Rajasthan constructions corp

Call Directions Website Contact the business

Rajasthan constructions corp We are in construction activities for the past three generation & combining all we have constructed c

We are in construction activities for the past three generation & combining all we have constructed countless number of building, Industrial building, Factory sheds, etc. to the entire satisfaction of our Clients / Architects / Consultants & for the past 30 years we are specialized in repairs, New Construction & Interior Works.

18/10/2026

🌿 بروزِ اتوار — ﴿سلسلۂ فقہی مسائل﴾ 🌿

​عنوان: احکامِ غسل و طهارت، اور آدابِ جنبی:

”فرض غسل کیے بغیر کام کاج کرنے اور کھانے پینے کا کیا حکم ہے؟“

​مسئلہ: غسلِ فرض کی حالت میں امورِ خانہ داری اور کھانے پینے کا شرعی ضابطہ درج ذیل ہے:

​کام کاج کرنے کا حکم:

غسل فرض ہونے کی حالت میں گھر کا کام کاج کرنا، کپڑے بدلنا یا دیگر روزمرہ کے امور انجام دینا جائز ہے، اس میں کوئی گناہ نہیں۔

​غسل میں تاخیر کی ممانعت:

جس پر غسل واجب ہو، اسے چاہیے کہ بلاوجہ نہانے میں تاخیر نہ کرے۔ احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ جس گھر میں ناپاک (جنبی) شخص ہو وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
​حالتِ جنابت میں کھانے پینے کا حکم: اگر بے غسل شخص کچھ کھانا یا پینا چاہے، تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ ہاتھ منہ دھو لے، کلی کر لے یا نماز جیسا وضو کر لے۔ اگر بغیر ہاتھ منہ دھوئے ویسے ہی کھا پی لیا تو گناہ تو نہیں، لیکن یہ عمل قساوتِ قلب (دل کی سختی) اور فقر و محتاجی کا سبب بنتا ہے۔
​📋 فقہی عبارت اور مستند دلیل:
​مصنف عبد الرزاق اور بہارِ شریعت:
​"إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ جِنَازَةَ كَافِرٍ بِخَيْرٍ، وَلَا جُنُبًا حَتَّى يَغْتَسِلَ أَوْ يَتَوَضَّأَ وُضُوءَ الصَّلَاةِ..."

” بے شک فرشتے کافر مردے کے پاس بھلائی کے ساتھ حاضر نہیں ہوتے اور جنبی شخص کے پاس بھی نہیں آتے جب تک وہ غسل نہ کر لے یا نماز جیسا وضو نہ کر لے۔“

اور بہارِ شریعت میں ہے:
”جس پر غسل واجب ہے اسے چاہیے کہ نہانے میں تاخیر نہ کرے۔ حدیث میں ہے جس گھر میں جنب ہو اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے... اور کھانا کھانا یا عورت سے ج**ع کرنا چاہتا ہے تو وضو کر لے یا ہاتھ مونھ دھولے، کلی کر لے اور اگر ویسے ہی کھا پی لیا تو گناہ نہیں مگر مکروہ ہے اور محتاجی لاتا ہے۔“

(ملتقط از مصنف عبد الرزاق، جلد 1، صفحہ 217 اور بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 225، مکتبۃ المدینہ)
​📜 تحقیقی حوالہ جات (بمع مکتبہ و مطبوعہ):
​بہارِ شریعت: جلد 1، حصہ سوم، صفحہ 225، غسل کا بیان (مبحث جنبی کے لیے کھانے پینے سے قبل وضو کا حکم)، (مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)۔
​مصنف عبد الرزاق: جلد 1، صفحہ 217، كتاب الطهارة / باب طهارة الجنب وأكله وشربه، (مطبوعہ: المجلس العلمي، الهند / دار الكتب العلمية، بيروت)۔
​رد المحتار على الدر المختار (فتاویٰ شامی): جلد 1، صفحہ 341، كتاب الطهارة / باب الغسل (مبحث ما يكره للجنب وما يستحب له قبل الأكل)، (مطبوعہ: ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی)۔
​دعائیہ جملہ: اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہری و باطنی طهارت کا اہتمام کرنے، سستی و غفلت سے بچنے اور سنتِ مبارکہ کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!
​ایصالِ ثواب:
یا اللہ! اس فقہی مسئلے کے سیکھنے، سکھانے اور اس پر عمل کی نیت کا جو ثواب ہے، اسے میری مرحومہ والدہ کے نامۂ اعمال میں روشن نور بنا کر داخل فرما۔ مولا! ان کی تمام لغزشوں کو معاف فرما، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا اور انہیں بلند درجات عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین!
*_​​​​​​​​​​​​​​​​​​​​تاریخ: اتوار ، 18 اکتوبر 2026ء | 6 جمادی الاول 1448ھ | 4 کاتک 2083 (بکرمی)_*
*ڈیلی فرمانِ مصطفٰےﷺوفقہی مسائل اور ہفتہ وارخطبۂ جمعۃ المبارک برائےایصالِ ثواب والدہ مرحومہ مغفورہ حافظ علم دین مصطفائی*

