اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو. تاریخ وزیرآباد۔۔۔۔
دریائے چناب کے کنارے واقع تاریخی شہر وزیرآباد جسے شاہ جہان کے دور میں اس کے وزیر حکیم علیم الدین المعروف نواب وزیر خان نے 1632 سے ثمن برج نامی عمارت کے ساتھ تعمیر کروانا شروع کیا جو 1636 میں پائے تکمیل کو پہنچی
وزیرآباد شہر نے اپنی تعمیر کے بعد کئی بار عروج وزوال کا دور دیکھا
1700 میں وزیرآباد کے اندر گھریلو صنعتوں کا جال بچھایا گیا
مگر 1760 کے طوفانی سیلاب نے اس علاقے کو مکمل طور پر ویران کر دیا
چند ایک عمارتوں کے علاؤہ سب کچھ سیلاب کی نظر ہو گیا
پھر جب رنجیت سنگھ کا دور آیا تو وزیرآباد میں ایک بار پھر انڈسٹری پروان چڑھنے لگی
وزیرآباد کے ساتھ ساتھ
رسول نگر
علی پور چھٹہ
دھونکل
اور گکھڑ منڈی میں بھی کاروبار پھیلنے لگا
رنجیت سنگھ نے وزیرآباد کو اپنی ریاست کا صوبائی ہیڈکوارٹر قرار دیا اور اطالوی گورنر اوی تابیل کو 1832 میں وزیرآباد کا گورنر مقرر کیا
اوی تابیل نے وزیرآباد کے قصبات کو دوبارا چھان بین کر کے پلانگ کے ساتھ ازسر نو تعمیر کیا
مثمن برج سمیت کئی پرانی عمارات
فصیل شہر
گیٹ
دارے
اور پنچائیت گھر
تعمیر کروائے
اور اپنی جابرانہ حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے امن و امان قائم کیا
رنجیت سنگھ کی حکم پر رسول نگر میں اپنا ہیڈکوارٹر بنایا اور وہاں اپنا دفتر قائم کیا
جو بعد میں تحصیل وزیرآباد کا درجہ حاصل کر گیا
اوی تابیل کے کارناموں سے خوش ہوتے ہوئے رنجیت سنگھ نے پشاور کی کمزور صورت حال کو دیکھتے ہوئے پشاور کا ناظم مقرر کر دیا
1832 سے لیکر 1850 تک وزیرآباد میں بڑے بڑے جنگجووں نے جنم لیا جس میں ہندو اور مسلمان دونوں مذاہبِ کے لوگ شامل تھے
1848 میں رسولنگر میں انگریزوں اور سکھوں کی لڑائی ہوئی جس میں انگریزی فوج کے کافی افسر مارے گئے لیکن انگریزی فوج نے وزیرآباد پر قبضہ کر کے اپنی چھاؤنی قائم کر لی
امن و امان قائم ہونے کے بعد چھاؤنی کو سیالکوٹ منتقل کر دیا گیا
سیالکوٹ اور گوجرانولہ کو ضلع کا درجہ ملا تو 1852 میں وزیرآباد کو ضلع سیالکوٹ کی تحصیل بنا دیا گیا
بعد ازاں 1855 میں وزیرآباد تحصیل کو ضلع گوجرانولہ میں شامل کر دیا گیا جو آج تک گوجرانولہ کا حصہ ہے
1855 میں ہی خاندان راجور کے سربراہ راجہ فقیر اللہ خان کو وزیرآباد کی تاسیسی عمارت مثمن برج الاٹ کر دی گئی
1857 میں جنگ آزادی کے دوران وزیرآباد کی تحصیل ایک حاص اہمیت اختیار کر گئی
اور اسے انتہائی حساس علاقہ کرار دے دیا گیا
مستقل طور پر فوجی دستے تعینات کر دیئے گئے
وزیرآباد کے تمام لوگ جن میں ہندو مسلمان سکھ موجود تھے سب نے انگریز کے خلاف جنگ آزادی میں میں حصہ لیا
وزیرآباد کی جغرافیائی اور سیاسی حثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر وترقی پر انگریزوں نے خاص توجہ دی اور 1876 سے 1884 تک ریلوے کا ٹریک بچھایا گیا
1886 میں وزیرآباد کو مزید ترقی دینے کے لئے
پانی کا نکاس
سٹریٹ لائٹس
غلہ منڈی کا انتظام
بلڈنگ انسپکٹر کی تعیناتی
ایک بڑا ریلوے یارڈ
ریلوے واشنگ لائین
اور سک لائن بنائی گئی
اور ایشیا کی سب سے بڑی لیور کیبن
تجارتی مرکز کی حیثیت سے لوگوں کا سامان اتارنے اور لانے کے لئے بہت بڑا گودام بنایا گیا
جہاں کم از کم ایک ہزار لوگوں کا سامان لایا جا سکتا تھا
وزیرآباد سے سیالکوٹ براستہ جمو کشمیر ریلوے لائن منصوبہ
وزیرآباد سے فیصل آباد ریلوے لائن منصوبہ
1887 میں وزیرآباد میں محکمہ پولیس کا انسپکٹر تعیناتی
1896 میں سیالکوٹ سے وزیرآباد تک ریلوے کی پٹری بچھا کر ٹرین کو چلایا گیا
وزیرآباد کی تمام صنعتیں جو اس شہر کی پہچان تھیں بحال ہوئیں
ان صنعتوں میں کٹلری۔ چاقو و چھری سازی سرفہرست تھی