Rajasthan constructions corp

Rajasthan constructions corp We are in construction activities for the past three generation & combining all we have constructed c

We are in construction activities for the past three generation & combining all we have constructed countless number of building, Industrial building, Factory sheds, etc. to the entire satisfaction of our Clients / Architects / Consultants & for the past 30 years we are specialized in repairs, New Construction & Interior Works.

*🌹 सीरत-ए-रसूल ﷺ**बातें मेरे हुज़ूर की ﷺ**🌿 तिब्ब-ए-नबवी**🍯 शहद और क़ुरआन*आप ﷺ ने यह भी फ़रमाया कि दो शिफ़ाओं को लाज़िम ...
13/08/2026

*🌹 सीरत-ए-रसूल ﷺ*
*बातें मेरे हुज़ूर की ﷺ*

*🌿 तिब्ब-ए-नबवी*

*🍯 शहद और क़ुरआन*

आप ﷺ ने यह भी फ़रमाया कि दो शिफ़ाओं को लाज़िम पकड़ो—एक शहद, दूसरी क़ुरआन शरीफ़।

(इब्ने माजा, सफ़्हा २५५, बाबुल-असल)

🍶 ख़ल (सिरका)

हुज़ूर ﷺ ने फ़रमाया कि बेहतरीन सालन सिरका है।
ऐ अल्लाह अज़्ज़ व जल्ल! सिरके में बरकत अता फ़रमा, क्योंकि यह अम्बिया अलैहिमुस्सलाम का सालन है और जिस घर में सिरका होगा, वह घर कभी मोहताज नहीं होगा।

(इब्ने माजा, सफ़्हा २४६, बाबुल-इतिदाम बिल-ख़ल)

🫒 ज़ैत (रोग़न-ए-ज़ैतून)

हुज़ूर-ए-अक़दस ﷺ ने इरशाद फ़रमाया कि तुम लोग रोग़न-ए-ज़ैतून को सालन के तौर पर इस्तेमाल करो और उसको बदन पर भी मलते रहो, क्योंकि यह मुबारक दरख़्त से निकला हुआ है।

और दूसरी हदीस में यूँ वारिद हुआ कि तुम लोग रोग़न-ए-ज़ैतून को खाओ और उसको बदन में लगाओ, क्योंकि यह बरकत वाली चीज़ है।

(इब्ने माजा, सफ़्हा २४६, बाबुज़-ज़ैत)

🌿 मुसम्मिन
(बदन को फ़र्बह करने वाली दवा)

हज़रत आयशा رضی اللہ تعالیٰ عنہا कहती हैं कि मेरी वालिदा ने जब मेरी रुख़्सती का इरादा किया तो मेरा इलाज करने लगीं कि मैं ज़रा फ़र्बह-बदन हो जाऊँ, मगर कोई इलाज कारगर न हुआ।

मगर जब मैंने ककड़ी को ताज़ा खजूरों के साथ खाना शुरू किया, तो मैं ख़ूब फ़र्बह-बदन वाली हो गई।

(इब्ने माजा, सफ़्हा २४६)

हज़रत अब्दुल्लाह बिन जाफ़र رضی اللہ تعالیٰ عنہ कहते हैं कि रसूलुल्लाह ﷺ ककड़ी ताज़ा खजूरों के साथ تناول फ़रमाया करते थे।

(इब्ने माजा, सफ़्हा २४६, बाबुल-क़िस्सा वर-रुतब)

🌙 अशा
(रात का खाना)

हुज़ूर ﷺ ने इरशाद फ़रमाया कि रात का खाना तर्क न करो। कुछ न मिले तो एक मुट्ठी खजूर ही खा लिया करो, क्योंकि रात को खाना छोड़ देने से जल्द बुढ़ापा आ जाता है।

(इब्ने माजा, सफ़्हा २४८, बाबु तर्किल-अशा)

🌿 हिम्या
(मुज़िर चीज़ों से परहेज़)

हुज़ूर ﷺ अपने साथ हज़रत अली رضی اللہ تعالیٰ عنہ को लेकर हज़रत उम्मुल-मुंज़िर सहाबिया رضی اللہ تعالیٰ عنہا के मकान पर तशरीफ़ ले गए।

उन्होंने कच्ची-पक्की खजूरों का एक ख़ुशा पेश किया और हुज़ूर ﷺ उसमें से खाने लगे। हज़रत अली رضی اللہ تعالیٰ عنہ ने भी हाथ बढ़ाया तो आप ﷺ ने फ़रमाया:

“ऐ अली رضی اللہ تعالیٰ عنہ! अभी बीमारी से उठे हो और नक़ाहत बाक़ी है, इसलिए तुम इसे मत खाओ।”

इसके बाद हज़रत उम्मुल-मुंज़िर رضی اللہ تعالیٰ عنہا ने जौ और चुकंदर मिला कर खाना पकाया तो हुज़ूर ﷺ ने हज़रत अली رضی اللہ تعالیٰ عنہ से फ़रमाया कि तुम यह खाओ, यह तुम्हारे लिए बहुत ज़्यादा मुफ़ीद ग़िज़ा है।

(इब्ने माजा, सफ़्हा २५४, बाबुल-हिम्या)

हुज़ूर ﷺ ने इरशाद फ़रमाया कि तुम लोग ज़बरदस्ती करके अपने मरीज़ों को खाने-पीने पर मजबूर न किया करो, अल्लाह तआला उन लोगों को खिला-पिला दिया करता है।

(इब्ने माजा, सफ़्हा २५४, बाबु ला तकरहू अल-मरीज़ अलत्तआम)

🌿 ज़न्जबील (सोंठ)

बादशाह-ए-रूम ने एक घड़ा ज़न्जबील से भरा हुआ आप ﷺ के पास हदियतन भेजा था। आप ﷺ ने उसमें से एक-एक टुकड़ा अपने असहाब رضی اللہ تعالیٰ عنہم को खाने के लिए दिया।

इस रिवायत को अबू नईम मुहद्दिस ने अपनी किताब “तिब्ब-ए-नबवी” में बयान किया है।

(नशरुत-तीब)

🌴 अज्वा

अज्वा मदीना मुनव्वरा की खजूरों में से एक खजूर का नाम है। इसके बारे में इरशाद-ए-नबवी ﷺ है:

“अज्वा जन्नत से है और वह जुनून या ज़हर से शिफ़ा है।”

(इब्ने माजा, सफ़्हा २५५, बाबुल-कमआ वल-अज्वा)

🌹 बशुक्रिया:
About Muhammad Net

سیرت رسول ﷺ باتیں میرے حضور کی طب نبویشہدد اور قرآن آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے یہ بھی فرمایا کہ دو شفاؤں کو لازم پ...
13/08/2026

