BCOM Electrical

BCOM Electrical Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from BCOM Electrical, College chouk Mardan, Mardan.

20/01/2026
20/01/2026
20/01/2026

Travelling to Bangladesh Make dua for safe journey

20/01/2026













31/12/2025

2026 میں کامیاب ہونے کے پندرہ طریقے۔
سال 2026 کمزور دل اور پرانی سوچ رکھنے والوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ سال ان لوگوں کا ہے جو ٹیکنالوجی کی رفتار اور نفسیات کی گہرائی کو سمجھتے ہیں۔ اگر آپ اس سال میں صرف "زندہ" نہیں رہنا چاہتے بلکہ "راج" کرنا چاہتے ہیں، تو یہ رہے کامیابی کے 15 حتمی طریقے۔
1. اے آئی کے ڈرائیور بنیں (Become the AI Pilot)
2026 میں مقابلہ انسان کا انسان سے نہیں، بلکہ "انسان بمقابلہ اے آئی والا انسان" ہے۔ اے آئی سے ڈرنا چھوڑیں، اسے اپنا جونیئر اسسٹنٹ بنائیں۔ جو کام آپ 10 گھنٹے میں کرتے ہیں، اگر وہ اے آئی سے 10 منٹ میں نہیں کروا رہے، تو آپ ریس سے باہر ہیں۔
2. ڈالر میں کمائی (Global Income)
مقامی معیشت کے رحم و کرم پر رہنا خودکشی ہے۔ اپنی مہارت کو انٹرنیٹ کے ذریعے بارڈر پار بیچیں۔ آپ کا کچن پاکستان میں ہو لیکن کلائنٹ امریکہ یا یورپ میں۔ 2026 میں "روپیہ" خرچ کرنے کے لیے ہے، جمع کرنے کے لیے نہیں۔
3. پرسنل برانڈنگ (The Death of CV)
سی وی (CV) کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب لوگ گوگل پر آپ کا نام لکھتے ہیں۔ اگر وہاں آپ کا کام، آپ کی ویڈیوز یا آپ کی تحریریں نہیں آتیں، تو آپ کا کوئی وجود نہیں۔ خود کو ایک "میڈیا کمپنی" سمجھیں۔
4. ڈوپامائن ڈیٹوکس (Dopamine Control)
آج کا سب سے بڑا نشہ سکرولنگ ہے۔ 2026 میں وہی کامیاب ہوگا جو بوریت برداشت کر سکے گا اور اپنی توجہ (Focus) کو ٹک ٹاک اور ریلز کی نذر ہونے سے بچائے گا۔ اپنی توجہ کو لیزر کی طرح تیز رکھیں۔
5. سکل اسٹیکنگ (Skill Stacking)
صرف ایک مہارت کافی نہیں ہے۔ "کاپی رائٹنگ" کے ساتھ "نفسیات" ملائیں، یا "کوڈنگ" کے ساتھ "سیلز" ملائیں۔ جب آپ دو مختلف مہارتوں کو ملاتے ہیں، تو آپ کا کوئی متبادل (Replacement) نہیں رہتا۔
6. بیچنے کا فن (Learn to Sell)
دنیا میں ہر کوئی کچھ نہ کچھ بیچ رہا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ بیچنا صرف دکاندار کا کام ہے تو آپ غلطی پر ہیں۔ اپنا آئیڈیا، اپنی سروس، اپنی بات منوانا، یہ سب سیلز ہے۔ اگر بیچنا نہیں آتا تو آپ ہمیشہ کسی کے ملازم رہیں گے۔
