04/08/2026
ویک اینڈ پہ میاں بیوی بچوں کو لے کر آوٹنگ پہ گئے۔ ڈنر کے بعد واپسی پہ صاحب نے بیگم صاحبہ سے کہا؛
صاحب: تمہیں اور بچوں کو ڈراپ کر کے میں ذرا دوستوں کے ساتھ چائے پی کر آتا ہوں۔
بیگم صاحبہ: دس تو بج گئے ہیں۔ اب کیا ضرورت ہے۔
صاحب: سب ابھی ہی جمع ہوئے ہیں۔ تھوڑی دیر میں آجاوں گا۔
بیگم صاحبہ: ضروری ہے ہر ہفتے جانا۔
صاحب: پچھلے ہفتے کہاں گیا تھا۔ تمہارے بھتیجے کا عقیقہ تھا۔
بیگم صاحبہ: توبہ ہے میرے میکے کا آپ کو بڑا یاد رہتا ہے۔ مجھے معلوم ہے میرے گھر والوں سے ملنا آپ کو بہت کھلتا ہے۔ کیسے طعنہ دیا فورا۔ اپنے گھر والوں کا ہوتا تو کبھی بھی نہ جتاتے۔
صاحب: خدا کو مانو بیگم۔ میں کہاں جتا رہا ہوں۔ صرف کہہ رہا ہوں کہ پچھلے ہفتے نہیں گیا تھا دوستوں میں۔
بیگم صاحبہ: میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ آپ میرے گھروالوں سے خار کھاتے ہیں۔ ہمارے ولیمے میں بھی آپ نے میرے بڑے تایا کے منجھلے داماد سے ہاتھ نہیں ملایا۔ ہماری شادی کی مووی میں صاف نظر آرہا ہے۔
صاحب: اف حد ہوگئ ہے۔ نو سال ہوگئے ہیں ہماری شادی کو۔ جب بھی لڑائ ہوتی ہے بڑے تایا کے منجھلے داماد صاحب کا طعنہ ضرور ملتا ہے۔ ہزار بار کہہ چکا ہوں میں نے دیکھا ہی نہیں تھا۔
بیگم صاحبہ: جی جی میرے گھر والے کیوں دکھیں گے۔ ہاں اپنے گھر والے تو فورا نظر آجاتے ہیں۔ ولیمے والے روز دولہا بنے اپنے بھانجے کی ناک صاف کر رہے تھے۔ اس کی بہتی ناک نظر آگئ میرے بڑے تایا کے منجھلے داماد نظر نہیں آئے۔
صاحب: بیگم اللہ کا واسطہ ہے میرے دوستوں کے ساتھ باہر جانے کا تمہارے بڑے تایا کے منجھلے داماد سے کیا تعلق ہے۔
بیگم صاحبہ: اچھا یہ بتائیں کہ آپ اپنے دوستوں میں جانے کے لیے اتنے مچلے کیوں جاتے ہیں۔ کیا باتیں کرتے ہیں۔
صاحب: بھئ ہماری اپنی باتیں ہوتی ہیں۔ ہم مزاج دوستوں میں انسان جا کر فریش ہوجاتا ہے۔ ہم سیاسی بحث کرتے ہیں۔ حالات حاضرہ پہ ڈسکشن ہوتی ہے۔ کچھ ہنسی مذاق چلتا ہے۔
بیگم صاحبہ: تو یہ سب باتیں مجھ سے کرلیا کریں۔
صاحب: تم سے؟؟؟؟ تمہیں یہ بھی پتا ہے کہ وزیر دفاع کون ہے؟؟؟؟
بیگم صاحبہ: جی پتا ہے۔ فردوس عاشق اعوان۔ اس دن ٹی وی پہ آئ تھیں۔ بڑا پیارا گلابی سوٹ پہنا تھا۔ دوپٹے پہ کروشییے کی بیل بنی تھی اس پہ موتی ٹکے تھے۔ دوسرا مجھے لگا کہ صحت کے حساب سے انہیں وزیر دفاع ہی ہونا چاہیے۔
صاحب: اف فردوس عاشق اعوان وزیر نہیں مشیر ہیں۔ اور وزیر دفاع کو بارڈر پہ کشتی نہیں کرنی ہوتی۔
بیگم صاحبہ: اچھا تو وزیر اور مشیر میں فرق ہوتا ہے۔ چلیں چھوڑیں یہ بتائیں کہ کیا آپ کے سارے دوست شادی شدہ ہیں؟؟؟
صاحب: ہاں مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو؟؟؟
بیگم صاحبہ: اس لیے کہ ان کی بیگمات ان کو منع نہیں کرتیں دوستوں میں فضول وقت ضائع کرنے سے۔ دوسرا یہ کہ میری کزن کے لیے رشتہ بھی دیکھنا ہے۔
صاحب: نہیں سب شادی شدہ ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ سب اس وقت دوستوں میں وقت گزارنے کے لیے اپنی بیگمات سے مغزپچی کر رہے ہونگے۔
بیگم صاحبہ: یہ نہیں کہ گھر جا کر آرام سے سوجائیں۔ پھر کہتے ہیں کہ میری نیند پوری نہیں ہوتی۔
صاحب: کل کونسا آفس ہے۔ صبح دیر سے اٹھوں گا۔ تم چلو اترو گاڑی سے۔ بچوں کو لے کر اندر جاو۔ میں تھوڑی دیر تک آجاوں گا۔ تم سو جانا۔ اور بار بار مجھے فون اور میسیج مت کرنا۔
بیگم صاحبہ: جائیں۔ آپ نے کون سا کبھی میری سنی ہے۔ اپنی ہی چلاتے ہیں۔ مجھے ولیمے والے دن ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ آپ اپنی مرضی کرنے والے ہیں۔ میں سیدھی سادی، کم گو مل گئ ہوں اس لیے آپ کو من مانی کرنے کا موقع مل گیا ہے۔
صاحب: اللہ حافظ۔