سیرت رسول ﷺ
باتیں میرے حضور کی
طب نبوی

شہدد اور قرآن

آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے یہ بھی فرمایا کہ دو شفاؤں کو لازم پکڑو، ایک شہد، دوسری قرآن شریف۔

(ابن ما جہ ص۲۵۵ باب العسل)

خَلُّ(سرکہ)

حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے فرمایا کہ بہترین سالن سرکہ ہے اے ﷲ! عز و جل سرکہ میں برکت عطا فرما، کیونکہ یہ انبیاء علیہم السلام کا سالن ہے اور جس گھر میں سرکہ ہو گا وہ گھر کبھی محتاج نہیں ہوگا۔

(ابن ما جہ ص۲۴۶ باب الایتدام بالخل)

زَیْت (روغن زیتون)

حضورِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ روغن زیتون کوسالن کے طور پر استعمال کرو اور اس کو بدن پر بھی ملتے رہ کیونکہ یہ مبارک درخت سے نکلا ہوا ہے۔

اور دوسری حدیث میں یوں وارد ہواکہ تم لوگ روغن زیتون کو کھاؤ اور اس کو بدن میں لگاؤ کیونکہ یہ برکت والی چیزہے۔

(ابن ما جہ ص۲۴۶باب الزیت)

مُسَمِّن(بدن کو فربہ کرنے والی دوا )

حضرت عائشہ رضی ﷲ تعالٰی عنہا کہتی ہیں کہ میری والدہ نے جب میری رخصتی کا ارادہ کیا تو میرا علاج کرنے لگیں کہ میں ذرا فربہ بدن ہو جاؤں مگر کوئی علاج کا رگر نہ ہوا۔ مگر جب میں نے ککڑی کو تازہ کھجوروں کے ساتھ کھانا شروع کر دیا تو میں خوب فربہ بدن والی ہو گئی۔

(ابن ما جہ ص۲۴۶)

حضرت عبد‌ ﷲ بن جعفر رضی ﷲ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم ککڑی تازہ کھجوروں کے ساتھ تناول فرمایا کرتے تھے۔

(ابن ما جہ ص۲۴۶ باب القثاء والرطب)

عَشَاء(رات کا کھانا)

حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ رات کا کھانا ترک نہ کرو، کچھ نہ ملے تو ایک مٹھی کھجور ہی کھا لیا کرو کیونکہ رات کو کھانا چھوڑ دینے سے جلد بڑھاپا آ جاتا ہے۔

(ابن ما جہ ص۲۴۸ باب ترک العشاء)

حِمْیَہ(مضر چیزوں سے پرہیز)

حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم اپنے ساتھ حضرت علی رضی ﷲ تعالٰی عنہ کو لے کر حضرت ام المنذر صحابیہ رضی ﷲ تعالٰی عنہاکے مکان پر تشریف لے گئے انہوں نے کچی پکی کھجوروں کا ایک خوشہ پیش کیا اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم اس میں سے کھانے لگے۔ حضرت علی رضی ﷲ تعالٰی عنہ نے بھی ہاتھ بڑھایا تو آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے فرمایا : اے علی! رضی ﷲ تعالٰی عنہ ابھی بیماری سے اٹھے ہو اور نقاہت باقی ہے اس لئے تم اس کو مت کھاؤ۔ اس کے بعد حضرت ام المنذر رضی ﷲ تعالٰی عنہا نے جو اور چقندر ملا کر کھانا پکایا تو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے حضرت علی رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے فرمایا کہ تم یہ کھاؤ یہ تمہارے لئے بہت زیادہ مفید غذا ہے۔

(ابن ما جہ ص۲۵۴ باب الحمیہ)

حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ زبردستی کرکے اپنے مریضوں کو کھانے پینے پر مجبور مت کیا کرو، اﷲ تعالٰی ان لوگوں کو کھلا پلا دیا کرتا ہے۔

(ابن ما جہ ص۲۵۴ باب لاتکر ہوا المریض علی الطعام)

زَنْجَبِیْل(سونٹھ)

بادشاہ روم نے ایک گھڑا زنجبیل سے بھرا ہوا آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کے پاس ہدیۃ ً بھیجا تھا، آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے اس میں سے ایک ایک ٹکڑا اپنے اصحاب رضی ﷲ تعالٰی عنہم کو کھانے کے لئے دیا اس روایت کو ابو نعیم محدث نے اپنی کتاب ’’طبِ نبوی‘‘ میں بیان کیا ہے۔

(نشرالطیب)

عَجْوَہ مدینہ منورہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور کا نام ہے اس کے بارے میں ارشاد نبوی ہے کہ ’’عجوہ‘‘ جنت سے ہے اور وہ جنون یا زہر سے شفاء ہے۔

(ابن ما جہ ص۲۵۵ باب الکماۃ والعجوۃ)

بشکریہ
About Muhammad net

🌹 سلسلۂ عقیدۂ ختمِ نبوت"خاتم" — ایک لفظ، مگر معنی کا پورا جہانالفاظ کبھی صرف الفاظ نہیں رہتے؛جب وہ کلامِ الٰہی کا حصہ ...
13/08/2026

🌹 سلسلۂ عقیدۂ ختمِ نبوت

"خاتم" — ایک لفظ، مگر معنی کا پورا جہان

الفاظ کبھی صرف الفاظ نہیں رہتے؛
جب وہ کلامِ الٰہی کا حصہ بن جائیں تو ان کے اندر معنی کی ایسی وسعت پیدا ہوجاتی ہے کہ صدیوں کے مفسرین ان کی شرح کرتے رہتے ہیں۔

قرآنِ کریم میں اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے اپنے محبوب ﷺ کے لیے ایک ایسا ہی عظیم وصف استعمال فرمایا:

خَاتَمَ النَّبِيِّينَ

یہ دو لفظ نہیں، ختمِ نبوت کے عقیدے کی قرآنی بنیاد ہے۔

سوال یہ ہے کہ "خاتم" کا معنی کیا ہے؟

کیا اس سے صرف "مہر" مراد ہے؟
یا "خاتم" میں اختتام، آخریت اور سلسلے کے مکمل ہوجانے کا مفہوم بھی شامل ہے؟

آئیے، اس لفظ کو خود عربی زبان اور معتبر تفاسیر کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔

🌿 عربی زبان میں "خاتم" کا مفہوم

عربی میں مادہ خ ت م کے بنیادی معانی میں کسی چیز کو مکمل کرنا، ختم کرنا اور اس کے آخر تک پہنچنا شامل ہیں۔

