسے چاہیے کہ بلاوجہ نہانے میں تاخیر نہ کرے۔ احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ جس گھر میں ناپاک (جنبی) شخص ہو وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
حالتِ جنابت میں کھانے پینے کا حکم: اگر بے غسل شخص کچھ کھانا یا پینا چاہے، تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ ہاتھ منہ دھو لے، کلی کر لے یا نماز جیسا وضو کر لے۔ اگر بغیر ہاتھ منہ دھوئے ویسے ہی کھا پی لیا تو گناہ تو نہیں، لیکن یہ عمل قساوتِ قلب (دل کی سختی) اور فقر و محتاجی کا سبب بنتا ہے۔
📋 فقہی عبارت اور مستند دلیل:
مصنف عبد الرزاق اور بہارِ شریعت:
"إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ جِنَازَةَ كَافِرٍ بِخَيْرٍ، وَلَا جُنُبًا حَتَّى يَغْتَسِلَ أَوْ يَتَوَضَّأَ وُضُوءَ الصَّلَاةِ..."
” بے شک فرشتے کافر مردے کے پاس بھلائی کے ساتھ حاضر نہیں ہوتے اور جنبی شخص کے پاس بھی نہیں آتے جب تک وہ غسل نہ کر لے یا نماز جیسا وضو نہ کر لے۔“
اور بہارِ شریعت میں ہے:
”جس پر غسل واجب ہے اسے چاہیے کہ نہانے میں تاخیر نہ کرے۔ حدیث میں ہے جس گھر میں جنب ہو اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے... اور کھانا کھانا یا عورت سے ج**ع کرنا چاہتا ہے تو وضو کر لے یا ہاتھ مونھ دھولے، کلی کر لے اور اگر ویسے ہی کھا پی لیا تو گناہ نہیں مگر مکروہ ہے اور محتاجی لاتا ہے۔“
(ملتقط از مصنف عبد الرزاق، جلد 1، صفحہ 217 اور بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 225، مکتبۃ المدینہ)
📜 تحقیقی حوالہ جات (بمع مکتبہ و مطبوعہ):
بہارِ شریعت: جلد 1، حصہ سوم، صفحہ 225، غسل کا بیان (مبحث جنبی کے لیے کھانے پینے سے قبل وضو کا حکم)، (مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)۔
مصنف عبد الرزاق: جلد 1، صفحہ 217، كتاب الطهارة / باب طهارة الجنب وأكله وشربه، (مطبوعہ: المجلس العلمي، الهند / دار الكتب العلمية، بيروت)۔
رد المحتار على الدر المختار (فتاویٰ شامی): جلد 1، صفحہ 341، كتاب الطهارة / باب الغسل (مبحث ما يكره للجنب وما يستحب له قبل الأكل)، (مطبوعہ: ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی)۔
دعائیہ جملہ: اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہری و باطنی طهارت کا اہتمام کرنے، سستی و غفلت سے بچنے اور سنتِ مبارکہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!
ایصالِ ثواب:
یا اللہ! اس فقہی مسئلے کے سیکھنے، سکھانے اور اس پر عمل کی نیت کا جو ثواب ہے، اسے میری مرحومہ والدہ کے نامۂ اعمال میں روشن نور بنا کر داخل فرما۔ مولا! ان کی تمام لغزشوں کو معاف فرما، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا اور انہیں بلند درجات عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین!
*_تاریخ: اتوار ، 18 اکتوبر 2026ء | 6 جمادی الاول 1448ھ | 4 کاتک 2083 (بکرمی)_*
*ڈیلی فرمانِ مصطفٰےﷺوفقہی مسائل اور ہفتہ وارخطبۂ جمعۃ المبارک برائےایصالِ ثواب والدہ مرحومہ مغفورہ حافظ علم دین مصطفائی*