7. مائیکرو ایجوکیشن (Micro-Education)
چار سالہ ڈگریوں کا انتظار مت کریں۔ 2026 میں علم کی عمر صرف 6 ماہ ہے۔ کریش کورسز کریں، یوٹیوب سے سیکھیں، مینٹورز پکڑیں اور فوراً عمل کریں۔ سیکھنے اور کرنے کے درمیان کا وقفہ ختم کر دیں۔اس کے لیے محرک ایپ کو ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔
8. صحت بطور اثاثہ (Biohacking)
توانائی (Energy) ہی اصل کرنسی ہے۔ اگر آپ کا دماغ تھکا ہوا ہے اور جسم سست ہے، تو آپ بڑے فیصلے نہیں کر سکتے۔ اپنی نیند، خوراک اور ورزش کو کاروبار کا حصہ سمجھیں، تفریح نہیں۔
9. نیٹ ورکنگ نہیں، "قبیلہ" (Build a Tribe)
کارڈ بانٹنے کو نیٹ ورکنگ نہیں کہتے۔ ایسے 5 لوگوں کا گروپ بنائیں جو آپ سے زیادہ ذہین اور امیر ہوں۔ آپ کی نیٹ ورتھ (Net Worth) آپ کے نیٹ ورک کے برابر ہوگی۔
10. جذبات سے پاک فیصلے (Stoicism)
2026 میں دنیا مزید جذباتی اور پاگل ہو جائے گی۔ آپ کو پتھر ہونا پڑے گا۔ خوشی ہو یا غم، کاروبار اور کیریئر کے فیصلے ٹھنڈے دماغ اور ڈیٹا کی بنیاد پر کریں، جذبات کی بنیاد پر نہیں۔
11. تیزی (Speed of Implementation)
پرفیکشن (Perfection) غریبوں کی بیماری ہے۔ آئیڈیا آتے ہی اس پر کام شروع کریں۔ 2026 میں "بڑی مچھلی" چھوٹی مچھلی کو نہیں کھائے گی، بلکہ "تیز مچھلی" سست مچھلی کو کھا جائے گی۔
12. ڈیجیٹل رئیل اسٹیٹ (Digital Real Estate)
فزیکل پلاٹ لینے سے پہلے ڈیجیٹل پلاٹ بنائیں۔ آپ کا یوٹیوب چینل، آپ کا بلاگ، آپ کی ایپ، آپ کی ای میل لسٹ، یہ وہ جائیدادیں ہیں جو آپ کو سوتے ہوئے بھی کما کر دیں گی۔
13. کہانی سنانا (Storytelling)
اعداد و شمار کوئی یاد نہیں رکھتا، کہانیاں سب کو یاد رہتی ہیں۔ اگر آپ اپنی پروڈکٹ یا اپنی ذات کو ایک کہانی کی شکل میں پیش کر سکتے ہیں، تو لوگ آپ کی منہ مانگی قیمت دیں گے۔
14. نہ کہنے کی طاقت (The Art of No)
اپنے وقت کی حفاظت کسی کنجوس سیٹھ کی طرح کریں۔ ہر اس کام، تقریب یا شخص کو "نہ" کہہ دیں جو آپ کے 2026 کے اہداف سے نہیں میل کھاتا۔
15. روحانی پارٹنرشپ (Spiritual Partnership)
اپنی محنت کے ساتھ اللہ کو پارٹنر بنا لیں۔ اپنی کمائی کا ایک حصہ صدقے کے لیے مختص کر دیں اور پھر دیکھیں کہ ناممکن کیسے ممکن ہوتا ہے۔ یہ وہ "میٹا فزیکل" اصول ہے جو کبھی فیل نہیں ہوتا۔