مشہور عربی لغت لسان العرب میں "خاتم القوم" کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ اس سے مراد قوم کا آخری شخص بھی ہوتی ہے، اور اسی ضمن میں حضرت محمد ﷺ کو خاتم الانبیاء کہا گیا ہے، یعنی انبیاء کے آخری۔

(لسان العرب، مادہ: ختم)

اسی طرح تاج العروس میں بھی "خاتم" کے معنی کسی چیز کے آخر اور انجام کے طور پر بیان ہوئے ہیں، اور آیتِ کریمہ ﴿وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾ کے تحت اس کا معنی "آخرهم" — انبیاء کے آخر بیان کیا گیا ہے۔

یعنی عربی زبان کے معروف مصادر میں خود "خاتم النبیین" کی ترکیب کے ضمن میں آخریت کا مفہوم موجود ہے۔

📖 امام طبری رحمہ اللہ کی تفسیر

اب ذرا قرآن کے ایک جلیل القدر مفسر، امام محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ کی طرف آئیے۔

سورۂ احزاب کی آیت 40 کی تفسیر کرتے ہوئے امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو "خاتم النبیین" فرمایا؛ یعنی وہ ذات جس کے ذریعے نبوت پر ختم لگا دیا گیا اور آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کسی کے لیے نبوت کا دروازہ نہیں کھلے گا۔

اسی تفسیر میں امام طبری رحمہ اللہ نے قراءت کے دونوں معروف وجوہ کا ذکر کیا ہے:

خاتِمَ النبیین
اور
خاتَمَ النبیین

اور دونوں قراءتوں کے بیان میں ختمِ نبوت کے مفہوم کی طرف رہنمائی موجود ہے۔

یہ نکتہ نہایت اہم ہے:

لفظ کی قراءت کے اختلاف نے عقیدے میں کوئی اختلاف پیدا نہیں کیا۔

کیونکہ مفہوم یہی رہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ذریعے سلسلۂ نبوت مکمل اور ختم ہوگیا۔

🌸 امام قرطبی رحمہ اللہ کی وضاحت

امام قرطبی رحمہ اللہ نے بھی اسی آیت کی تفسیر میں "خاتم" کی قراءت اور معنی پر گفتگو فرمائی ہے۔

آپ نے اس مقام پر واضح کیا کہ ایک قراءت میں "خاتَم" کا مفہوم مہر اور اختتام سے متعلق ہے، یعنی ایسا اختتام جس کے ذریعے سلسلہ مکمل ہو جائے۔

گویا قرآن کا یہ لفظ صرف ایک اعزازی لقب نہیں؛ اس میں نبوت کے سلسلے کے اختتام کا مفہوم بھی پوری وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔

🌹 ایک خوبصورت مثال

ذرا تصور کیجیے:

ایک خط لکھا گیا۔

الفاظ مکمل ہوگئے۔

مقصد بیان ہوگیا۔

آخر میں مہر لگا دی گئی۔

اب اس خط کو مزید کسی تحریر کی ضرورت نہیں۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کے مبارک سلسلے کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر مکمل فرمایا۔

آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔

یعنی وہ ہستی جس پر نبوت کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن کے اس ایک لفظ کے ساتھ جب رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو رکھا جائے، خصوصاً:

«لَا نَبِيَّ بَعْدِي»

تو مفہوم مزید روشن ہوجاتا ہے:

قرآن: خاتم النبیین
حدیث: لا نبی بعدی

ایک طرف اللہ تعالیٰ کا فرمان، دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کی صریح وضاحت۔

🌿 "خاتم" کو صرف "مہر" کہہ کر معنی محدود نہیں کیے جا سکتے

یہاں ایک علمی نکتہ قابلِ توجہ ہے۔

بعض لوگ لفظ خاتم کا صرف ایک معنی "مہر" بیان کرکے رک جاتے ہیں، حالانکہ عربی لغت اور تفاسیر میں اس لفظ کے اندر اختتام، آخر اور سلسلے کو مکمل کرنے کا مفہوم بھی واضح طور پر موجود ہے۔

اسی لیے امام طبری رحمہ اللہ نے قراءت کے مختلف وجوہ بیان کرتے ہوئے ایک معنی "آخر النبيين" بھی ذکر فرمایا ہے۔

لہٰذا "خاتم النبیین" کو صرف ایک ظاہری مہر کے معنی تک محدود کرنا عربی استعمال اور تفسیری توضیحات کے پورے دائرے کو نظر انداز کرنا ہوگا۔

💚 ختمِ نبوت: لفظ سے عقیدہ تک

یہی وجہ ہے کہ اہلِ سنت کے نزدیک ختمِ نبوت کوئی نیا یا بعد میں پیدا ہونے والا تصور نہیں۔

یہ قرآن کے لفظ میں موجود ہے،
رسول اللہ ﷺ کے ارشاد میں موجود ہے،
عربی زبان کے معتبر استعمال میں موجود ہے،
اور امت کے مفسرین نے اسے اسی مفہوم کے ساتھ بیان کیا ہے۔

پس جب مسلمان "خاتم النبیین" کہتا ہے تو وہ صرف ایک لقب نہیں دہراتا؛ وہ ایک قطعی حقیقت کا اقرار کرتا ہے:

محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔

🌺 دل میں اترنے والی بات

نبوت ایک ایسا مبارک سلسلہ تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے منتخب بندوں کے ذریعے انسانیت تک ہدایت پہنچانے کے لیے جاری فرمایا۔

پھر ایک دن وہ سلسلہ اپنی تکمیل کو پہنچا۔

اور وہ تکمیل کسی عام انسان کے ذریعے نہیں ہوئی؛

وہ تاجِ ختمِ نبوت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سرِ اقدس پر رکھا گیا۔

اس کے بعد کسی نئے نبی کی تلاش باقی نہ رہی،
کیونکہ ہدایت کا چراغ مکمل ہوچکا تھا۔

اور امت کو ایک ایسی شریعت عطا ہوگئی جو قیامت تک کے لیے ہے۔

محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں۔

یہ صرف ایک لقب نہیں؛
یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ وہ حقیقت ہے جس پر ہمارا ایمان قائم ہے۔

📚 مراجع و مصادر

1۔ القرآن الکریم
سورۃ الأحزاب، آیت 40۔

2۔ تفسیر الطبری
امام محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ، تفسیر سورۃ الأحزاب، آیت 40۔

3۔ تفسیر القرطبی
امام محمد بن احمد القرطبی رحمہ اللہ، تفسیر سورۃ الأحزاب، آیت 40۔

4۔ لسان العرب
امام ابن منظور رحمہ اللہ، مادہ ختم؛ "خاتم القوم" اور "خاتم الأنبياء" کے بیان کے ضمن میں۔