18/10/2026

« عوام کی بد حالی کی وجہ علماءِ سوء ہیں اور علماء سوء کی علامت کیا ہے »

#طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 186

مذہبی طبقہ کو یہ بات ماننی پڑے گی کہ *عوام کی بد حالی علماء کی وجہ سے ہے*
علماء لا یعنی {فضول} ابحاث میں پڑیں گے تو عوام عمل سے دور نہیں ہوگی ؟
جب *مقتداء* {رہنماء}بھٹک جائیں تو *مقتدی* {پیچھے چلنے والے} والے ہدایت کیسے پائیں گے ؟؟؟
ہر فرقے کے زعماء بشمول اھلِ سنت کے علماء عقائد پہ زور دیتے ہیں تو کیا چودہ سو سال سے عقائد واضح نہیں ہو پائے ؟
*عمل کی باری کب آئے گی ؟*
عقائد کی اہمیت مسلم ہے مگر عمل ؟
گنے چنے علماء عمل پہ زور دیتے ہیں
*اصل بات بتاؤں جو کڑوی ہے کہ علماء خود عمل کرنے والے نہیں ہیں*
عوام کو پیچھے لگانے کے لیئے اختلافی ابحاث کا سہارا لیتے ہیں
یہ دور آخری دور ہے
اس کے بارے حدیثِ مبارکہ میں آیا
مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے
حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
> يُوشك أن يأتي على الناس زمانٌ لا يبقَى من الإسلام إلاّ اسمه، ولا يبقَى من القرآن إلاّ رسمُه، مساجدهم عامرةٌ، وهي خرابٌ من الهُدى، علماؤهم شرّ من تحت أديم السماء من عندهم تخرجُ الفتنةُ وفيهم تعود
لوگوں پر جلد ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام کا صرف نام رہ جائے گا اور قرآن صرف لکھا رہ جائے گا
ان کی مساجد آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی ہوں گی
ان کے علماء آسمان کے نیچے سب سے زیادہ شر والے ہوں گے فتنہ ان سے نکلے گا اور انہیں میں پلٹ جائے گا
« *شعب الايمان ج ٣ ص ٣١٨* »
آپ علماءِ سوء کے بارے احادیث پڑھیں تو صاف نظر آئے گا کہ مراد بد عمل علماء ہیں
تو جو مناظرانہ ابحاث میں الجھا کے رکھتے ہیں اور خود بے عمل ہوتے ہیں وہ علماء سوء نہیں تو کیا ہے ؟
ان کے دل بندر و خنازیر جیسے ہیں
اور جب غضبِ الٰہی پکڑ کرے گا تو ان کے ساتھ کیا ہوگا وہ حدیثِ مبارکہ میں یوں فرمایا
> تكون فِي أمتِي فزعة فَيصير النَّاس إِلَى عُلَمَائهمْ فَإِذا هم قردة وَخَنَازِير
میری امت میں مصیبت آئے گی تو لوگ اپنے علماء کے پاس جائیں گے تو دیکھیں گے علماء بندر و خنزیر بن چکے ہیں
« *نوادر الأصول في أحاديث الرسول ج ٢ ص ١٩٦* »
حکیم ترمذی فرماتے ہیں
علماءِ سوء دو طرح کے ہیں
ایک جو باطل و نا حق مال ایسے جمع کرتے ہیں جیسے خںزیز غلاظت جمع کرتا ہے
دوسرے ریاکار و بناوٹ والے اور خواہشات و دنیا کے پیچھے بھاگنے والے ہیں
بہر حال علماءِ سوء سے مراد فتنہ گر بے عمل مراد ہیں
اور *یہ وجود رکھتے ہیں*
اپنے زمانے میں بے عمل علماء علماءِ سوء ہیں
وہی جو مسلمانوں میں عناد پھیلاتے ہیں
اختلافی ابحاث کرتے ہیں اور عمل کی بات نہیں کرتے
آپ ایک کام کریں
*جن علماء کو سنتے پڑھتے ہیں جن کی صحبت میں بیٹھتے ہیں غور کریں وہ عمل پہ کتنا زور دیتے ہیں اور اختلافی موضوعات پر کتنا کلام کرتے ہیں؟*
آپ کے سامنے سب سچ کھل کے آ جائے گا
آپ کو بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جو ہمیشہ اختلافی موضوعات چھیڑتے ہیں
ہم سنی ہیں ہم حق پر ہیں الحمد للہ مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ نہ عمل کریں نہ کروائیں
*اگر ایسے کسی عالم سے تعلق ہے تو ختم کر دیں ورنہ آپ کا دل مسخ ہو جائے گا*
✍️

آج کی حدیث شریف مرآۃ المناجیح جلد-تین  "باب ﷲ عز و جل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا" پہلی فصلحدیث نمبر 485روایت ہے حضرت...
18/10/2026

