09/08/2026
مسئلہ تجاوزات نہیں بلکہ مفت چائے اور ناشتے کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر سندھ پولیس کی دن دیہاڑے غنڈہ گردی،
راؤ انوار کی فکری اولادیں آج بھی سرگرمِ عمل، قوم پرست جماعتوں کی مجرمانہ خاموشی، ہم کس نام نہاد آزادی میں جی رہے ہیں؟
"وہ ایس ایچ او SHO جو مفت چائے اور ناشتہ نہ ملنے پر ڈنڈا اٹھا کر غریب پشتون ہوٹل مالک کو مار مار رہا ہے اسی ایس ایچ او SHO نے ہاتھ پر پٹیاں باندھ کر ڈرامہ رچانا شروع کیا کہ مجھے ہوٹل مالک نے مارا۔
مگر آپ دیکھیں واضح معلوم ہورہا ہے کہ ڈنڈا کس کے ہاتھوں میں، کس کو مار رہا ہے اور کون مارا جا رہا ہے؟"
پنجابی استعماری میڈیا نے ڈرامہ رچانا شروع کیا ہے کہ ہوٹل مالک نے ایس ایچ او SHO کو مارا ہے۔
ویڈیو میں اور تصاویر میں آپ واضح دیکھ سکتے ہو کہ راؤ انوار کا ناجائز اولاد ایس ایچ او SHO ہوٹل کے مالک کو مار رہا ہے۔
کراچی میں پشتونوں پر مظالم اور سندھ پولیس کی غنڈہ گردی تجاوزات کا بہانہ، بھتہ خوری کا نشانہ
کراچی شہر میں پشتونوں کے ساتھ ہونے والا امتیازی سلوک اور ظلم اب حد سے تجاوز کر چکا ہے۔ ناگن چورنگی کے قریب رات کے اندھیرے (تین بجے) پشتون ہوٹل پر کی جانے والی ظالمانہ کارروائی نے ضلعی انتظامیہ اور سندھ پولیس کے اصل چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
یہ کوئی "تجاوزات کے خلاف مہم" نہیں، بلکہ سراسر نسلی تعصب، پشتون دشمنی اور مفت خوری کا شاخسانہ ہے۔
اصل قصہ تجاوزات کا نہیں، بلکہ پولیس اہلکاروں کی طرف سے مفت چائے، ناشتے اور ناجائز بھتہ خوری کے مطالبات کا ہے، جنہیں پورا نہ کرنے پر غریب محنت کشوں کو اس بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اگر ضلعی انتظامیہ کو واقعی تجاوزات کا درد ہے، تو ایدھی سینٹر سے لے کر ناگن چورنگی تک پھیلی ہوئی ہزاروں دکانیں اور تجاوزات انہیں کیوں نظر نہیں آتیں؟
کیا قانون صرف پشتون ہوٹل والوں کے لیے ہے؟ پورے کراچی میں تجاوزات کی بھرمار ہے، لیکن قانون کا کوڑا صرف پشتونوں پر ہی کیوں برسایا جاتا ہے؟
یہ کارروائی واضح طور پر ایک مخصوص طبقے کو معاشی طور پر مفلوج کرنے اور کاروبار سے محروم کرنے کی منظم سازش ہے۔
میڈیا کا ایک مخصوص حصہ ہمیشہ کی طرح یہاں بھی جھوٹا پروپیگینڈا کر رہا ہے کہ
"ایس ایچ او SHO پر تشدد ہوا"۔
لیکن وائرل ہونے والی ان تصاویر اور ویڈیوز میں سچائی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ تشدد کا نشانہ کون بن رہا ہے اور لاٹھیاں برسا کر وحشیانہ ظلم کون کر رہا ہے۔ قانون کے محافظ خود قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔
ہم کس نام نہاد آزادی میں سانس لے رہے ہیں؟
بھٹو کی سیاست اور راؤ انوار کے نقشِ قدم پر چلنے والے یہ عناصر، حکومت کی مکمل سرپرستی میں کراچی کے امن کو غارت کر رہے ہیں اور محنت کشوں کا خون بہا رہے ہیں۔
افسوس کا مقام تو ان پشتون قوم پرست پارٹیوں پر ہے جو اس ظلم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں اور اپنے بھائیوں پر ہونے والے مظالم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
Entertainment khan