5۔ تاج العروس
علامہ مرتضیٰ زبیدی رحمہ اللہ، مادہ ختم؛ آیتِ کریمہ ﴿وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾ کے تحت۔

6۔ صحیح البخاری، صحیح مسلم
احادیثِ "لا نبي بعدي" اور ختمِ نبوت سے متعلق روایات۔

7۔ بہارِ شریعت
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمہ اللہ، جلد اول، عقائدِ نبوت و ختمِ نبوت۔

8۔ فتاویٰ رضویہ
امام احمد رضا خان رحمہ اللہ، ختمِ نبوت سے متعلق مباحث۔
🌹

*🌹 सिलसिला-ए-अक़ीदा-ए-ख़त्म-ए-नुबुव्वत*पढ़ते रहें..."ख़ातम" — एक लफ़्ज़, मगर मानी का पूरा जहानअल्फ़ाज़ कभी सिर्फ़ अल्फ़ा...
13/08/2026

*🌹 सिलसिला-ए-अक़ीदा-ए-ख़त्म-ए-नुबुव्वत*
पढ़ते रहें...

"ख़ातम" — एक लफ़्ज़, मगर मानी का पूरा जहान

अल्फ़ाज़ कभी सिर्फ़ अल्फ़ाज़ नहीं रहते;
जब वह कलाम-ए-इलाही का हिस्सा बन जाएँ तो उनके अंदर मानी की ऐसी वुसअत पैदा हो जाती है कि सदियों के मुफस्सिरीन उनकी शरह करते रहते हैं।

क़ुरआन-ए-करीम में अल्लाह जल्ल शानुहू ने अपने महबूब ﷺ के लिए एक ऐसा ही अज़ीम वस्फ़ इस्तेमाल फ़रमाया:

خَاتَمَ النَّبِيِّينَ

यह दो लफ़्ज़ नहीं, ख़त्म-ए-नुबुव्वत के अक़ीदे की क़ुरआनी बुनियाद है।

*❓ सवाल यह है कि "ख़ातम" का मानी क्या है❓*

क्या इससे सिर्फ़ "मुहर" मुराद है?

या "ख़ातम" में इख़्तिताम, आख़िरियत और सिलसिले के मुकम्मल हो जाने का मफ़हूम भी शामिल है?

आइए, इस लफ़्ज़ को ख़ुद अरबी ज़बान और मोतबर तफ़ासीर की रोशनी में समझते हैं।

*🌿 अरबी ज़बान में "ख़ातम" का मफ़हूम*

अरबी में माद्दा ख़ा-ता-मीम (خ ت م) के बुनियादी मआनी में किसी चीज़ को मुकम्मल करना, ख़त्म करना और उसके आख़िर तक पहुँचना शामिल हैं।

मशहूर अरबी लुग़त लिसानुल अरब में "ख़ातमुल-क़ौम" के बारे में बयान किया गया है कि इससे मुराद क़ौम का आख़िरी शख़्स भी होता है, और इसी ज़िम्न में हज़रत मुहम्मद ﷺ को ख़ातमुल-अंबिया कहा गया है, यानी अंबिया के आख़िरी।

(लिसानुल अरब, माद्दा: ख़तम)

इसी तरह ताजुल उरूस में भी "ख़ातम" के मानी किसी चीज़ के आख़िर और अंजाम के तौर पर बयान हुए हैं, और आयत-ए-करीमा:

﴿وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾

के तहत इसका मानी "आख़िरुहुम" — अंबिया के आख़िर — बयान किया गया है।

यानी अरबी ज़बान के मारूफ़ मसादिर में ख़ुद "ख़ातमुन-नबिय्यीन" की तरकीब के ज़िम्न में आख़िरियत का मफ़हूम मौजूद है।

📖 इमाम तबरी रहमतुल्लाहि अलैह की तफ़्सीर

अब ज़रा क़ुरआन के एक जलीलुल-क़द्र मुफस्सिर, इमाम मुहम्मद बिन जरीर तबरी रहमतुल्लाहि अलैहि की तरफ़ आइए।

सूरह-ए-अहज़ाब की आयत 40 की तफ़्सीर करते हुए इमाम तबरी रहमतुल्लाहि अलैहि फ़रमाते हैं कि अल्लाह तआला ने हज़रत मुहम्मद ﷺ को "ख़ातमुन-नबिय्यीन" फ़रमाया; यानी वह ज़ात जिसके ज़रिए नुबुव्वत पर ख़त्म लगा दिया गया और आप ﷺ के बाद क़ियामत तक किसी के लिए नुबुव्वत का दरवाज़ा नहीं खुलेगा।

इसी तफ़्सीर में इमाम तबरी रहमतुल्लाहि अलैहि ने क़िराअत के दोनों मारूफ़ वुजूह का ज़िक्र किया है:

ख़ातिमन-नबिय्यीन
और
ख़ातमन-नबिय्यीन

और दोनों क़िराअतों के बयान में ख़त्म-ए-नुबुव्वत के मफ़हूम की तरफ़ रहनुमाई मौजूद है।

*✅यह नुक़्ता निहायत अहम है:*

लफ़्ज़ की क़िराअत के इख़्तिलाफ़ ने अक़ीदे में कोई इख़्तिलाफ़ पैदा नहीं किया।

क्योंकि मफ़हूम यही रहता है कि रसूलुल्लाह ﷺ के ज़रिए सिलसिला-ए-नुबुव्वत मुकम्मल और ख़त्म हो गया।

*🌸 इमाम क़ुर्तुबी रहमतुल्लाहि अलैह की वज़ाहत*

इमाम क़ुर्तुबी रहमतुल्लाहि अलैहि ने भी इसी आयत की तफ़्सीर में "ख़ातम" की क़िराअत और मानी पर गुफ़्तगू फ़रमाई है।

आपने इस मक़ाम पर वाज़ेह किया कि एक क़िराअत में "ख़ातम" का मफ़हूम मुहर और इख़्तिताम से मुतअल्लिक़ है, यानी ऐसा इख़्तिताम जिसके ज़रिए सिलसिला मुकम्मल हो जाए।

गोया क़ुरआन का यह लफ़्ज़ सिर्फ़ एक ऐज़ाज़ी लक़ब नहीं; इसमें नुबुव्वत के सिलसिले के इख़्तिताम का मफ़हूम भी पूरी वज़ाहत के साथ मौजूद है।

*🌹 एक ख़ूबसूरत मिसाल*

ज़रा तसव्वुर कीजिए:

