23/06/2026
زم زم کا پانی کھڑے ہو کر پینے کا رواج
آج کل چونکہ حاجیوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے، اس لیے اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جب لوگوں کو آبِ زم زم کا گلاس یا پیالہ دیا جاتا ہے تو وہ باقاعدہ کھڑے ہو کر، قبلہ رُخ ہو کر اور جوتے اتار کر پانی پیتے ہیں۔ یہ طریقہ درست نہیں۔
مفتیِ اعظم پاکستان مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ فرماتے ہیں کہ اگر اس طریقے کو سنت اور باعثِ ثواب سمجھ کر اختیار کیا جائے تو یہ بدعت ہے۔ ظاہر ہے کہ عام لوگ اسے ثواب سمجھ کر ہی کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ عام پانی اور آبِ زم زم پینے کے آداب میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔ فقہائے احناف فرماتے ہیں کہ عام پانی کھڑے ہو کر پینا مکروہِ تنزیہی ہے، جبکہ آبِ زم زم کھڑے ہو کر پینا جائز ہے۔ البتہ اس سے آگے بڑھ کر غیر ثابت امور کا التزام کرنا، مثلاً جوتے اتارنا، قبلہ رُخ ہونا یا لازمی طور پر کھڑے ہو کر پینا، عوام اور بعض پڑھے لکھے لوگوں کی غلط فہمی ہے۔
نبی کریم ﷺ سے آبِ زم زم کا کھڑے ہو کر پینا ثابت ہے، لیکن علماء نے اس کی وجہ عذر، مجبوری یا خاص موقع کو قرار دیا ہے، نہ کہ اسے مستقل سنت اور لازمی طریقہ بتایا ہے۔
البتہ آبِ زم زم کی برکات، فضائل اور فوائد اپنی جگہ مسلم اور ثابت ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔
نجم الرحمن بونیری