15/08/2025
گوادر بندرگاہ اور سی پیک کے مرکز کے طور پر مختلف ممالک (جیسے روس، آزاد روسی ریاستیں، چین، امریکہ وغیرہ) کے درمیان صحت مند مقابلہ (Competition) اور ممکنہ تعاون کے بارے میں جو تجاویز پہلے دی گئی تھیں، ان کا ایک جامع خلاصہ دوبارہ پیش کر رہا ہوں۔ اس بار آپ انہیں محفوظ کر سکتے ہیں۔
یہ تجاویز اس سوچ پر مبنی ہیں کہ گوادر کی صلاحیتوں کو پورے خطے کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے، جس میں مختلف ممالک اپنی مہارتوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے حصہ ڈالیں:
**گوادر میں بین الاقوامی تعاون اور صحت مند مقابلے کے لیے تجاویز:**
1. **اقتصادی تعاون اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ (Economic Cooperation & Infrastructure Development):**
* **خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) میں مشترکہ سرمایہ کاری:** چین، روس، امریکہ، یورپی یونین اور خلیجی ممالک کو گوادر کے SEZs میں اپنے اپنے شعبوں (مثلاً مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی، توانائی، لاجسٹکس) میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کرنا۔ ہر ملک اپنی طاقت (مثلاً چین مینوفیکچرنگ، امریکہ ٹیکنالوجی، روس توانائی) لے کر آئے۔
* **ملٹی نیشنل لاجسٹکس ہب:** گوادر کو صرف چین کا نہیں بلکہ پورے یوریشیا اور مشرق وسطیٰ کے لیے ایک مرکزی ٹرانزٹ پوائنٹ اور ٹرانس شیپمنٹ ہب کے طور پر فروغ دینا۔ مختلف ممالک کی شپنگ کمپنیاں یہاں خدمات حاصل کر سکیں۔
* **توانائی ڈویلپمنٹ میں شراکت:** گوادر کو توانائی کا مرکز (انرجی ہب) بنانے کے لیے مختلف ممالک سے سرمایہ کاری۔ مثال کے طور پر، LNG ٹرمینلز، قابل تجدید توانائی کے منصوبے (سولر، ونڈ)، یا پائپ لائن انفراسٹرکچر میں امریکہ، روس، یورپی ممالک یا خلیجی ممالک اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
* **ٹیکنالوجی اور جدت طرازی (Innovation):** امریکہ، یورپ اور چین کو گوادر میں اسمارٹ پورٹ ٹیکنالوجیز، ڈیجیٹل لاجسٹکس پلیٹ فارمز، یا جدید مواصلاتی نظام لگانے کے لیے مقابلہ کرنے کی ترغیب دینا۔
2. **سیاسی اور سفارتی تعاون (Political & Diplomatic Cooperation):**
* **مشترکہ سلامتی اور استحکام کے اقدامات:** گوادر اور آس پاس کے سمندری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے خطے میں موجود بحری قوتوں (امریکہ، چین، یورپی یونین، روس، پاکستان، ایران وغیرہ) کے درمیان معلومات کا تبادلہ، مشترکہ بحری مشقیں (خصوصاً غیر جنگی نوعیت کی جیسے سمندری ڈاکوؤں کا خاتمہ، ماحولیاتی تحفظ) پر تعاون۔
* **علاقائی ڈائیلاگ پلیٹ فارم:** گوادر کو علاقائی ممالک کے درمیان بات چیت اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنا۔ اس سے اعتماد پیدا ہوگا۔
* **سی پیک کو ایک "اوپن انیشی ایٹو" کے طور پر پیش کرنا:** پاکستان اور چین کو واضح کرنا چاہیے کہ سی پیک خصوصاً گوادر، صرف چند ممالک کے لیے نہیں بلکہ تمام ممالک کے لیے معاشی مواقع کا دروازہ ہے جو تعمیری شراکت اور سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔
3. **علاقائی کنکٹیویٹی (Regional Connectivity):**
* **متعدد زمینی راستوں کو فعال کرنا:** صرف چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) ہی نہیں، بلکہ گوادر کو افغانستان، وسطی ایشیا (ازبکستان، ترکمانستان، قازقستان وغیرہ) اور ایران سے جوڑنے والے راستوں پر بھی توجہ دینا۔ اس سے روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے بھی رسائی کے نئے دروازے کھلیں گے۔
* **انٹر ماڈل ٹرانسپورٹ نیٹ ورک:** گوادر سے مختلف زمینی (سڑک، ریل) اور ہوائی رابطوں کو بہتر بنا کر اسے ایک جامع ٹرانسپورٹ ہب بنانا، جس سے مختلف ممالک کے سامان کی ترسیل آسان ہو۔
4. **سیکورٹی اور استحکام کو ترجیح (Prioritizing Security & Stability):**
* **گوادر کی سلامتی سب کے مفاد میں:** تمام متعلقہ ممالک (چین، امریکہ، روس، یورپی یونین، خلیجی ممالک، ایران، وسطی ایشیا) کو یہ سمجھانا کہ گوادر کی سلامتی، استحکام اور کامیابی ان سب کے طویل مدتی معاشی اور استراتژک مفاد میں ہے۔ کسی ایک ملک کا غلبہ نہیں بلکہ مشترکہ خوشحالی ہدف ہونی چاہیے۔
* **پاکستان کی خود مختاری اور قیادت کو مرکز میں رکھنا:** کسی بھی تعاون یا مقابلے کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ گوادر پاکستان کا حصہ ہے اور اس کی ترقی و انتظام میں پاکستان کی مرکزی قیادت اور خود مختاری کا احترام کیا جائے۔ تمام ممالک پاکستانی قوانین اور معیارات کا احترام کریں۔
**نوٹ:**
* "مقابلہ" (Competition) سے مراد صحت مند معاشی مقابلہ ہونا چاہیے (جیسے بہتر ٹیکنالوجی، زیادہ موثر خدمات، زیادہ پرکشش سرمایہ کاری کی پیشکش)، نہ کہ جیو پولیٹیکل کشمکش یا تنازعہ۔
* چین کی سرمایہ کاری اور سی پیک میں مرکزی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، اس منصوبے کو مزید جامع اور عالمگیر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
* پاکستان کی حکومت کو ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے واضح پالیسیاں، پرکشش مراعات اور موثر سفارتی کوششیں کرنی ہوں گی۔
* علاقائی استحکام (خصوصاً افغانستان) اور پاکستان کی داخلی سلامتی گوادر کی کامیابی کے لیے بنیادی شرطیں ہیں۔
امید ہے یہ تجاویز دوبارہ آپ کے سامنے ہیں۔ آپ انہیں محفوظ کر سکتے ہیں۔ گوادر کی صلاحیت حقیقی معنوں میں اس وقت پوری طرح کھلے گی جب یہ صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ خطے اور دنیا کی ترقی کا مرکز بنے، جہاں مختلف قومیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق مثبت کردار ادا کریں