एक ख़त लिखा गया।

अल्फ़ाज़ मुकम्मल हो गए।

मक़सद बयान हो गया।

आख़िर में मुहर लगा दी गई।

अब उस ख़त को मज़ीद किसी तहरीर की ज़रूरत नहीं।

इसी तरह अल्लाह तआला ने अंबिया-ए-किराम अलैहिमुस्सलाम के मुबारक सिलसिले को हज़रत मुहम्मद मुस्तफ़ा ﷺ पर मुकम्मल फ़रमाया।

आप ﷺ ख़ातमुन-नबिय्यीन हैं।

यानी वह हस्ती जिस पर नुबुव्वत का सिलसिला अपने इख़्तिताम को पहुँचा।

यही वजह है कि क़ुरआन के इस एक लफ़्ज़ के साथ जब रसूलुल्लाह ﷺ की अहादीस को रखा जाए, ख़ुसूसन:

«لَا نَبِيَّ بَعْدِي»

तो मफ़हूम मज़ीद रोशन हो जाता है:

क़ुरआन: ख़ातमुन-नबिय्यीन
हदीस: ला नबिय्य बादी

एक तरफ़ अल्लाह तआला का फ़रमान, दूसरी तरफ़ रसूलुल्लाह ﷺ की सरीह वज़ाहत।

"🌿 ख़ातम" को सिर्फ़ "मुहर" कहकर मानी महदूद नहीं किए जा सकते*

यहाँ एक इल्मी नुक़्ता क़ाबिल-ए-तवज्जो है।

बाज़ लोग लफ़्ज़ ख़ातम का सिर्फ़ एक मानी "मुहर" बयान करके रुक जाते हैं, हालाँकि अरबी लुग़त और तफ़ासीर में इस लफ़्ज़ के अंदर इख़्तिताम, आख़िर और सिलसिले को मुकम्मल करने का मफ़हूम भी वाज़ेह तौर पर मौजूद है।

इसीलिए इमाम तबरी रहमतुल्लाहि अलैह ने क़िराअत के मुख़्तलिफ़ वुजूह बयान करते हुए एक मानी "आख़िरुन-नबिय्यीन" भी ज़िक्र फ़रमाया है।

लिहाज़ा "ख़ातमुन-नबिय्यीन" को सिर्फ़ एक ज़ाहिरी मुहर के मानी तक महदूद करना अरबी इस्तेमाल और तफ़्सीरी तौज़ीहात के पूरे दायरे को नज़रअंदाज़ करना होगा।

*💚 ख़त्म-ए-नुबुव्वत: लफ़्ज़ से अक़ीदे तक*

यही वजह है कि अहल-ए-सुन्नत के नज़दीक ख़त्म-ए-नुबुव्वत कोई नया या बाद में पैदा होने वाला तसव्वुर नहीं।

यह क़ुरआन के लफ़्ज़ में मौजूद है,
रसूलुल्लाह ﷺ के इरशाद में मौजूद है,
अरबी ज़बान के मोतबर इस्तेमाल में मौजूद है,
और उम्मत के मुफस्सिरीन ने इसे इसी मफ़हूम के साथ बयान किया है।

पस जब मुसलमान "ख़ातमुन-नबिय्यीन" कहता है तो वह सिर्फ़ एक लक़ब नहीं दोहराता; वह एक क़तई हक़ीक़त का इक़रार करता है:

*✅मुहम्मद मुस्तफ़ा ﷺ अल्लाह के आख़िरी नबी हैं।*

*🌺 दिल में उतरने वाली बात*

नुबुव्वत एक ऐसा मुबारक सिलसिला था जिसे अल्लाह तआला ने अपने मुन्तख़ब बंदों के ज़रिए इंसानियत तक हिदायत पहुँचाने के लिए जारी फ़रमाया।

फिर एक दिन वह सिलसिला अपनी तकमील को पहुँचा।

और वह तकमील किसी आम इंसान के ज़रिए नहीं हुई;

वह ताज-ए-ख़त्म-ए-नुबुव्वत हज़रत मुहम्मद ﷺ के सर-ए-अक़दस पर रखा गया।

उसके बाद किसी नए नबी की तलाश बाक़ी न रही,
क्योंकि हिदायत का चराग़ मुकम्मल हो चुका था।

और उम्मत को एक ऐसी शरीअत अता हो गई जो क़ियामत तक के लिए है।

🌹 मुहम्मद ﷺ ख़ातमुन-नबिय्यीन हैं।

यह सिर्फ़ एक लक़ब नहीं;
यह अल्लाह तआला की अता-कर्दा वह हक़ीक़त है जिस पर हमारा ईमान क़ायम है।
उर्दू से हिंदी में लिप्यंतरण मात्र
हवालाजात दिए जा चुके हैं।

*🌿💚 एक दिल को झकझोर देने वाली नसीहत 💚🌿*❌ क्या तूने कभी सुना है कि—*“मरने के बाद फ़लाँ लौट आया और उसने तौबा कर ली।”*🙏🏻🌱 ऐ...
13/08/2026

*🌿💚 एक दिल को झकझोर देने वाली नसीहत 💚🌿*

❌ क्या तूने कभी सुना है कि—

*“मरने के बाद फ़लाँ लौट आया और उसने तौबा कर ली।”*🙏🏻

🌱 ऐ अज़ीज़!
🌱 ऐ मेरे भाई!

❌ तूने अपनी ज़िंदगी खेल-कूद में गँवा दी, जबकि दूसरे लोग अपने मक़सद को पा गए और तू उनसे पीछे रह गया।

दूसरे तो बख़्शिश को पा गए, जबकि तू नफ़्सानी ख़्वाहिशात और तंगदस्ती के ख़ौफ़ में मुब्तिला रहा।

*क्या तूने कभी सुना है कि मरने के बाद फ़लाँ लौट आया और उसने तौबा कर ली?*

*🌸 ऐ वह शख़्स जिसके पास ख़ुश-बख़्त होने का वक़्त मौजूद है!*

तू नफ़्सानी ख़्वाहिशात के चंगुल से कब छुटकारा पाएगा?

और कब अपने इज़्ज़त वाले, ख़ूबियों वाले मौला अज़्ज़ व जल्ल की तरफ़ रुजू करेगा?

---😢 ऐ मिस्कीन!

काश! तू तौबा करने वालों के ग़म और वईद की होलनाकी से ख़ौफ़ज़दा रहने वालों की बेचैनी को देख लेता!

जिन्होंने अपनी आँखों की ठंडक को नमाज़, ज़कात और दुनिया से बे-रग़बती में रखा।

जबकि बदबख़्तों ने अपनी जवानी ग़फ़लत में और अपने बुढ़ापे को हिर्स और लंबी उम्मीदों में बर्बाद कर दिया।

तूने न तो अपनी जवानी से नफ़ा उठाया और न ही अपने बुढ़ापे में रुजू किया।

💔 ऐ अपनी जवानी और बुढ़ापा बर्बाद कर देने वाले!

