BOL Digital بول ڈیجیٹل

BOL Digital  بول ڈیجیٹل Surat-ul-Hujraat: 49 | Ayat: 6

youtube.com/

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو. تاریخ وزیرآباد۔۔۔۔
دریائے چناب کے کنارے واقع تاریخی شہر وزیرآباد جسے شاہ جہان کے دور میں اس کے وزیر حکیم علیم الدین المعروف نواب وزیر خان نے 1632 سے ثمن برج نامی عمارت کے ساتھ تعمیر کروانا شروع کیا جو 1636 میں پائے تکمیل کو پہنچی
وزیرآباد شہر نے اپنی تعمیر کے بعد کئی بار عروج وزوال کا دور دیکھا
1700 میں وزیرآباد کے اندر گھریلو صنعتوں کا جال بچھایا گیا
مگر 1760 کے طوفانی سیلاب نے اس علاقے کو مکمل طور پر ویران کر دیا
چند ایک عمارتوں کے علاؤہ سب کچھ سیلاب کی نظر ہو گیا

پھر جب رنجیت سنگھ کا دور آیا تو وزیرآباد میں ایک بار پھر انڈسٹری پروان چڑھنے لگی
وزیرآباد کے ساتھ ساتھ
رسول نگر
علی پور چھٹہ
دھونکل
اور گکھڑ منڈی میں بھی کاروبار پھیلنے لگا

رنجیت سنگھ نے وزیرآباد کو اپنی ریاست کا صوبائی ہیڈکوارٹر قرار دیا اور اطالوی گورنر اوی تابیل کو 1832 میں وزیرآباد کا گورنر مقرر کیا
اوی تابیل نے وزیرآباد کے قصبات کو دوبارا چھان بین کر کے پلانگ کے ساتھ ازسر نو تعمیر کیا
مثمن برج سمیت کئی پرانی عمارات
فصیل شہر
گیٹ
دارے
اور پنچائیت گھر
تعمیر کروائے

اور اپنی جابرانہ حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے امن و امان قائم کیا
رنجیت سنگھ کی حکم پر رسول نگر میں اپنا ہیڈکوارٹر بنایا اور وہاں اپنا دفتر قائم کیا
جو بعد میں تحصیل وزیرآباد کا درجہ حاصل کر گیا

اوی تابیل کے کارناموں سے خوش ہوتے ہوئے رنجیت سنگھ نے پشاور کی کمزور صورت حال کو دیکھتے ہوئے پشاور کا ناظم مقرر کر دیا

1832 سے لیکر 1850 تک وزیرآباد میں بڑے بڑے جنگجووں نے جنم لیا جس میں ہندو اور مسلمان دونوں مذاہبِ کے لوگ شامل تھے

1848 میں رسولنگر میں انگریزوں اور سکھوں کی لڑائی ہوئی جس میں انگریزی فوج کے کافی افسر مارے گئے لیکن انگریزی فوج نے وزیرآباد پر قبضہ کر کے اپنی چھاؤنی قائم کر لی
امن و امان قائم ہونے کے بعد چھاؤنی کو سیالکوٹ منتقل کر دیا گیا

سیالکوٹ اور گوجرانولہ کو ضلع کا درجہ ملا تو 1852 میں وزیرآباد کو ضلع سیالکوٹ کی تحصیل بنا دیا گیا
بعد ازاں 1855 میں وزیرآباد تحصیل کو ضلع گوجرانولہ میں شامل کر دیا گیا جو آج تک گوجرانولہ کا حصہ ہے

1855 میں ہی خاندان راجور کے سربراہ راجہ فقیر اللہ خان کو وزیرآباد کی تاسیسی عمارت مثمن برج الاٹ کر دی گئی
1857 میں جنگ آزادی کے دوران وزیرآباد کی تحصیل ایک حاص اہمیت اختیار کر گئی
اور اسے انتہائی حساس علاقہ کرار دے دیا گیا
مستقل طور پر فوجی دستے تعینات کر دیئے گئے
وزیرآباد کے تمام لوگ جن میں ہندو مسلمان سکھ موجود تھے سب نے انگریز کے خلاف جنگ آزادی میں میں حصہ لیا