آج کی حدیث شریف
مرآۃ المناجیح جلد-تین

"باب ﷲ عز و جل کا ذکر اور اس سے قرب حاصل کرنا"
پہلی فصل

حدیث نمبر 485

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ ﷺ نے

ایسی کوئی ج**عت نہیں جو ﷲ کے ذکر کے لیے بیٹھے ۱؎ مگر انہیں فرشتے گھیر لیتے ہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے ۲؎ ان پر سکینہ اترتا ہے ۳؎ اور اپنے پاس والے فرشتوں میں ﷲ ان کا ذکر کرتا ہے ۔۴؎

(مسلم)

شرح

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ بیٹھنے سے مراد کھڑے ہونے کے مقابل ہے،لہذا اس جملہ سے دو مسئلے معلوم ہوئے:

ایک یہ کہ ذکر ﷲ بیٹھ کر کرنا افضل ہے کہ اس میں سکون زیادہ ہوتا ہے۔

دوسرے یہ کہ ذکر ﷲ ج**عت میں کرنا افضل ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے ممکن ہے کہ بیٹھنے سے مراد ہمیشہ ذکر ﷲ کرنا ہو نیکی ہمیشہ کرنا افضل ہے۔

۲؎ یہاں فرشتوں سے مراد وہ فرشتے ہیں جو زمین کا چکر لگاتے رہتے ہیں ذکر الٰہی کے طبقے ڈھونڈھتے پھرتے ہیں اور رحمت سے مراد خاص رحمت الٰہی ہے جو ذاکرین کے لیے مخصوص ہے لہذا اس جملہ پر یہ اعتراض نہیں کہ فرشتے تو انسان کو ہر وقت ہی گھیرے رہتے ہیں کیونکہ ہر وقت ساتھ رہنے والے فرشتے حافظین ہیں۔

۳؎ سکینہ سے مراد یا تو خاص ملائکہ ہیں یا دل کا نور یا دلی چین و سکون ہے ﷲ کے ذکر سے دل کو چین نصیب ہوتا ہے رب تعالٰی فرماتاہے:

"اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ"
اور فرماتاہے:
"ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ فِیۡ قُلُوۡبِ الْمُؤْمِنِیۡنَ"۔

۴؎ یعنی ﷲ تعالٰی کے ملائکہ مقربین ہیں جو ہمیشہ اس کے پاس رہتے ہیں انتظام عالم کے لیے نہیں آتے اور ارواح انبیاءعلیہم السلام و اولیاء عظام میں لوگوں کا ذکر فخر سے عزت وعظمت سے کرتے ہیں۔
(مرقاۃ)

یہ حدیث اس آیت کی شرح ہے"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"پھرجس طرح بندہ رب کو یاد کرتا ہے اسی طرح رب بندے کو مثلًا بندہ کہتاہے کہ مولیٰ میں گنہگار ہوں رب فرماتا ہے میرے بندے میں غفار ہوں وغیرہ۔

🌹*आज की हदीस शरीफ़*🌹 📚 मिरआतुल मनाजीह — जिल्द तीन*📖 बाब: अल्लाह अज़्ज़ व जल्ल का ज़िक्र और उससे क़ुर्ब हासिल करना* पहली ...
18/10/2026

🌹*आज की हदीस शरीफ़*🌹
📚 मिरआतुल मनाजीह — जिल्द तीन

*📖 बाब: अल्लाह अज़्ज़ व जल्ल का ज़िक्र और उससे क़ुर्ब हासिल करना* पहली फ़स्ल
हदीस नंबर: 485

रिवायत है हज़रत अबू हुरैरा और हज़रत अबू सईद ख़ुदरी रज़ियल्लाहु तआला अन्हुमा से फ़रमाते हैं फ़रमाया रसूलुल्लाह ﷺ ने :

*ऐसी कोई जमाअत नहीं जो अल्लाह के ज़िक्र के लिए बैठे¹؎ , मगर उन्हें फ़रिश्ते घेर लेते हैं, रहमत ढाँप लेती है ~², उन पर सकीना उतरता है³~ और अल्लाह अपने पास वाले फ़रिश्तों में उनका ज़िक्र फ़रमाता है।*⁴؎

(मुस्लिम)

📚 शरह (व्याख्या)

¹؎ ज़ाहिर यह है कि बैठने से मुराद खड़े होने के मुक़ाबले में है। लिहाज़ा इस जुमले से दो मसले मालूम हुए:

*एक यह कि ज़िक्रुल्लाह बैठकर करना अफ़ज़ल है, क्योंकि इसमें सुकून ज़्यादा होता है।*

*दूसरे यह कि ज़िक्रुल्लाह जमाअत में करना अफ़ज़ल है, जैसा कि आगे आ रहा है। मुमकिन है कि बैठने से मुराद हमेशा ज़िक्रुल्लाह करना हो। नेकी हमेशा करना अफ़ज़ल है।*

*²؎ यहाँ फ़रिश्तों से मुराद वे फ़रिश्ते हैं जो ज़मीन का चक्कर लगाते रहते हैं और ज़िक्रे इलाही की मजलिसें ढूँढ़ते फिरते हैं। और रहमत से मुराद ख़ास रहमते इलाही है, जो ज़ाकिरीन के लिए मख़्सूस है।*