ज़रा सोच...

वक़्त गुज़र रहा है और मौत किसी वक़्त भी आ सकती है।

📖 अल्लाह तआला इरशाद फ़रमाता है:

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ(۵۱)
(पारा 22, सबा: 51)

🌹 तर्जुमा-ए-कंज़ुल-ईमान:

*“और किसी तरह तू देखे जब वह घबराहट में डाले जाएँगे, फिर बचकर न निकल सकेंगे और एक क़रीब जगह से पकड़ लिए जाएँगे।”*

📚 (बहरुद-दुमूअ, इमाम अब्दुर्रहमान बिन जौज़ी; मुतर्जिम: आँसुओं का दरिया, सफ़्हा 79)
---
*🌿 एक आख़िरी सवाल...*

क्या तूने कभी सुना है कि मौत के बाद किसी को वापस आने का मौक़ा मिला हो?

जब तक साँस बाक़ी है, तौबा का दरवाज़ा खुला है।

आज का वक़्त तेरे पास है...
आज सजदा कर सकता है...
आज आँसू बहा सकता है...
आज अपने मौला की तरफ़ लौट सकता है...

*कल का भरोसा मत कर।*

*🌹 अल्लाह तआला हमें सच्ची तौबा करने, अपनी ज़िंदगी को ग़फ़लत से बचाने और अपनी रज़ा वाले आमाल की तौफ़ीक़ अता फ़रमाए।🙏🏻 आमीन।*

13/08/2026

*ہمارا اسلام __ہمارا اسلام*
حصہ: سوم
سبق نمبر: 19
نماز کی شرائط ( وقت کا بیان)

سوال: نماز کے لئے وقت شرط ہونے کا کیا مطلب ہے ؟
جواب :نماز کے لیے جو اوقات مقرر ہیں۔ نماز کا انہیں محدود وقتوں میں ادا کرنا فرض ہے۔ اگر اس سے پہلے پڑھ لی تو نماز ہوگی ہی نہیں اور وقت گزار کر پڑھے گا تو قضا کہلائے گی اور یہ گنہگار ہوگا۔

سوال: نماز کتنے وقت کی فرض ہے؟
جواب: ہر رات دن میں ہر مسلمان عاقل، بالغ، مرد و عورت پر پانچ وقت کی نماز فرض ہے ۔فجر، ظہر ،عصر، مغرب اور عشاء۔

سوال: فجر کی نماز کا وقت کب سے کب تک رہتا ہے؟
جواب :فجر کی نماز کا وقت صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اور آفتاب کی کرن چمکنے تک رہتا ہے۔ ان شہروں میں یہ وقت کم سے کم ایک گھنٹہ 18 منٹ اور زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ 35 منٹ ہے نہ اس سے کم ہوگا نہ زیادہ۔

سوال : فجر کا مستحق وقت کیا ہے؟
جواب: فجر میں تاخیر مستحب ہے یعنی اسفار جب خوب اجالا ہو اور زمین روشن ہو جائے ایسے وقت میں نماز شروع کرے کہ سنت کے موافق 40 سے 60 آیات پڑھ سکے۔ پھر سلام پھیرنے کے بعد اتنا وقت بعد باقی بچے کہ اگر نماز دوبارہ پڑھنی پڑے تو دوبارہ سنت کے موافق پڑھی جا سکے۔

سوال: صبح صادق کیا ہے ؟
جواب :صبح صادق ایک روشنی ہے جو مشرق کی جانب آسمان کے کنارے میں دکھائی دیتی ہے اور بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ تمام آسمان پر پھیل جاتی ہے اور زمین پر اجالا ہو جاتا ہے اور اس سے پہلے بیچ آسمان پر ایک سفیدی ستون کی طرح ظاہر ہوتی ہے جس کے نیچے سارا افق سیاہ ہوتا ہے اور صبح صادق کے وقت یہ دراز سفیدی غائب ہو جاتی ہے اس کو صبح کاذب کہتے ہیں۔

سوال ؛نماز ظہر کا وقت کیا ہے؟
جواب: ظہر کی نماز کا وقت زوال یعنی سورج ڈھلنے کے بعد سے شروع ہوتا ہے اور ٹھیک دوپہر کے وقت جو سایہ ہو اس کے علاوہ جب ہر چیز کا سایہ اس سے دو مثل (دو گنا) ہو جائے تو ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔

سوال : ظہر کا وقت مستحب کیا ہے ؟
جواب :جاڑوں میں ظہر میں جلدی مستحب ہے اور گرمی کے دنوں میں تاخیر مستحب ہے۔ یعنی جب گرمی کی تیزی کم ہو جائے خواہ تنہا پڑھے یا جماعت کے ساتھ لیکن بہتر یہ ہے کہ ظہر کی نماز ایک مثل میں پڑھے. ہاں گرمیوں میں ظہر کی جماعت اول وقت میں ہوتی ہو تو مستحب وقت کے لیے جماعت کا چھوڑ دینا جائز نہیں۔

سوال: عصر کا وقت کب تک رہتا ہے ؟
جواب :جب ہر چیز کا سایہ سوا سایہ اصلی کے دو مثل ہو جائے تو ظہر کا وقت ختم ہو کر عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور غروب آفتاب تک رہتا ہے. ان شہروں میں وقت عصر کم از کم ایک گھنٹہ 35 منٹ اور زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے چھ منٹ ہے۔

سوال :عصر کا مستحب وقت کیا ہے؟
جواب :اس کی نماز میں ہمیشہ تاخیر (دیر) کر کے پڑھنا مستحب ہے. مگر اتنی دیر نہ کریں کہ آفتاب بہت نیچے اور زرد ہو جائے اور اس پر بے تکلف نگاہ ٹھہرنے لگے ورنہ نماز مکروہ ہو جائے گی۔ اور سورج اور یہ زردی اس وقت آ جاتی ہے جب غروب میں 20 منٹ باقی رہتے ہیں۔ تو اسی قدر وقت کراہت ہے ۔
جاری ہے۔۔

( ہمارا اسلام از مفتی محمّد خلیل خاں برکاتی رحمۃ اللہ علیہ صفحہ 131_ 132)

*हमारा इस्लाम __ हमारा इस्लाम*हिस्सा: सोमसबक़ नंबर: 19*नमाज़ की शरायत(वक़्त का बयान)*सवाल: नमाज़ के लिए वक़्त शर्त होने ...
13/08/2026

*हमारा इस्लाम __ हमारा इस्लाम*
हिस्सा: सोम
सबक़ नंबर: 19
*नमाज़ की शरायत(वक़्त का बयान)*