وزیرآباد کی جغرافیائی اور سیاسی حثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر وترقی پر انگریزوں نے خاص توجہ دی اور 1876 سے 1884 تک ریلوے کا ٹریک بچھایا گیا
1886 میں وزیرآباد کو مزید ترقی دینے کے لئے
پانی کا نکاس
سٹریٹ لائٹس
غلہ منڈی کا انتظام
بلڈنگ انسپکٹر کی تعیناتی
ایک بڑا ریلوے یارڈ
ریلوے واشنگ لائین
اور سک لائن بنائی گئی
اور ایشیا کی سب سے بڑی لیور کیبن
تجارتی مرکز کی حیثیت سے لوگوں کا سامان اتارنے اور لانے کے لئے بہت بڑا گودام بنایا گیا
جہاں کم از کم ایک ہزار لوگوں کا سامان لایا جا سکتا تھا

وزیرآباد سے سیالکوٹ براستہ جمو کشمیر ریلوے لائن منصوبہ

وزیرآباد سے فیصل آباد ریلوے لائن منصوبہ

1887 میں وزیرآباد میں محکمہ پولیس کا انسپکٹر تعیناتی

1896 میں سیالکوٹ سے وزیرآباد تک ریلوے کی پٹری بچھا کر ٹرین کو چلایا گیا

وزیرآباد کی تمام صنعتیں جو اس شہر کی پہچان تھیں بحال ہوئیں
ان صنعتوں میں کٹلری۔ چاقو و چھری سازی سرفہرست تھی

20/08/2026

وزیرآباد کا بھولا بسرا باب گورنر وزیرآباد ابو تابیلا کی تاریخی کہانی

کیا آپ جانتے ہیں کہ تقریباً دو صدی پہلے وزیرآباد کا انتظام کس طرح چلایا جاتا تھا؟

وزیرآباد کی تاریخ کے ایک ایسے باب کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے جس میں ابو تابیلا کے دورِ گورنری، شہر کے انتظامات، سڑکوں، بازاروں، تعمیر و ترقی اور اس دور کے حالات کو تاریخی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ابو تابیلا نے وزیرآباد میں کئی سال گورنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، پھر وزیرآباد سے پشاور چلا گیا۔ اس دور کی کچھ تاریخی جھلکیاں اور نشانیاں آج بھی وزیرآباد میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

🎬 مکمل تاریخی ڈاکومنٹری — وزیرآباد کا بھولا بسرا باب

📍 وزیرآباد
📜 تاریخ کے اوراق سے
🎙️ پیشکش: یونس اکرم

آپ کو وزیرآباد کی یہ تاریخی کہانی کیسی لگی؟
کمنٹس میں اپنی رائے ضرور بتائیں۔ ❤️

#وزیرآباد #ابوتابیلا #تاریخ

18/08/2026

قائداعظم محمد علی جناح کی وزیرآباد آمد راجہ خاندان کا شکریہ ادا کیا عوام سے تقریر کی فاطمہ جناح نے بیگم ٹکہ امتیاز اللہ خان کا شکریہ ادا کیا 10000 فنڈ دینے کا

قائداعظم محمد علی جناح کا وزیرآباد میں تاریخی استقبال ایک خطے کی یادیں، ملاقاتیں اور تاریخی ورثہمکمل ڈاکومنٹری جلد آ رہی
18/08/2026

قائداعظم محمد علی جناح کا وزیرآباد میں تاریخی استقبال
ایک خطے کی یادیں، ملاقاتیں اور تاریخی ورثہ
مکمل ڈاکومنٹری جلد آ رہی

16/08/2026

وزیرآباد کی دھرتی کا عظیم مجاہد، عالمِ دین اور محبِ وطن — مولانا فضل الٰہی وزیرآبادیؒ

ایک ایسی عظیم شخصیت کی داستان، جس نے علم، دین، وطن اور حق کی سربلندی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔

📜 مولانا فضل الٰہی وزیرآبادیؒ کی زندگی کے اہم واقعات، دینی خدمات اور تاریخی جدوجہد پر مبنی ایک خصوصی ڈاکومنٹری بہت جلد پیش کی جا رہی ہے۔