*लिहाज़ा इस जुमले पर यह एतिराज़ नहीं कि फ़रिश्ते तो इंसान को हर वक़्त ही घेरे रहते हैं, क्योंकि हर वक़्त साथ रहने वाले फ़रिश्ते हाफ़िज़ीन हैं।*

*³؎ सकीना से मुराद या तो ख़ास मलाइका हैं, या दिल का नूर, या दिली चैन व सुकून है। अल्लाह के ज़िक्र से दिल को चैन नसीब होता है। रब्ब तआला फ़रमाता है:*

﴿اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ﴾

और फ़रमाता है:

﴿ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ فِیۡ قُلُوۡبِ الْمُؤْمِنِیۡنَ﴾

*⁴؎ यानी अल्लाह तआला के मलाइका-ए-मुक़र्रबीन हैं, जो हमेशा उसके पास रहते हैं और इंतिज़ामे आलम के लिए नहीं आते। वे अरवाहे अम्बिया अलैहिमुस्सलाम और औलिया-ए-इज़ाम में लोगों का ज़िक्र फ़ख़्र, इज़्ज़त व अज़मत के साथ करते हैं।*

(मिरक़ात)

📖 ये हदीस इस आयत की शरह है:

﴿فَاذْكُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ﴾

(यानी तुम मुझे याद करो, मैं तुम्हें याद करूँगा।)

फिर जिस तरह बंदा रब को याद करता है, इसी तरह रब बंदे को याद फ़रमाता है। मसलन, बंदा कहता है: मौला! मैं गुनहगार हूँ। रब फ़रमाता है: मेरे बंदे! मैं ग़फ़्फ़ार हूँ। वग़ैरह।

17/10/2026

🌹*अल्लाह के वलियों के औसाफ़ और अलामात*🌹

इरशादे बारी तआला है:

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)

*तर्जुमा कन्ज़ुल ईमान: सुन लो! बेशक अल्लाह के वलियों पर न कुछ ख़ौफ़ है, न कुछ ग़म। वह जो ईमान लाए और परहेज़गारी करते हैं।*

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ ..: सुन लो! बेशक अल्लाह के वलियों।}

*लफ़्ज़ “वली” विला से बना है, जिसका मअना क़ुर्ब और नुसरत है। वलिय्युल्लाह वह है जो फ़राइज़ की अदायगी से अल्लाह अज़्ज़ व जल्ल का क़ुर्ब हासिल करे और अल्लाह तआला की इताअत में मशग़ूल रहे और उसका दिल अल्लाह तआला के नूरे जलाल की मअरिफ़त में मुस्तग़रक़ हो। जब देखे, क़ुदरते इलाही के दलाइल को देखे और जब सुने, अल्लाह अज़्ज़ व जल्ल की आयतें ही सुने और जब बोले, तो अपने रब अज़्ज़ व जल्ल की सना ही के साथ बोले और जब हरकत करे, इताअते इलाही में हरकत करे और जब कोशिश करे, तो उसी काम में कोशिश करे जो क़ुर्बे इलाही का ज़रिया हो। अल्लाह अज़्ज़ व जल्ल के ज़िक्र से न थके और चश्मे दिल से ख़ुदा के सिवा ग़ैर को न देखे।*

*यह सिफ़त औलिया की है। बंदा जब इस हाल पर पहुँचता है, तो अल्लाह अज़्ज़ व जल्ल उसका वली व नासिर और मुईन व मददगार होता है।*

🌷*वलिय्युल्लाह की अलामात*

उलमा ने “वलिय्युल्लाह” की कसीर अलामात बयान फ़रमाई हैं, जैसे मुतकल्लिमीन यानी इल्मे कलाम के माहिर उलमा कहते हैं:

*“वली वह है जो सहीह और दलील पर मबनी एतिक़ाद रखता हो और शरीअत के मुताबिक़ नेक आमाल बजा लाता हो।”*

*बाज़ आरिफ़ीन ने फ़रमाया कि विलायत क़ुर्बे इलाही और हमेशा अल्लाह अज़्ज़ व जल्ल के साथ मशग़ूल रहने का नाम है। जब बंदा इस मक़ाम पर पहुँचता है, तो उसको किसी चीज़ का ख़ौफ़ नहीं रहता और न किसी शै के फ़ौत होने का ग़म होता है।*

हज़रत अब्दुल्लाह बिन अब्बास रज़ियल्लाहु तआला अन्हुमा ने फ़रमाया कि:

🌿*वली वह है जिसको देखने से अल्लाह तआला याद आए।*

यही तबरि की हदीस में भी है।

इब्ने ज़ैद ने कहा कि:

🌿*वली वही है जिसमें वह सिफ़त हो जो उससे अगली आयत में मज़कूर है।*

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)

यानी ईमान व तक़्वा दोनों का जामेअ हो।

बाज़ उलमा ने फ़रमाया कि:

*वली वह हैं जो ख़ालिस अल्लाह के लिए मुहब्बत करें।*

*औलिया की यह सिफ़त बकसरत अहादीस में ज़िक्र हुई है। बाज़ बुज़ुर्गाने दीन ने फ़रमाया:*

*वली वह हैं जो इताअत यानी फ़रमाँबरदारी से क़ुर्बे इलाही की तलब करते हैं और अल्लाह तआला करामत से उनकी कारसाज़ी फ़रमाता है, या वह जिनकी हिदायत का दलील के साथ अल्लाह तआला कफ़ील हो और वह अल्लाह तआला का हक़्क़े बंदगी अदा करने और उसकी मख़लूक़ पर रहम करने के लिए वक़्फ़ हो गए।*

📚 (ख़ाज़िन, यूनुस, तहतुल आयत: ६२, २/३२२–३२३)

📖 (तफ़सीर सिरातुल जिनान फ़िल क़ुरआन, हिस्सा चहारुम, पारा १० ता १२, सफ़्हा ११६)

17/10/2026

"اللہ کے ولیوں کے اوصاف اور علامات"

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم۔وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں۔

{اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ: سن لو! بیشک اللہ کے ولیوں۔}

لفظِ ’’ولی‘‘ وِلَاء سے بناہے جس کا معنی قرب ا ور نصرت ہے۔ وَلِیُّ اللہ وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول رہے اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کے نورِ جلال کی معرفت میں مستغرق ہو ،جب دیکھے قدرتِ الہٰی کے دلائل کو دیکھے اور جب سنے اللہ عَزَّ وَ جَلَّ کی آیتیں ہی سنے اور جب بولے تو اپنے رب عَزَّ وَ جَلَّ کی ثنا ہی کے ساتھ بولے اور جب حرکت کرے، اطاعتِ الہٰی میں حرکت کرے اور جب کوشش کرے تو اسی کام میں کوشش کرے جو قربِ الہٰی کاذریعہ ہو، اللہ عَزَّ وَ جَلَّ کے ذکر سے نہ تھکے اور چشمِ دل سے خدا کے سوا غیر کو نہ دیکھے۔

یہ صفت اَولیاء کی ہے، بندہ جب اس حال پر پہنچتا ہے تو اللہ عَزَّ وَ جَلَّ اس کا ولی و ناصر اور معین و مددگار ہوتا ہے۔

وَلِیُّ اللہ کی علامات:

علماء نے ’’ ولی اللہ‘‘ کی کثیر علامات بیان فرمائی ہیں ، جیسے متکلمین یعنی علمِ کلام کے ماہر علماء کہتے ہیں:

’’ولی وہ ہے جو صحیح اور دلیل پر مبنی اعتقاد رکھتا ہو اور شریعت کے مطابق نیک اعمال بجا لاتا ہو۔

بعض عارفین نے فرمایا کہ ولایت قربِ الہٰی اور ہمیشہ اللہ عَزَّ وَ جَلَّ کے ساتھ مشغول رہنے کا نام ہے،جب بندہ اس مقام پر پہنچتا ہے تو اس کو کسی چیز کا خوف نہیں رہتا اور نہ کسی شے کے فوت ہونے کا غم ہوتا ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ

ولی وہ ہے جس کو دیکھنے سے اللہ تعالیٰ یاد آئے،
یہی طبری کی حدیث میں بھی ہے۔

ابنِ زید نے کہا کہ
ولی وہی ہے جس میں وہ صفت ہو جو اس سے اگلی آیت میں مذکور ہے۔ ’’اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ‘‘ یعنی ایمان و تقویٰ دونوں کا جامع ہو۔

بعض علماء نے فرمایا کہ

ولی وہ ہیں جو خالص اللہ کے لئے محبت کریں۔

اَولیاء کی یہ صفت بکثرت اَحادیث میں ذکر ہوئی ہے۔بعض بزرگانِ دین نے فرمایا:

ولی وہ ہیں جو طاعت یعنی فرمانبرداری سے قربِ الہٰی کی طلب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کرامت سے ان کی کارسازی فرماتا ہے،
یا وہ جن کی ہدایت کا دلیل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کفیل ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کا حقِ بندگی ادا کرنے اور اس کی مخلوق پر رحم کرنے کے لئے وقف ہوگئے ۔

(خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۶۲، ۲ / ۳۲۲-۳۲۳)

(تفسیر صراط الجنان فی القرآن حصہ چہارم پارہ 10تا 12 صفحہ 116)

17/10/2026

🌹*तअज़ीमे नबी ﷺ*🌹

* #नबीए_करीम ﷺ की तअज़ीम अल्लाह तआला की इबादत है*

💐*सय्यिदुना रसूलुल्लाह ﷺ की तअज़ीम करना अल्लाह तआला की इबादत है, क्योंकि अल्लाह तआला ने ख़ुद हमें अपने हबीब ﷺ की तअज़ीम व तौक़ीर का हुक्म दिया है। चुनाँचे इरशादे बारी तआला है:*