सवाल: नमाज़ के लिए वक़्त शर्त होने का क्या मतलब है?
जवाब: नमाज़ के लिए जो औक़ात मुक़र्रर हैं, नमाज़ का उन्हें महदूद वक़्तों में अदा करना फ़र्ज़ है। अगर इस से पहले पढ़ ली तो नमाज़ होगी ही नहीं और वक़्त गुज़ार कर पढ़ेगा तो क़ज़ा कहलाएगी और यह गुनहगार होगा।

सवाल: नमाज़ कितने वक़्त की फ़र्ज़ है?
जवाब: हर रात-दिन में हर मुसलमान, आक़िल, बालिग़, मर्द व औरत पर पाँच वक़्त की नमाज़ फ़र्ज़ है — फ़ज्र, ज़ुहर, अस्र, मग़रिब और इशा।

सवाल: फ़ज्र की नमाज़ का वक़्त कब से कब तक रहता है?
जवाब: फ़ज्र की नमाज़ का वक़्त सुबह-सादिक़ से शुरू होता है और आफ़ताब की किरण चमकने तक रहता है। इन शहरों में यह वक़्त कम से कम एक घंटा 18 मिनट और ज़्यादा से ज़्यादा एक घंटा 35 मिनट है — न इस से कम होगा न ज़्यादा।

सवाल: फ़ज्र का मुस्तहब वक़्त क्या है?
जवाब: फ़ज्र में ताख़ीर मुस्तहब है यानी अस्फ़ार — जब ख़ूब उजाला हो और ज़मीन रोशन हो जाए — ऐसे वक़्त में नमाज़ शुरू करे कि सुन्नत के मुताबिक़ 40 से 60 आयात पढ़ सके। फिर सलाम फेरने के बाद इतना वक़्त बाकी बचे कि अगर नमाज़ दुबारा पढ़नी पड़े तो दुबारा सुन्नत के मुताबिक़ पढ़ी जा सके।

सवाल: सुबह-सादिक़ क्या है?
जवाब: सुबह-सादिक़ एक रोशनी है जो मशरिक़ की जानिब आसमान के किनारे में दिखाई देती है और बढ़ती जाती है यहाँ तक कि तमाम आसमान पर फैल जाती है और ज़मीन पर उजाला हो जाता है। और इस से पहले बीच आसमान पर एक सफ़ेदी सुतून की तरह ज़ाहिर होती है जिसके नीचे सारा उफ़क़ सियाह होता है, और सुबह-सादिक़ के वक़्त यह दराज़ सफ़ेदी ग़ायब हो जाती है — इस को सुबह- काज़िब कहते हैं।

सवाल: नमाज़-ए-ज़ुहर का वक़्त क्या है?
जवाब: ज़ु़हर की नमाज़ का वक़्त ज़वाल यानी सूरज ढलने के बाद से शुरू होता है, और ठीक दोपहर के वक़्त जो साया हो, उसके अलावा जब हर चीज़ का साया उस से दो मिस्ल (दो गुना) हो जाए तो ज़ु़हर का वक़्त ख़त्म हो जाता है।

सवाल: ज़ु़हर का मुस्तहब वक़्त क्या है?
जवाब: जाड़ों में ज़ु़हर में जल्दी मुस्तहब है और गर्मी के दिनों में ताख़ीर मुस्तहब है — यानी जब गर्मी की तेज़ी कम हो जाए, ख़्वाह तन्हा पढ़े या जमाअत के साथ, लेकिन बेहतर यह है कि ज़ु़हर की नमाज़ एक मिस्ल में पढ़े। हाँ, गर्मियों में ज़ु़हर की जमाअत अव्वल वक़्त में होती हो तो मुस्तहब वक़्त के लिए जमाअत का छोड़ देना जाइज़ नहीं।

सवाल: अस्र का वक़्त कब तक रहता है?
जवाब: जब हर चीज़ का साया सिवा साया-ए-अस्ली के दो मिस्ल हो जाए तो ज़ु़हर का वक़्त ख़त्म होकर अस्र का वक़्त शुरू हो जाता है और ग़ुरूब-ए-आफ़ताब तक रहता है। इन शहरों में वक़्त-ए-अस्र कम से कम एक घंटा 35 मिनट और ज़्यादा से ज़्यादा दो घंटे 6 मिनट है।

सवाल: अस्र का मुस्तहब वक़्त क्या है?
जवाब: इसकी नमाज़ में हमेशा ताख़ीर (देर) करके पढ़ना मुस्तहब है, मगर इतनी देर न करें कि आफ़ताब बहुत नीचे और ज़र्द हो जाए और उस पर बेतकल्लुफ़ निगाह ठहरने लगे, वरना नमाज़ मकरूह हो जाएगी। और सूरज और यह ज़र्दी उस वक़्त आ जाती है जब ग़ुरूब में 20 मिनट बाकी रहते हैं, तो इसी क़दर वक़्त कराहत है।
जारी है...

(हमारा इस्लाम — मौलाना मुफ़्ती मुहम्मद ख़लील ख़ाँ बरकाती रहमतुल्लाहि अलैहि ,सफ़्हा 131–132)

13/08/2026

❌*کیا تو نے کبھی سنا ہے کہ (مرنے کے بعد) فلاں لوٹ آیا اور اس نے توبہ کر لی*۔

🌱اے عزیز!
🌱اے میرے بھائی !

❌ تو نے اپنی زندگی کھیل کود میں گنوادی جبکہ دوسرے لوگ مقصود کو پاگئے اور توان سے پیچھے رہ گیا،
دوسرے تو بخشش کو پا گئے جبکہ تو نفسانی خواہشات اور تنگدستی کے خوف میں مبتلا رہا، کیا تو نے کبھی سنا ہے کہ (مرنے کے بعد) فلاں لوٹ آیا اور اس نے توبہ کر لی۔

اے وہ شخص جس کے پاس خوش بخت ہونے کا وقت موجود ہے !!!

تو نفسانی خواہشات کے چنگل سے کب چھٹکارا پائے گا اور کب اپنے عزت والے ، خوبیوں والے مولا عَزَّ وَجَلَّ کی طرف رجوع کرے گا ؟

اے مسکین !