09/12/2025

"بچوں کی تربیت"
میں بائیک پر جا رہا تھا کہ اچانک یہ جملہ میرے کانوں کو چھو کر گزرا " بیٹا! یہاں دیکھیں یہ موبائل مارکیٹ ہے دکان کے ساتھ دکان موجود ہے اور سب کو ہی اللہ تعالیٰ رزق دے رہا ہے کیوں کہ کوئی بھی انسان دوسرے کا رزق نہیں چھین سکتا" ۔
میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک باپ اپنے بیٹے سے مخاطب تھا۔ " کسی کو کم کسی کو زیادہ مل رہا ہے یہ سب یا تو مقدر کی بات ہے یا پھر زیادہ محنت سے زیادہ ملتا ہے" ۔
یہ لمحہ میرے لیے خوب صورت اور اہم تھا کہ ایک باپ راہ چلتے ہوئے بھی اپنی اولاد کی تربیت اور ذہن سازی میں مصروف ہے۔ مجھے اپنی امی کا وہ جملہ یاد آیا کہ " تربیت چوبیس گھنٹوں کا ایک عمل ہے یہ صرف کبھی کبھی کرنے والا کام نہیں ہے" ۔

ایک مرتبہ والدہ محترمہ میری چھوٹی بہن کو کچھ سمجھا رہی تھیں تو میں نے درمیان میں مداخلت کرتے ہوئے کہا " کیا ہو گیا ہے امی ؟ یہ ابھی چھوٹی ہے وقت کے ساتھ ساتھ خود ہی سمجھ جائے گی" ۔ امی نے جواباً کہا" یہ تمہارا کام نہیں ہے تم اپنی حد میں خاموش رہو اور یاد رکھنا کہ تربیت تبھی ممکن ہے جب بچے چھوٹے ہوتے ہیں جب ان کی سوچ پختہ نہیں ہوتی یہ وہ وقت ہے جب بچے سننے ، تسلیم کرنے اور عمل کرنے کی عمر میں ہوتے ہیں۔ جس طرح پودے کی دیکھ بھال تب کی جاتی ہے جب وہ پروان چڑھ رہا ہو جب درخت بن جاتا ہے تب تو وہ اپنی پرورش کے عمل کے عین مطابق صرف پھل دیتا ہے"

ایک طرف وہ والدین ہوتے ہیں جو اپنے بچوں کا دوسروں سے موازنہ کرتے ہوئے انہیں مقابلے کی دوڑ میں شامل کر دیتے ہیں اور اس دوڑ میں بھاگتے بھاگتے ان کے بچے سب سے پہلے والدین کو کچلتے ہیں رشتوں کو کچلتے ہیں اور ایک دن خود بھی کچلے جاتے ہیں۔ فلاں کا بیٹا اتنے لاکھ ماہانہ کما رہا ہے فلاں کا بیٹا ہر سال ٹاپ کرتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔ وہ والدین جو اپنے بچوں کی ذہن سازی صرف دولت کمانے کی حد تک کرتے ہیں ان کے بچے شارٹ کٹ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور اکثر حرام حلال کا فرق بھی بھول جاتے ہیں۔۔
محبتیں سلامت رہیں 🌹
"وسیم قریشی"

لاؤڈ سپیکر 1890 میں ایجاد ہوا، 1920 کے عشرے میں اس میں کافی جدت آچکی تھی اور ریڈیو، تھیٹرز وغیرہ میں اس کا استعمال عام ہ...
07/12/2025

لاؤڈ سپیکر 1890 میں ایجاد ہوا، 1920 کے عشرے میں اس میں کافی جدت آچکی تھی اور ریڈیو، تھیٹرز وغیرہ میں اس کا استعمال عام ہوچکا تھا۔ انہی دنوں کسی نے برصغیر میں لاؤڈسپیکر پر اذان اور نماز پڑھانے کی تجویز پیش کی تو جیسے آگ لگ گئی اور تقریباً ہر فرقے کے علما نے اس کی شدت سے مخالفت کی۔

برصغیر کے نامور عالم، مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نے 1928 میں فتوی جاری کردیا کہ لاؤڈ سپیکر پر نہ تو اذان جائز ھے، نہ جمعہ کا خطبہ اور نہ ہی نماز کی امامت۔

جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو ان کا جواب تھا کہ لاؤڈ سپیکر پر آواز پہلے ریکارڈ ہوتی ھے اور پھر نشر کی جاتی ھے، اس لئے شرعی اعتبار سے ریکارڈڈ آواز میں نہ تو اذان جائز ھے اور نہ ہی خطبہ اور امامت۔ کچھ " لبرل" حضرات نے مولانا کی تھیوری کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تو ان پر حسب توقع اور حسب توفیق، کفر کے فتوے لگ گئے۔

اپنی بات کی تصدیق کیلئے مولانا تھانوی صاحب نے ایک مناظرے کا انتظام کیا اور کہیں سے ریڈیو پر کام کرنے والے ایک مکینک ٹائپ کے شخص کو لے آئے اور لوگوں سے کہا کہ یہ بہت بڑا ساؤنڈ انجینئر ھے جس سے ہم نے تصدیق کرلی ھے کہ لاؤڈ سپیکر پہلے آواز ریکارڈ کرتا ھے، پھر آگے نشر کرتا ھے۔ یہ دن اس ریڈیو مکینک کی زندگی کا یادگار دن تھا کیونکہ اس دن ہزاروں کے مجمع کے سامنے اسے ' ساؤنڈ انجینئر ' ہونے کی ڈگری عطا کردی گئی۔

