10/11/2023
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رح نے 1932 میں آل انڈیا مسلم انشورنس کے بانی اور ڈائریکٹر تھے بعد ازاں 1972 میں حکومت پاکستان نے پاکستان کی تمام پرائیوٹ انشورنس کمپنیوں کو یکجا کر کے سرکاری ادارہ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن بنایا جو ادارہ 51 سال سے ہر سال نئے ریکارڈ بنا رہا ہے، اسٹیٹ لائف منافع کا 97.5% پالسیی ہولڈرز کو شراکت داری منافع بطور بونس اور 2.5% گورنمنٹ کو بطور ٹیکس ادا کرتا ہے۔ 51 سال سے اپنے پالیسی ہولڈرز کو بہترین میچورٹی اور رسک کوریج فراہم کرتے ہوۓ خدمت کررہا ہے ، اسٹیٹ لائف کے اثاثے، منافع، بونسز، کیلم کی ادائیگیوں، ورتھ اور بزنس کیپیٹل میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے، کوئی ایسا سال نہیں جس میں ادارے کا گراف پچھلے سال کی نسبت نیچے گیا ہو۔
*یہی وہ ادارہ ھے جس کے بارے میں محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر نے کہا تھا اگر یہ اسٹیٹ لائف نہ ھوتا تو پاکستان ایٹمی منصوبہ کبھی مکمل نہیں کر سکتا تھا*
خدمت اور اعتماد کے 50 سال
اسٹیٹ لائف کی بیمہ پالیسی نسل در نسل ایک تابندہ روایت۔
اسٹیٹ لائف کے پلانز و سروسز کے لیے ہمارے آفسز کوٹ غلام محمد وزٹ کریں
03419468956
03555180962
#انشورنس #بیمہ