﴿وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ﴾

*“और उनकी तअज़ीम व तौक़ीर करो।”*

(सूरह अल-फ़त्ह: 9)

हम हुज़ूर ﷺ को लक़बे सियादत से याद करते हैं और आप ﷺ के इस्मे मुबारक के साथ “सय्यिदुना” कहते हैं, क्योंकि आप ने ख़ुद अपनी सियादत बयान फ़रमाई है:

“मैं क़ियामत के दिन तमाम औलादे आदम का सरदार हूँ, और इसमें कोई फ़ख़्र नहीं।”

सहाबए किराम रज़ियल्लाहु अन्हुम में से बाज़ आप ﷺ को “या सय्यिदी” कहकर भी मुख़ातब करते थे। चुनाँचे हज़रत सहल बिन हुनैफ़ रज़ियल्लाहु अन्हु से मनक़ूल है कि उन्होंने रसूलुल्लाह ﷺ से अर्ज़ किया: “या सय्यिदी! क्या दम करना जाइज़ है?” यह रिवायत हज़रत अबू दाऊद ने नक़्ल की है, इमाम हाकिम ने इसे सहीह क़रार दिया और इमाम ज़हबी ने उनकी मुवाफ़क़त की।

हम आप ﷺ को नूर भी कहते हैं, क्योंकि अल्लाह तआला ने आप ﷺ के हक़ में इरशाद फ़रमाया:

﴿قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ﴾

“बेशक तुम्हारे पास अल्लाह की तरफ़ से एक नूर आया और रौशन किताब।”

(सूरह अल-माइदा: 15)

रसूलुल्लाह ﷺ की इताअत दरहक़ीक़त अल्लाह तआला की इताअत है, जैसा कि इरशादे बारी तआला है:

﴿مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾

“जिसने रसूल का हुक्म माना, बेशक उसने अल्लाह का हुक्म माना।”

(सूरह अन-निसा: 80)

इसी तरह रसूलुल्लाह ﷺ के दस्ते मुबारक पर बैअत करना अल्लाह तआला से बैअत करना है, जैसा कि अल्लाह तआला फ़रमाता है:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ﴾

“वह जो तुम्हारी बैअत करते हैं, वह तो अल्लाह ही से बैअत करते हैं।”

(सूरह अल-फ़त्ह: 10)

हम रसूलुल्लाह ﷺ को हादी भी कहते हैं, क्योंकि अल्लाह तआला ने आप ﷺ के बारे में इरशाद फ़रमाया:

﴿وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾

“और बेशक तुम ज़रूर सीधी राह बताते हो।”

(सूरह अश-शूरा: 52)

और जहाँ अल्लाह तआला ने फ़रमाया:

﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾

“बेशक यह नहीं कि तुम जिसे अपनी तरफ़ से चाहो हिदायत कर दो।”

(सूरह अल-क़सस: 56)

तो इस मक़ाम पर हिदायत से मुराद दिलों में हिदायत पैदा कर देना और किसी को तौफ़ीक़े ईमान अता करना है, जो अल्लाह तआला ही के इख़्तियार में है। जबकि पहले मक़ाम पर हिदायत से मुराद रास्ता दिखाना और हक़ की तरफ़ रहनुमाई करना है।

रहा रसूलुल्लाह ﷺ का यह फ़रमान:

لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، إِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ، فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ

“मेरी तारीफ़ में इस तरह हद से न बढ़ना, जिस तरह ईसाइयों ने ईसा बिन मरयम अलैहिस्सलाम की तारीफ़ में हद से तजावुज़ किया। मैं तो अल्लाह का बंदा हूँ, लिहाज़ा मुझे अल्लाह का बंदा और उसका रसूल कहो।”

(सहीहुल बुख़ारी)

तो यहाँ ग़ुलू से मुराद वह हद से बढ़ी हुई तअज़ीम है जिसमें किसी को अल्लाह तआला का बेटा या माबूद क़रार दिया जाए, जैसा कि ईसाइयों ने हज़रत ईसा अलैहिस्सलाम के बारे में ऐसा अक़ीदा इख़्तियार किया।

लिहाज़ा रसूलुल्लाह ﷺ की तअज़ीम व तौक़ीर करना, आप की सियादत का एतिराफ़ करना, आप को नूर और हादी कहना और आप के इस्मे मुबारक के साथ तअज़ीमी अल्क़ाब इस्तेमाल करना, इन सब उमूर को उनके दुरुस्त मफ़हूम और शरई हुदूद के साथ समझना चाहिए। न तअज़ीम में ग़ुलू दुरुस्त है, न तअज़ीमे रसूल के शरई तक़ाज़ों से ग़फ़लत।

صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰى حَبِيبِهِ مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَسَلَّمَ ﷺ

🌹 ﷺ 🌹

ग़ुलाम फ़रीद

📅 16.10.2026 ईस्वी

🌹*अल्लामा बूसीरी रहमतुल्लाहि अलैहि क़सीदा बुर्दह शरीफ़ में फ़रमाते हैं* 🌹

دَعْ مَا ادَّعَتْهُ النَّصَارَى فِي نَبِيِّهِمْ
وَاحْكُمْ بِمَا شِئْتَ مَدْحًا فِيهِ وَاحْتَكِمِ