مولانا تھانوی کی رحلت کے بعد ان کے شاگرد، مشہور عالم جناب مفتی شفیع نے بھی اپنے استاد کے فتوے پر مہر تصدیق ثبت کی۔ دوسری طرف سائنسدانوں نے مسلسل علما کے اس دعوے کو غلط ثابت کرنا جاری رکھا کہ لاؤڈ سپیکر پہلے آواز ریکارڈ کرتا ھے اور پھر نشر کرتا ھے۔

جب دباؤ بڑھا تو مفتی شفیع نے اپنے فتوے میں کچھ ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ اگر لاؤڈ سپیکر آواز ریکارڈ نہ بھی کرتا ہو، اس کے اندر موجود سسٹم آواز کی " ایکو" کو اس طریقے سے پراسیس کرتا ھے کہ اصل آواز کی ہئیت بدل جاتی ھے۔ مزید براں یہ کہ اگر دوران نماز لاؤڈسپیکر کسی وجہ سے خراب ہوجائے تو پوری نماز ضائع ہوجائے گی اور دوبارہ پڑھنے پڑے گی۔

حالت اور وقت ایک سے نہیں رہتے، یہی کچھ بے چارے لاؤڈسپیکر کے ساتھ بھی ہوا۔
جب سعودی عرب کے علما نے 1950 میں لاؤڈسپیکر کے زریعے حرم میں اذان اور خطبہ وغیرہ دینا شروع کردیا تو ہمارے علما کو اچانک لاؤڈسپیکر کے اندر چھپی ہوئی روحانیت نظر آنے لگی پھر راتوں رات تھانوی صاحب کے فتوے کو منوں مٹی تلے دبا کر نیا فتوی دیا گیا جس کے تحت لاؤڈ سپیکر کا استعمال جائز قرار دے دیا گیا۔

پھر کچھ یوں ہوا کہ 90 کی دہائی میں نوازحکومت نے بڑھتی ہوئی فرقہ واریت پر قابو پانے کیلئے مساجد میں لاؤڈسپیکر کا استعمال ممنوع قرار دیا تو پورے ملک میں آگ لگ گئی۔ علما نے ملک گیر ہڑتالیں کیں، ٹائر جلائے، املاک کو تباہ کیا، تب جا کر حکومت کو اس کے اس ' شیطانی ' اقدام پر نظرثانی کرنا پڑی۔

چند برس قبل لاہور میں جلالی صاحب کا ختم نبوت ﷺ کا دھرنا اختتام پذیر ہوا۔ وہ شروع تو رانا ثنا اللہ کے استعفی کے مطالبے پر ہوا تھا لیکن ختم اس شرط پر ہوگیا کہ پنجاب حکومت کی کمیٹی مساجد میں لاؤڈ سپیکر کی تعداد بڑھانے پر غور کرے گی۔

جس طرح اپنی سہولت کے تحت یہ ملاں لوگ کبھی لاؤڈ سپیکر تو کبھی ریڈیو، ٹی وی اور پرنٹنگ پریس پر فتوے صادر کرکے انہیں حرام قرار دیتے آئے ہیں، اسی طرح بڑھتے ہوئے دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام کیلئے بھی ان کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اگر علما دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے سنجیدہ ہوں تو وہ مکمل یکسوئی کے ساتھ اس عفریت کے خلاف اپنے اپنے فرقے اور مساجد میں کام کریں

پچھلے 72 برسوں میں علما کی اکثریت نے معاشرے میں بہتری کیلئے کوئی کام نہ کیا، ، ہر کسی نے نفرت کا پرچار کیا۔ ان علما کی اکثریت سے بہتری کی توقع فضول ہے۔ اس لئے ان کے مطالبات پر کان دھرنے کی بجائے ان کے کان کے نیچے ایک آدھ دھر دیں، حالات ٹھیک ہونا شروع ہوجائیں گے! (مستعار)

04/12/2025
11/11/2025

Address

College Chouk Mardan
Mardan
23200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BCOM Electrical posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to BCOM Electrical:

Share