کاش تو تو بہ کرنے والوں کے غم اور وعید کی ہولناکی سے خوف زدہ رہنے والوں کی بے قراری کو دیکھ لیتا کہ جنہوں نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کونماز‘ زکوٰۃ اور دنیا سے بے رغبتی میں رکھا، جبکہ بدبختوں نے اپنی جوانیاں غفلت میں اور بڑھاپے حرص اور لمبی امیدوں میں برباد کر دیئے ، تو نے نہ تو اپنی جوانی سے نفع اٹھایا اور نہ ہی اپنے بڑھاپے میں رجوع کیا ،

اے اپنی جوانی اور بڑھاپا بر باد کردینے والے ۔۔۔۔۔۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ(۵۱)
(پ۲۲، سبا : ۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان : اور کسی طرح تو دیکھے جب وہ گھبراہٹ میں ڈالے جائیں گے پھر بچ کر نہ نکل سکیں گے اور ایک قریب جگہ سے پکڑ لئے جائیں گے ۔

(بحر الدموع از امام عبدالرحمن بن الجوزی مترجم آنسوؤں کا دریا صفحہ -79)

🌹 आज की हदीस शरीफ़📖 मिरआतुल मनाजीह — जिल्द-3हदीस नंबर: 410रिवायत है हज़रत सईद इब्ने मुसय्यब रज़ियल्लाहु तआला अन्हु से, इ...
13/08/2026

🌹 आज की हदीस शरीफ़
📖 मिरआतुल मनाजीह — जिल्द-3
हदीस नंबर: 410

रिवायत है हज़रत सईद इब्ने मुसय्यब रज़ियल्लाहु तआला अन्हु से, इर्सालन, वह नबी-ए-करीम ﷺ से रावी कि फ़रमाया:

जो *“क़ुल हुवल्लाहु अहद”*
*«قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ»*

दस (10) बार पढ़े, अल्लाह उसके लिए जन्नत में एक महल तैयार करेगा, और जो बीस (20) बार पढ़े, अल्लाह उसकी बरकत से जन्नत में दो महल बनाएगा, और जो इसे तीस (30) बार पढ़े, अल्लाह उसकी बरकत से जन्नत में तीन महल तैयार करेगा।

1؎ हज़रत उमर इब्ने ख़त्ताब रज़ियल्लाहु तआला अन्हु ने अर्ज़ किया: या रसूलल्लाह! तब तो अल्लाह की क़सम! हम अपने महल बहुत बनवा लेंगे 2؎ रसूलुल्लाह ﷺ ने फ़रमाया: अल्लाह इससे भी ज़्यादा वुसअत वाला है।³

(दारमी)

✨ शरह

1؎ ख़ुलासा यह है कि हर दस बार पर एक बे-मिसाल महल का अतिया है। यह तकरार इसलिए मज़कूर हुई कि कोई शख़्स यह ख़याल न कर ले कि महल की अता सिर्फ़ पहले दस बार पर ही है, बाद में नहीं। वुसअत-ए-अता ज़ाहिर फ़रमाने के लिए इरशाद फ़रमाया कि जितनी दफ़ा दस बार पढ़ोगे, उतने ही महल पाओगे।

2؎ यह अर्ज़-मअरूज़ तअज्जुब के तौर पर है कि अगर रब की अता का यह हाल है, तो हम में से हर शख़्स ख़ूब सूरह-ए-इख़लास की तिलावत किया करेगा और ख़ूब महल बनवाएगा।

3؎ यानी ऐ उमर! तुम इस अता पर तअज्जुब न करो। रब की जन्नत बहुत वसीअ है और उसकी अता बहुत ज़्यादा है। अगर तमाम इंसान ईमान लाकर हज़ारहा बार रोज़ाना सूरह-ए-इख़लास की तिलावत किया करें, तो हर एक को उसी हिसाब से जन्नती महल अता फ़रमाएगा और उसके ख़ज़ानों में कुछ भी कमी न होगी।

हुज़ूर-ए-अनवर ﷺ रब तआला की अता के मज़हर-ए-अतम हैं। हुज़ूर-ए-अनवर ﷺ ने बाज़ मौक़ों पर मामूली ख़िदमत पर जन्नत बख़्श दी।

🌹 शेर

झोलियाँ खोले हुए यूँ ही न दौड़े आते
हमको मालूम है दौलत तेरी, आदत तेरी

آج کی حدیث شریفمرآۃ المناجیح جلد-تین حدیث نمبر 410روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے ارسالًا وہ نبی کریم صل...
13/08/2026

آج کی حدیث شریف
مرآۃ المناجیح جلد-تین
حدیث نمبر 410

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے ارسالًا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا

جو قل ہو ﷲ احد دس۱۰ بار پڑھے ﷲ اس کے لیے جنت میں محل تیار کرے گا اور جو بیس بار پڑھے ﷲ اس کی برکت سے جنت میں دو محل بنائے گا اور جو اسے تیس بار پڑھے ﷲ اس کی برکت سے جنت میں تین محل تیار کرے گا ۱؎حضرت عمر ابن الخطاب نے عرض کیا یارسول ﷲ تب تو ﷲ کی قسم ہم اپنے محل بہت بنوالیں گے ۲؎ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ﷲ اس سے بھی زیادہ وسعت والا ہے۔۳؎

(دارمی)

شرح

۱؎ خلاصہ یہ ہے کہ ہر دس بار پر ایک بے مثل محل کا عطیہ ہے،یہ تکرار اس لیے مذکور ہوئی کہ کوئی شخص یہ نہ خیال کر لے کہ محل کی عطا صرف پہلے دس بار پر تو ہے،بعد میں نہیں،وسعت عطا ظاہر فرمانے کے لیے ارشاد فرمایا کہ جتنی دفع ۱۰ بار پڑھو گے اتنے ہی محل پاؤ گے۔

۲؎ یہ عرض معروض تعجب کے طور پر ہے کہ اگر رب کی عطا کا یہ حال ہے تو ہم میں سے ہر شخص خوب سورۂ اخلاص کی تلاوت کیا کرے گا اور خوب محل بنوائے گا۔

۳؎ یعنی اے عمر تم اس عطاء پر تعجب نہ کرو،رب کی جنت بہت وسیع ہے اور اس کی عطاء بہت زیادہ اگر تمام انسان ایمان لا کر ہزارہا بار روزانہ سورۂ اخلاص کی تلاوت کیا کریں تو ہر ایک کو اسی حساب سے جنتی محل عطا فرمائے گا اور اس کے خزانوں میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم رب تعالٰی کی عطا کے مظہر اتم ہیں۔ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بعض موقعہ پر معمولی خدمت پر جنت بخش دی۔
شعر
جھولیاں کھولے ہوئے یونہی نہ دوڑے آتے
ہم کو معلوم ہے دولت تری عادت تیری

Address

Jogeshwari West
Mumbai
400102

Opening Hours

Monday 8am - 6am
Tuesday 8am - 6am
Wednesday 8am - 6am
Thursday 8am - 6am
Friday 8am - 6am
Saturday 8am - 6am
Sunday 8am - 11am

Telephone

+919867362964

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rajasthan constructions corp posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rajasthan constructions corp:

Shortcuts

Share