10/07/2026
بی اے میں سماجیات ، اخلاقیات اور ان جیسے مضامین رکھ کر بمشکل تھرڈ ڈیویژن میں پاس ہو کر فیس بک پر گریڈ 18 کے خود ساختہ دانشور لگ جانے والوں نے کرپٹو کرنسی کی حلت و حرمت پر "اپنی رائے" دے رکھی ہے اور یہ بتا رہے کہ اس کے مال ہونے یا نہ ہونے کا تعلق جواز و عدم جواز سے نہیں ہے، کچھ نابغوں کا کہنا ہے کہ مفتی تقی عثمانی صاحب کو فنانس، بلاک چین یا فن ٹیک کی معلومات ہی نہیں ہیں۔ ایسے نابغوں سے عرض ہے کہ ان کا علمی مقام فنانس کے شعبے میں دنیا کے ٹاپ ریسرچرز بتائیں گے نہ کہ آپ جیسے نان ٹیکنیکل اور فارغ لوگ۔ جائیے گوگل اسکالر، ویب آف سائنس, جے اسٹور وغیرہ پر، دنیا کے ٹاپ فنانس ریسرچرز کے علمی مقالے کھنگالیے، ایمپیکٹ فیکٹرز دیکھیے اور ان میں مفتی تقی عثمانی صاحب کا علمی مقام دیکھ لیجے، لیکن چھوڑیے یہ آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔
اور سنیے! آپ کو تو صرف کرپٹو کرنسی سے مسئلہ ہے، میں تو آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ
کنونشنل ہیجنگ
پروپ فنڈنگ
آپشن ٹریڈنگ
بائنری ٹریڈنگ
فیوچر کانٹریکٹس
فارورڈ کانٹریکٹس
سوپیپس
اور اس کے علاوہ بھی بہت ساری فنانشل ٹرانزیکشنز حرام ہیں۔
ابھی کچھ دن پہلے چائنہ نے پیپر گولڈ ٹریڈنگ پر پابندی عائد کردی لیکن فیس بکی دانشوروں نے اس پر کوئی پوسٹ نہیں کی کیونکہ ان کو معلوم ہی نہیں تھا کہ پیپر گولڈ دراصل ہوتا کیا ہے اور یہ دنیا کا کتنا بڑا فنانشل انسٹرومنٹ ہے، کسی نے پوسٹ نہیں کہ کہ "مولوی چائنا نے یہ کیوں حرام کردیا؟ یہ تو مستقبل کی کرنسی ہے"، خیر معلوم تو شاید آپ کو کرپٹو کا بھی نہیں ورنہ یہ کہنا کہ اس کی حلت و حرمت شریعت کے فریم ورک سے باہر ہے، مضحکہ خیز ہے۔
پھر اس پر عجیب تر بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ کرپٹو فیوچر کی کرنسی ہے اور یہ پیپر کرنسی کو اوور ٹیک کرلے گی۔ میں اپنی تحقیق کی بنیاد پر اس دعوے کو چیلنج کرسکتا ہوں کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ کرپٹو صد فیصد پیپر کرنسی کو اوور ٹیک کرلے اور میرے پاس اس کے حوالے سے تکنیکی دلائل ہیں الحمد للہ، بہت سے لوگ تو شاید یہ بھی نہ ثابت کر پائیں کہ کرپٹو کرنسی ہے یا کموڈٹی؟
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ علماء نے شروع میں پیپر کرنسی کو بھی حرام کہا تھا جو بعد میں حلال ہوگئی اب کرپٹو کو بھی حرام کہہ رہے ہیں جو بعد میں حلال کردی جائے گی تو یاد رکھیے کہ حلت و حرمت کا فتوی علت پر دیا جاتا ہے، جب تک حرمت کی علت موجود ہوگی تب تک حرمت ہوگی اور جب علت مفقود ہوجائے گی تو حرمت کا فتوی بھی اٹھا لیا جائے گا، میری بہرحال اپنی ذاتی رائے فیاٹ کرنسی کے حوالے سے یہی ہے کہ میں اس کے حق میں ابھی تک نہیں ہوں اگرچہ استعمال مجبوری ہے لیکن مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ شاید اگلے کچھ سالوں میں کرپٹو سے بھی حرمت کی علت ختم ہوجائے اور اس پر جواز کا فتوی آجائے لیکن تب تک کیلیے فی الحال اس کو جائز قرار دینے میں مجھے بھی ذاتی طور پر تامل ہے۔
یہ ایک خالصتا علمی اور تکنیکی موضوع ہے، یہ آپ کے بس سے باہر کی بات ہے جب تک آپ کی کوئی انٹرنیشنل پبلیکیشن اس بابت موجود نہ ہو، لہذا آپ سماجی مسائل پر لکھیے اور اسی پر داد بٹوریے، فنانس اور معاشیات اور پھر اس میں بھی وہ موضوع جو خالصتا فقہ اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں ان موضوعات کو انہی لوگوں کیلیے چھوڑ دیجیے جو اس میں ماہر ہیں۔
والسلام