मफ़हूम:
*नसारा ने अपने नबी (हज़रत ईसा अलैहिस्सलाम) के बारे में जो दावे किए, उन्हें छोड़ दीजिए; और हुज़ूर नबी करीम ﷺ की मद्ह व सना में जो चाहें कहें और जो चाहें फ़ैसला करें।*

🌹 आगे फ़रमाते हैं 🌹

وَانْسُبْ إِلَى ذَاتِهِ مَا شِئْتَ مِنْ شَرَفٍ وَانْسُبْ إِلَى قَدْرِهِ مَا شِئْتَ مِنْ عِظَمِ

मफ़हूम:
*हुज़ूर ﷺ की ज़ाते अक़दस की तरफ़ जितनी चाहें ख़ूबियाँ मंसूब करें, और आप ﷺ के मर्तबे व मक़ाम की जितनी चाहें अज़मत बयान करें।*

#ग़_फ़



#अज़मते_मुस्तफ़ा ﷺ
नोट उर्दू से हिंदी में लिप्यंतरण

17/10/2026

"تعظیم نبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم"

#نبیِ_کریمﷺ_کی_تعظیم_اللہ_تعالیٰ_کی_عبادت_ہے

سیّدنا رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کرنا اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی تعظیم و توقیر کا حکم دیا ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ﴾

’’اور ان کی تعظیم و توقیر کرو۔‘‘

(سورۃ الفتح: 9)

ہم حضور ﷺ کو لقبِ سیادت سے یاد کرتے ہیں اور آپ ﷺ کے اسمِ مبارک کے ساتھ ’’سیدنا‘‘ کہتے ہیں، کیونکہ آپ نے خود اپنی سیادت بیان فرمائی ہے:

’’میں قیامت کے دن تمام اولادِ آدم کا سردار ہوں، اور اس میں کوئی فخر نہیں۔‘‘

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض آپ ﷺ کو ’’یا سیدی‘‘ کہہ کر بھی مخاطب کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ’’یا سیدی! کیا دم کرنا جائز ہے؟‘‘ یہ روایت حضرت ابو داؤد نے نقل کی ہے، امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی۔

ہم آپ ﷺ کو نور بھی کہتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے حق میں ارشاد فرمایا:

﴿قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُبِينٌ﴾

’’بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب ۔‘‘

(سورۃ المائدہ: 15)

رسول اللہ ﷺ کی اطاعت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ﴾

"جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا"

(سورۃ النساء: 80)

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کرنا اللہ تعالیٰ سے بیعت کرنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ﴾

"وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں."

(سورۃ الفتح: 10)

ہم رسول اللہ ﷺ کو ہادی بھی کہتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے بارے میں ارشاد فرمایا:

﴿وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ﴾

"اور بے شک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو۔"

(سورۃ الشوریٰ: 52)

اور جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ﴾

" بیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کردو"

(سورۃ القصص: 56)

تو اس مقام پر ہدایت سے مراد دلوں میں ہدایت پیدا کر دینا اور کسی کو توفیقِ ایمان عطا کرنا ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ جبکہ پہلے مقام پر ہدایت سے مراد راستہ دکھانا اور حق کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔

رہا رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان:

لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، إِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ، فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ

’’میری تعریف میں اس طرح حد سے نہ بڑھنا، جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی تعریف میں حد سے تجاوز کیا۔ میں تو اللہ کا بندہ ہوں، لہٰذا مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔‘‘

(صحیح البخاری)

تو یہاں غلو سے مراد وہ حد سے بڑھی ہوئی تعظیم ہے جس میں کسی کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا یا معبود قرار دیا جائے، جیسا کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ایسا عقیدہ اختیار کیا۔

لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و توقیر کرنا، آپ کی سیادت کا اعتراف کرنا، آپ کو نور اور ہادی کہنا اور آپ کے اسمِ مبارک کے ساتھ تعظیمی القابات استعمال کرنا، ان سب امور کو ان کے درست مفہوم اور شرعی حدود کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔ نہ تعظیم میں غلو درست ہے، نہ تعظیمِ رسول کے شرعی تقاضوں سے غفلت۔

صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰى حَبِيبِهِ مُحَمَّدٍ وَّآلِهِ وَسَلَّمَ ﷺ
•||🪞
غلام فرید
16.10.2026م