🎬 ایک ایسی تاریخ جو نئی نسل تک پہنچنا ضروری ہے۔

جلد آ رہا ہے۔۔۔
COMING SOON

ٰہی_وزیرآبادی
#وزیرآباد




15/08/2026

🇵🇰 لاڈو کی پلی — وزیرآباد کی تاریخی پہچان
کیا آپ جانتے ہیں کہ وزیرآباد کی ایک قدیم پلی کے نام کے پیچھے ایک دلچسپ داستان چھپی ہوئی ہے؟
کہا جاتا ہے کہ ایک دلہن لاڈو کی ڈولی اس مقام سے گزری، اور وقت کے ساتھ یہ جگہ لاڈو کی پلی کے نام سے مشہور ہوگئی۔
لیکن اس داستان میں کتنی حقیقت ہے؟
کیا یہ صرف نسل در نسل منتقل ہونے والی مقامی روایت ہے، یا اس کے پیچھے تاریخ کا کوئی بھولا ہوا باب بھی موجود ہے؟
🎥 ہماری نئی ڈاکومنٹری میں دیکھیے لاڈو کی پلی کی داستان، ماضی کے مناظر اور آج کی حقیقی تصویر۔
Lado Puli — An Ancient Historical Landmark of Wazirabad
یہ صرف ایک پلی نہیں، بلکہ وزیرآباد کی تاریخ اور مقامی روایت کی ایک یادگار ہے۔
📌 ویڈیو مکمل دیکھیں اور اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔
Like 👍 | Share ↗️ | Follow ❤️
#وزیرآباد

14/08/2026

🇵🇰 آزادی صرف جشن منانے کا نام نہیں، ذمہ داری کا نام بھی ہے! 🌱💚

باجے بجانے اور شور مچانے کے بجائے اگر ہم اپنے وطن کے لیے کوئی مثبت کام کریں تو یہی آزادی کا خوبصورت حق ادا کرنا ہے۔

🌱 آئیں! مل کر پودے لگائیں، پاکستان کو سرسبز بنائیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک خوبصورت وطن چھوڑیں۔

یہ ویڈیو ایک چھوٹا سا پیغام ہے کہ جشن بھی کریں، مگر ذمہ داری کے ساتھ۔ 🇵🇰

پاکستان زندہ باد! 💚🇵🇰

#شجرکاری #آزادی #14اگست

13/08/2026

وزیرآباد — صدیوں کا سفر، ایک شہر کی داستان!
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جس شہر کی گلیوں، بازاروں اور راستوں سے ہم روز گزرتے ہیں، اس نے خود کتنی صدیاں دیکھی ہیں؟
مغلوں کا دور ہو، سکھ اقتدار کا زمانہ، برطانوی دور، 1857ء کے ہنگامہ خیز حالات یا 1947ء میں پاکستان کا قیام—وزیرآباد تاریخ کے کئی ادوار کا خاموش گواہ رہا ہے۔
دریائے چناب کے کنارے آباد یہ شہر صرف اینٹوں اور عمارتوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ قافلوں، بازاروں، ہنرمندوں، سپاہیوں اور نسلوں کی ایک طویل داستان ہے۔
اسی داستان کو محفوظ کرنے اور نئی نسل تک پہنچانے کے لیے پیش ہے:
🎬 "وزیرآباد — عہد بہ عہد"
تاریخ کے آئینے میں ایک زندہ شہر
📜 آئیے اپنے شہر کے ماضی کو جانیں،
اپنی تاریخ کو سمجھیں،
اور اپنے شہر پر فخر کریں۔
اگر آپ وزیرآباد سے محبت کرتے ہیں تو اس ڈاکومنٹری کو ضرور شیئر کریں، تاکہ وزیرآباد کی تاریخ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ ❤️
#وزیرآباد

🚨 وزیرآباد میں احاطے سے نامعلوم شخص کی نعش برآمدحوا میموریل ہسپتال کے قریب ایک احاطے سے تقریباً 30 سے 35 سالہ نامعلوم شخ...
10/08/2026

🚨 وزیرآباد میں احاطے سے نامعلوم شخص کی نعش برآمد

حوا میموریل ہسپتال کے قریب ایک احاطے سے تقریباً 30 سے 35 سالہ نامعلوم شخص کی نعش برآمد ہوئی۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور نعش کو سول ہسپتال منتقل کر دیا۔

علاقہ مکینوں کے مطابق اس مقام کے قریب چند روز قبل بھی ایک نامعلوم شخص کی نعش ملی تھی، جبکہ علاقے میں منشیات کے عادی افراد کی مبینہ آمدورفت کے باعث شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

پولیس کے مطابق واقعہ کی مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ موت کی وجوہات اور شناخت کا تعین کیا جا رہا ہے۔

#وزیرآباد

Address

Wazirabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BOL Digital بول ڈیجیٹل posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to BOL Digital بول ڈیجیٹل:

Shortcuts

Share