#عظمتِ_مصطفیٰ ﷺ

17/10/2026

🌹 مناجاتِ بارگاہِ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ 🌹

✨ *منقبتِ غوثِ اعظم دستگیر* ✨

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

مجھ کو بھی تنگیِ داماں کا گلہ ہو یا غوثؔ
تیرے صدقے کا کوئی ذرّہ ملا ہو یا غوثؔ

🌹

تیرے دربار میں سانسوں کی صدا ہو یا غوثؔ
اک نظر چشمِ کرم بہرِ رضا ہو یا غوثؔ

🌹

عمر بھر حرف شماری میں لگا ہو یا غوثؔ
جو ترے در کے غلاموں سے جدا ہو یا غوثؔ

🌹

قربِ انوارِ الٰہی میں سدا ہو یا غوثؔ
جو ترے نقشِ کفِ پا پہ جھکا ہو یا غوثؔ

🌹

تم جو چاہو تو یہیں خلد کی خوشبو آئے
ٹوٹے گھر میں ترے کوچے کی ہوا ہو یا غوثؔ

🌹

بہرِ بیماریِ دل، دردِ جگر، اشکِ الم
نام کا تیرے وظیفہ ہی دوا ہو یا غوثؔ

🌹

ایک دنیا ہوئی سیراب ترے قطرے سے
تشنہ لب کو بھی کوئی قطرہ عطا ہو یا غوثؔ

🌹

یاد میں نسبتِ اقدس کے رہے یاد نہ کچھ
تیری نسبت ہی نشاں، نام و پتا ہو یا غوثؔ

🌹

کیا کریں، کس کو پکاریں کہ لبِ ساحل ہوں
موجِ طوفاں میں سفینہ جو پھنسا ہو یا غوثؔ

🌹

کہکشاں بن کے اتر آئے تری گردِ گزر
میرے آنگن میں بھی تنویر و ضیا ہو یا غوثؔ

🌹

آرزو ہے کہ تری یاد میں ہی دم نکلے
لب پہ علمیؔ کے فقط تیری ثنا ہو یا غوثؔ

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

✍️ منجانب:
Dr. Baitullah Qadri
Ex-Professor, Al-Ameen Medical College
Khalifa-e-Ashraful Fuqaha
Bijapur, Karnataka

🌹 یا غوثِ اعظم دستگیر! 🌹

🌹*मुनाजाते बारगाहे ग़ौसे आज़म रज़ियल्लाहु तआला अन्हु*🌹✨ *मनक़बत ग़ौसे आज़म दस्तगीर* ✨━━━━━━━━━━━━━━━━━━मुझ को भी तंगी-ए-...
17/10/2026

🌹*मुनाजाते बारगाहे ग़ौसे आज़म रज़ियल्लाहु तआला अन्हु*🌹

✨ *मनक़बत ग़ौसे आज़म दस्तगीर* ✨
━━━━━━━━━━━━━━━━━━

मुझ को भी तंगी-ए-दामाँ का गिला हो या ग़ौस
तेरे सदक़े का कोई ज़र्रा मिला हो या ग़ौस

🌹

तेरे दरबार में साँसों की सदा हो या ग़ौस
एक नज़र चश्मे करम बहरे रज़ा हो या ग़ौस

🌹

उम्र भर हर्फ़ शुमारी में लगा हो या ग़ौस
जो तेरे दर के ग़ुलामों से जुदा हो या ग़ौस

🌹

क़ुर्बे अनवारे इलाही में सदा हो या ग़ौस
जो तेरे नक़्शे कफ़े पा पे झुका हो या ग़ौस

🌹

तुम जो चाहो तो यहीं ख़ुल्द की ख़ुशबू आए
टूटे घर में तेरे कूचे की हवा हो या ग़ौस

🌹

बहरे बीमारी-ए-दिल, दर्दे जिगर, अश्के अलम
नाम का तेरे वज़ीफ़ा ही दवा हो या ग़ौस

🌹

एक दुनिया हुई सैराब तेरे क़तरे से
तिश्ना-लब को भी कोई क़तरा अता हो या ग़ौस

🌹

याद में निस्बते अक़दस के रहे याद न कुछ
तेरी निस्बत ही निशाँ, नाम-ओ-पता हो या ग़ौस

🌹

क्या करें, किस को पुकारें कि लबे साहिल हूं
मौजे तूफ़ाँ में सफ़ीना जो फँसा हो या ग़ौस

🌹

कहकशाँ बन के उतर आए तेरी गर्दे गुज़र
मेरे आँगन में भी तनवीर-ओ-ज़िया हो या ग़ौस

🌹

आरज़ू है कि तेरी याद में ही दम निकले
लब पे इल्मी के फ़क़त तेरी सना हो या ग़ौस

━━━━━━━━━━━━━━━━━━

✍️*मनक़बत निगार*
डॉ. बैतुल्लाह क़ादरी
एक्स-प्रोफ़ेसर, अल-अमीन मेडिकल कॉलेज
ख़लीफ़ा-ए-अशरफ़ुल फ़ुक़हा,
बीजापुर, कर्नाटक

🌹*या गौस-ए-आज़म दस्तगीर!*🌹

Address

Jogeshwari West
Mumbai
400102

Opening Hours

Monday 8am - 6am
Tuesday 8am - 6am
Wednesday 8am - 6am
Thursday 8am - 6am
Friday 8am - 6am
Saturday 8am - 6am
Sunday 8am - 11am

Telephone

+919867362964

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rajasthan constructions corp posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rajasthan constructions corp:

Shortcuts

Share